سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

موضع الأصبعین

موضع الاصبعین ضریح مطہر امیر‌المومنین علیہ‌السلام پر ایک تاریخی نشانی اور کرامت کی روایت

«موضع الأصبعین» یعنی دو انگلیوں کی جگہ۔ یہ نجف اشرف میں امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی ضریح مطہر کے صندوق خاتم پر موجود معروف نشانیوں میں سے ایک ہے۔ تاریخی منابع میں ایک روایت کے مطابق اس کا تعلق مُرّة بن قیس کی ہلاکت کے واقعے اور امیر‌المومنین علیہ‌السلام سے منسوب ایک کرامت سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ یادگار صدیوں سے شیعوں کی تاریخی روایات اور زیارتی عقائد میں ایک خاص مقام حاصل کر چکی ہے۔

«موضع الأصبعین» واقعہ کی وضاحت

اس واقعے کا مرکزی کردار اموی اور ناصبی شخص مُرّة بن قیس تھا۔ وه چوتھی صدی ہجری میں زندگی گزارتا تھا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ نجف اشرف پر حملہ کیا۔ اس زمانے میں نجف ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کے چاروں طرف فصیل تھی۔ وہ نبش قبر کرنا چاہتا  تھا۔ لیکن وہ اس کوشش میں ہلاک ہو گیا، خدا اس پر لعنت کرے۔

میرزا حسین نوری نے روایت کی ہے:

مُرّہ بن قیس ایک کافر اور مال دار شخص تھا، جس کے پاس بہت زیادہ مال و دولت اور بے شمار خدم و حشم تھے۔ ایک دن اس نے اپنی قوم کے سرداروں سے مشورہ کیا۔ انہوں نے اس سے کہا کہ ہم علی بن ابی طالب علیہما السلام انتقام لینے والے ہیں۔ اس نے پوچھا کہ ان کی قبر کہاں ہے؟ اس کی نجف کی طرف رہنمائی کی گئی۔ مُرّہ بن قیس دو ہزار سواروں اور ہزاروں پیادوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب وہ شہر کے نواح میں پہنچا تو لوگ  اپنا دفاع کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور چھ دن تک جنگ جاری رہی۔ اس کے لشکر نے شہر کی فصیل کا ایک حصہ منہدم کر دیا، لیکن مسلمانوں نے مزاحمت جاری رکھی۔ اس کے باوجود مُرّہ بن قیس حرمِ مطہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

اس نے کہا: اے علی! آپ نے میرے آباؤ اجداد کو قتل کیا ہے!

وہ قبر مطہر کو کھودنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اسی لمحے قبر سے دو انگلیاں باہر نکلیں، جو ذوالفقار کی مانند تھیں اور وہ اس کے جسم میں پیوست ہو گئیں اور اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ اس کے جسم کے دونوں ٹکڑے اسی وقت سے ایک سیاہ پتھر میں تبدیل ہو گئے۔ اس پتھر کو شہر کے دروازے کے پیچھے لے جایا گیا۔ جو  کوئی بھی نجف آتا تھا، وہ  اپنے پاؤں سے اس پتھر کو ٹھوکر مارتا تھا۔ اس پتھر کی حیرت انگیز خصوصیت یہ تھی کہ کوئی جانور بھی اس سے ٹکرائے بغیر اس کے قریب سے نہیں گزرتا تھا ۔ بعد میں کچھ نادان لوگوں نے وہ پتھر مسجد کوفہ میں منتقل کر دیا تاکہ اسے معمولی قیمت پر فروخت کردیں اور دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ پتھر گھس کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔

شیعوں کی توجہ اور یادگار کی حفاظت

شیخ جعفر محبوبہ نے کتاب ’’کشکول الفتونی‘‘ میں ذکر کیا ہے:

یہ پتھر سنہ ۱۲۰۰ ھ یعنی تقریباً اٹھارہویں صدی عیسوی تک قلعے کے دروازے پر موجود تھا۔

اہل‌بیت علیہم‌السلام کے شیعوں نے صدیوں سے اس کرامت کی یادگار کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ ضریح کے صندوق کی تعمیر نو کے موقع پر سلاطین اور بادشاہوں کی جانب سے ہدیہ کئے گئے قیمتی جواہرات اس مقام کے گرد نصب کئے گئے۔

سید احمد حسینی نے میرزا محمد تقی شمس آبادی اصفہانی الماسی (متوفیٰ ۱۱۵۹ ھ) کے حالات زندگی میں لکھا ہے:

یہ مقام ’’الماسی‘‘ کے نام سے مشہور ہوا، کیونکہ ان کے والد میرزا کاظم نے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ضریح  میں دو انگلیوں کی جگہ (یعنی موضع الأصبعین) پر ہیرے نصب کئے تھے، جن کی مالیت سات ہزار تومان تھی۔

«موضع الأصبعین» کی خصوصیات

شیخ محمد حسن جواہری اپنے فقہی دائرۃ المعارف «جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام» میں کتاب النکاح کے بابِ لعان کے ضمن میں لکھتے ہیں:

لعان کے معاملے میں( جو نکاح اور ازدواج سے متعلق فقہی مسائل میں سے ایک ہے) خداوند متعال کے ایسے ناموں کے ذریعے قسم کھا کر اس عمل کی تاکید اور سنجیدگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ جن کے معانی میں انتقام، عظمت اور ہیبت الٰہی پائی جاتی ہے۔ ایسا عمل بلند مرتبہ اور مشرف مقامات پر انجام دیا جانا چاہئے: جیسے مکہ میں رکن و مقام کے درمیان، مسجد الاقصیٰ میں چٹان، مدینہ میں قبر پیغمبر صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے نزدیک، امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے حرم میں آپ علیہ‌السلام کے سر مبارک کے قریب دو انگلیوں کے نام سے مشہور مقام پر، نیز دیگر معتبر مقامات اور مساجد میں، جیسے مسجد کوفہ، مسجد سہیل (مسجدسہلہ)، مسجد براثا اور دوسری مشہور مساجد۔

آج بھی ’’موضع الإصبعین‘‘حرم مطہر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی تاریخی اور معنوی روایات کا ایک حصہ ہے۔ صندوق خاتم پر موجود یہ چھوٹا سا نشان امیر‌المومنین علیہ‌السلام سے منسوب ایک قدیم کرامت کی داستان کو زائرین کی یادوں اور نجف کی زبانی تاریخ میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

اس سلسلۂ مضامین کی گزشتہ کڑی میں «گنبد و ایوان سے سنہرے دروازوں تک: حرم مطہر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے فن تعمیر کا ایک دلکش جائزہ» کا تعارف پیش کیا گیا تھا۔

حوالہ
کتاب «تاریخ المرقد العلوی المطهر» سے اقتباس

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے