سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین علیہ‌السلام کے ضریح کی تاریخ

ضریح مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام: ہنر کے آئینے میں تاریخ کے نقوش

حرم مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ضریح مقدس مبارک مختلف صدیوں کے دوران کئی مرتبہ تعمیر نو اور تزئین و آرائش کے مراحل سے گزری ہے۔ ہر دور میں اس نے اسلامی فن اور فن تعمیر کے ایک نئے جلوے کو نمایاں کیا۔ سونے اور چاندی کی نفیس تزئین، سنہرے تاج اور فنکارانہ جالیوں سے آراستہ یہ ضریح مقدس اپنی تاریخی اور فنی قدر و منزلت کے علاوہ تاریخی متون اور روایات میں بھی ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

ضریح مقدس کی تاریخ

امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی ضریح مقدس صدیوں کے دوران متعدد مرتبہ تعمیر نو اور مرمت کے مراحل سے گزری ہے۔ معتبر تاریخی متون کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قبر مبارک کے گرد سب سے پہلے جو ضریح مقدس نصب کی گئی۔ وہ موجودہ عمارت کی تعمیر کے ساتھ ہی، ۱۰۲۳ ہجری‌قمری (۱۶۱۴ء) میں، صفوی بادشاہ شاہ عباس اول کے دور میں نصب ہوی تھی۔

سید عبداللہ صادقی اس بارے میں لکھتے ہیں:

قبر منور پر ایک مزین اور آراستہ صندوق رکھا گیا اور اس کے گرد سونے سے آراستہ فولاد کی ایک ضریح مقدس نصب کی گئی۔

 کرامات اور روایات

اس ضریح مقدس، جسے شِبّاک بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ذکر ایک کرامت کے ضمن میں ملتا ہے، جسے علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار میں نقل کیا ہے:

یہ کرامت ۱۲ رمضان ۱۰۷۲ ہجری قمری (۱۶۶۲ء) کی رات حرم مقدس کی برکت سے ایک مفلوج اور چلنے پھرنے سے عاجز بوڑھی عورت کے شفایاب ہونے کا واقعہ ہے۔ شیخ یوسف حصری نے اس حیرت انگیز واقعے کو ’’ایک ارجوزہ‘‘ کے عنوان سے روایتی انداز کی منظوم اور قصیدہ نما نظم، کی صورت میں لکھ کر محفوظ کیا ہے۔

دوسری لوہے کی ضریح مقدس ۱۱۱۲ ہجری‌قمری (۱۷۰۰ء) میں، صفوی بادشاہ شاہ حسین اول کے دور حکومت میں نصب کی گئی۔ ڈاکٹر عبدالہادی عباس ابراہیمی نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حرم مقدس کے گوداموں میں اس ضریح مقدس کے بعض حصے دیکھے تھے، جن پر یہی تاریخ درج تھی۔

شاہ حسین نے اس ضریح مقدس کے ساتھ سونے کے چار ’’رمانے‘‘ بھی ہدیہ کیے، جو آرائشی گویوں یا گولوں کی شکل میں تھے۔ ضریح مقدس کے چاروں کونوں پر نصب کیے گئے تھے۔ فن کاری کے اعتبار سے یہ ’’رمانے‘‘ نہایت خوب صورت اور دل کش تھے۔ انہیں سبز زمرد، سرخ یاقوت اور قدرتی موتیوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ ان پر بارہ ائمہ علیہم‌السلام کے نام تحریر تھے۔ چوتھے رمانے پر ان کی تیاری کی تاریخ، یعنی ۱۱۱۲ ہجری‌قمری، درج کی گئی تھی۔ ان میں سے ہر رمانے کی بنیاد پر خط ثلث میں عربی زبان کے دو اشعار بھی لکھے گئے تھے۔

شیخ جعفر نقدی نے ذکر کیا ہے:

سلطان نادر شاہ نے ۱۱۵۶ ہجری‌قمری (۱۷۴۳ء) میں نجف اشرف میں اپنی آمد کے موقع پر قبر شریف پر فولاد کا ایک صندوق نصب کیا تھا۔

اسی طرح براقی نے شیخ محمد کُبّہ کے حوالے سے نقل کیا ہے:

۱۲۰۲ ہجری‌قمری (۱۷۸۷ء) میں پہلی مرتبہ مرقد مطہر پر چاندی کی ضریح مقدس نصب کی گئی، ۱۲۰۴ ہجری قمری میں سلسلہ قاجاریہ کے بانی آغا محمد خان قاجار کے حکم سے اس ضریح مقدس کی تجدید اور مرمت کی گئی۔

شیخ محبوبہ نے بھی کتاب المنتظم الناصری سے ۱۲۱۱ ہجری‌قمری کے واقعات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

سلطان محمد خان قاجار نے جلیل القدر فقیہ آغا محمد علی ہزارجریبی کے ہمراہ مرقد مطہر پر چاندی کی ایک نئی ضریح مقدس ہدیہ کی۔ (جلد ۳، صفحہ ۶۳)

شیخ خضر (متوفی ۱۳۰۵ہجری‌قمری) کے ایک قلمی مجموعے کے حوالے سے مورخ محمد کوفی نے لکھا ہے:

سابقہ ضریح مقدس خستہ حالی اور کمزوری کے باعث ۱۲۶۲ ہجری‌قمری (۱۸۴۵ء) میں ہٹا دی گئی اور اس کی جگہ زیادہ چاندی سے تیار کردہ نئی ضریح مقدس نصب کی گئی۔

اسی طرح براقی نے شیخ محمد کتبہ کے حوالے سے نقل کیا ہے:

۱۲۶۲ ہجری قمری میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مرقد پر چاندی کی ضریح مقدس، معتمد، یعنی محمد شاہ بن عباس میرزا بن فتح علی شاہ کے وزیر، کے حکم سے دوبارہ تیار کی گئی۔

چاندی کی ضریح مقدس پر فارسی کتیبے

آخری چاندی کی ضریح مقدس ایران میں تیار  کی گئی اور اس کے اخراجات مشیر، سید احمد شیرازی نے برداشت کیے۔ یہ ضریح مقدس ناصرالدین شاہ قاجار کے دور حکومت میں جمعرات، یکم رمضان ۱۲۹۸ہجری‌قمری (۱۸۸۱ء) کو نصب کی گئی۔

ڈاکٹر عبدالہادی عباس ابراہیمی نے اس ضریح مقدس کے بعض حصے حرم مقدس کے گوداموں میں دیکھے تھے۔ اس کے دروازے کے اوپری حصے پر عربی زبان میں یہ عبارت درج تھی:

اس کار خیر کے بانی اور خرچ کرنے والے مشیر شیرازی ہیں۔ سنہ ۱۲۹۸۔

اسی طرح دروازے کے دو حصوں پر فارسی زبان میں دو تاریخی کتیبے بھی کندہ تھے۔

پہلا حصہ:

برحسب فرمان جناب سلالہ الساده الکرام، امیرالامراء العظام، حاجی مرزا ابوالحسن مشیرالملک شیرازی، به پایان رسید۔ ۱۲۹۸۔

ترجمہ: جناب حاج میرزا ابوالحسن مشیرالملک شیرازی کے حکم کے مطابق یہ کام ۱۲۹۸ ہجری قمری میں مکمل ہوا۔

دوسرا حصہ:

در زمان جناب سلاله الانجاب، آقا سید جواد رفیعی‌خان، این آستان به کوشش و همت جناب حاجی محمدابراهیم کارزانی به پایان رسید۔ ۱۲۹۸۔

ترجمہ: سید جواد رفیعی خان کے دور میں اس حرم مقدس کا یہ حصہ الحاج محمد ابراہیم کارزانی کی کوششوں اور محنت سے ۱۲۹۸ ہجری قمری میں مکمل ہوا۔

آخر میں اس قیمتی ضریح مقدس کے بنانے والے فنکار کا نام بھی درج کیا گیا تھا۔ اس کے دروازے پر یہ عبارت تحریر تھی:

حاجی کاظم بن حاجی والی کے ہاتھوں تیار کردہ۔

شیخ جعفر محبوبہ نے ذکر کیا ہے:

ضریح مقدس کے چاروں کونوں پر خالص سونے کے ’’رمانے‘‘ نصب تھے اور اس کے کناروں پر قرآن مجید کی بعض آیات اور مقدس نام کندہ کیے گئے تھے۔

موجودہ ضریح مقدس کی تیاری اور تنصیب

امیر‌المومنین حضرت علی علیہ‌السلام کی قبر مبارک پر موجودہ ضریح مقدس بوہرہ فرقے کے سلطان طاہر سیف الدین نے ہدیہ کی تھی۔ جب وہ نجف اشرف کے سفر پر آئے تو انہوں نے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی مرقد مطہر کے لیے چاندی کی نئی ضریح مقدس تیار کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک انجینئر کو ضروری پیمائشیں لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ۱۳۵۴ہجری قمری (۱۹۳۶ء) میں ضریح مقدس کی تیاری کا کام شروع ہوا۔

ذی القعدہ ۱۳۶۰ ہجری‌قمری (۱۹۴۱ء) میں ضریح مقدس کے اجزا بصرہ پہنچے۔ انہیں ہندوستان کے شہر بمبئی سے بحری جہاز کے ذریعے لایا گیا تھا۔ جب ضریح مقدس کی تیاری اور چاندی کا کام مکمل ہو گیا جس میں پانچ سال سے زیادہ عرصہ لگا۔ سلطان کے مشیر سید قمرالدین بھی اس وفد کے ہمراہ تھے، تاکہ ضریح مقدس کی تنصیب کے عمل کی نگرانی کر سکیں۔

ضریح مقدس کے اجزا پر مشتمل صندوق منگل، ۲۰ ذی القعدہ کو کوفہ اور نجف کے درمیان چلنے والی ٹراموے لائن کے ذریعے نجف منتقل کیے گئے۔ اس قیمتی تحفے کے استقبال کے لیے نجف اشرف کے لوگ خوشی و مسرت کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔ ضریح مقدس کے اجزا پہنچتے ہی براہ راست حرم مقدس میں منتقل کر دیے گئے۔

پیر، ۱۳ رجب ۱۳۶۱ ہجری‌قمری (۲۷جولائی۱۹۴۲ء)، شہر نجف کے لیے ایک خاص دن تھا۔ اس روز یعسوب الدین امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی ولادت باسعادت کی خوشی کے ساتھ حرم شریف کی نئی ضریح مقدس کی رونمائی کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ اس پُروقار تقریب میں شاہی حکومت کے وزیر اعظم نوری السعید اور وزیر مواصلات و تعمیرات سید عبدالمہدی منتفکی نے شرکت کی۔

اس اہم واقعے کی مناسبت سے کئی شعرا نے تاریخی اشعار بھی کہے جن میں شیخ علی البازی بھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ضریح مقدس کی تیاری مکمل ہونے اور اس کے نجف پہنچنے کا سال، یعنی ۱۳۶۰ ہجری‌قمری، درج کیا۔

شیخ صالح قفطان نے ضریح مقدس کی تنصیب کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آیت اللہ سید محمد حسین حلی رحمۃ‌اللہ‌علیہ اس وقت موجود تھے۔

ضریح مقدس کی خصوصیات

یہ ضریح مقدس ایک بے مثال فن پارہ اور اسلامی فن کے شاہکاروں میں سے ایک ہے۔ اس کی تیاری ہندوستان کے ماہر ترین زرگروں اور ہنرمند فنکاروں کے سپرد کی گئی تھی۔ بالآخر اسے انتہائی باریک بینی، نفاست، شان و شوکت اور حسن کے ساتھ ڈیزائن کرکے تیار کیا گیا۔ اس فن پارے کو اسلامی نقش و نگار اور منفرد آرائشی ڈیزائنوں سے مزین کیا گیا ہے۔

ضریح مقدس دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہے:

۱. چاندی کی جالی دار ساخت

۲. اس کے اوپر نصب سنہرا تاج

اس ضریح مقدس کے ابعاد درج ذیل ہیں:

بلندی: ۴ میٹر

لمبائی: ۶.۳۵ میٹر

چوڑائی: ۵.۱۰ میٹر

یہ پورا ڈھانچا قیمتی سنگ مرمر کی بنیاد پر قائم ہے۔

ضریح مقدس کے سنہرے تاج کو خوب صورت اور ابھرے ہوئے حروف کی سنہری تحریروں سے مزین پٹیوں کے ذریعے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس پر فنکارانہ نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ ان میں ابھرے ہوئے انگور کے خوشے بھی شامل ہیں۔ اس کے چاروں کونوں پر سونے کے چار انار نصب ہیں۔ اس کے علاوہ اسے سنہری قندیلوں اور نیلوفر کے پھولوں سے بھی آراستہ کیا گیا ہے۔ ہر نیلوفر کے پھول کے وسط میں اللہ تعالی کے اسمائے حسنی میں سے ایک نام تحریر ہے۔

ضریح مقدس کی چاندی کی جالی دار ساخت میں ۱۸ کھڑکیاں ہیں۔ ان میں سے ایک داخلی دروازے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ یہ کھڑکیاں چاندی کے گولوں کی بافت سے بنائی گئی ہیں۔ انہیں چھوٹی چھوٹی سلاخوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑا گیا ہے۔ ہر کھڑکی کے درمیان ایسے ستون ہیں جن پر نباتاتی نقش و نگار اور انگور کے خوشے کندہ ہیں۔ ضریح مقدس کے کونوں پر واقع ستونوں کو بھی سونے اور سرخ یاقوت سے مزین کیا گیا ہے۔

اس سلسلۂ مضامین کی گزشتہ کڑی میں «گنبد و ایوان سے سنہرے دروازوں تک: حرم مطہر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے فن تعمیر کا ایک دلکش جائزہ» کا تعارف پیش کیا گیا تھا۔

ماخذ
کتاب ’’تاریخ المرقد العلوی المطهر‘‘ سے مأخوذ 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے