صحن مقدس امیرالمومنین علیہالسلام میں پانی کی فراہمی اور آب خوریوں کی تنصیب کا منصوبہ
زائرین کو ٹھنڈا پانی فراہم کرنے کے لیے صحنِ مقدس امیرالمومنین علیہالسلام میں چار بڑے واٹر کولر نصب کیے گئے۔ یہ واٹر کولر اہلِ خیر کی جانب سے مختلف مقامات پر نصب کیے گئے، جن میں ہر ایک کی گنجائش پانچ ٹن تھی۔ کچھ عرصے بعد حرم مقدس کی جانب سے پانی کو صاف، جراثیم سے پاک اور ٹھنڈا رکھنے کا ایک جامع منصوبہ قائم کیا گیا۔ اس منصوبے کے آغاز کے بعد ان واٹر کولروں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ منصوبہ پینے کے پانی کے معیار اور صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا گیا۔ اس کا مقصد صحنِ مقدس میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے خود کفالت حاصل کرنا تھا۔
پینے کا پانی صحنِ مقدس کی خدماتی سرنگ کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ پانی صحن کے چاروں کونوں میں موجود چار مقامات تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا عملی آغاز ۲۶ رجب ۱۴۳۰ھ، مطابق ۲۰۰۹ء، شب بعثت رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے موقع پر کیا گیا۔ سنہ ۱۴۳۱ھ، مطابق ۲۰۱۱ء میں حرم مقدس کے فنی عملے نے صحنِ مقدس میں سنگِ مرمر کی آب خوریاں نصب کیں۔
یہ آب خوریاں گلدان کی شکل میں بنائی گئی ہیں اور ان میں پانی کے لیے تین راستے رکھے گئے ہیں۔ ان آب خوروں کی تعداد ۲۲ ہے، جو ایوانوں کے درمیان مختلف مقامات پر نصب کی گئی ہیں۔ اس اقدام کے بعد پانی پلانے کے لیے استعمال ہونے والے پرانے پلاسٹک کے ٹینک ہٹا دیے گئے۔ یہ آب خوریاں ترکی میں مقیم ایک عراقی شخص نے حرم مقدس کو ہدیہ کی تھیں۔ وہ شخص سنگ مرمر کی ایک کان کا مالک تھا۔
صحن مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی خدماتی سرنگ کا منصوبہ
صحن مقدس کی خدماتی سرنگ کا کام ذی الحجہ ۱۴۲۸ھ، مطابق ۲۰۰۷ء، میں شروع کیا گیا۔ یہ سرنگ صحن کے مختلف حصوں پر محیط ہے اور اس کی چوڑائی ۷۰ سینٹی میٹر ہے۔ اس سرنگ کے ذریعے پانی، بجلی اور مواصلاتی نظام کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، صحن کا پانی بھی اسی سرنگ کے ذریعے کنوؤں تک پہنچایا جاتا ہے۔ متوقع دباؤ اور تعمیراتی تقاضوں کا مکمل انجینئرنگ جائزہ لیا گیا۔ منتخب سنگِ مرمر کے معیار کے مطابق مضبوط کنکریٹ کی مناسب موٹائی والی بنیاد بچھائی گئی۔
نئے سنگِ مرمر کی تنصیب ربیع الثانی ۱۴۲۹ھ، مطابق ۲۰۰۸ء، میں شروع ہوئی۔ اس سنگ مرمر کی موٹائی ۵ سینٹی میٹر تھی اور تنصیب صفر ۱۴۳۰ھ، مطابق ۲۰۰۹ء، میں مکمل ہوئی۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس منصوبے کے مالی اخراجات نجف اشرف کے ادارۂ تعمیر و ترقی اور دیوانِ وقفِ شیعی نے فراہم کیے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً ۲.۵ ارب عراقی دینار تھی۔ یہ منصوبہ متعدد ٹھیکیداروں کے ذریعے مکمل کیا گیا۔ اس دوران حرم مقدس کے فنی عملے نے انجینئرنگ نگرانی انجام دی۔
صحن مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے کمروں اور متعلقہ حصوں کی تعمیرِ نو اور بہتری
گزشتہ دورِ حکومت میں حرم مقدس اور دیگر مقدس مقامات کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اس عدم توجہی کے باعث حرم کی تاریخی عمارت کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔ ان نقصانات میں بنیادوں، دیواروں اور چھتوں میں دراڑیں پڑنا بھی شامل تھا۔ یہ دراڑیں ناقص دیکھ بھال، نمی میں اضافے اور بارش کے پانی کے نکاس کے راستے بند ہونے سے پیدا ہوئیں۔ اس کے علاوہ دیمک نما کیڑے، یعنی ارضہ، کا پھیلاؤ بھی بڑھ گیا۔ اس کے باعث حرم کی تاریخی عمارت کے بیشتر حصے کمزور ہوکر خستگی اور شکستگی کے خطرے سے دوچار ہوگئے۔
سنہ ۱۴۲۶ھ، مطابق ۲۰۰۵ء، سے حرم مقدس کی انتظامیہ نے مرمتی اور بازسازی کا کام شروع کیا۔ یہ کام حرم کے متاثرہ معماری حصوں میں فنی اور انجینئرنگ ماہرین کی نگرانی میں کئی برس جاری رہا۔
ابتدائی صفائی اور تیاری کا مرحلہ
صحنِ مقدس کے کمروں کی بہتری کے سلسلے میں حرم مقدس کے خدماتی عملے نے صفائی کا کام انجام دیا۔ انہوں نے ان کمروں کو پرندوں کی گندگی، کچرے اور ملبے سے مکمل طور پر پاک کیا۔ اس کے بعد دیواروں اور چھتوں میں موجود دراڑوں اور دیگر نقصانات کی مرمت کی گئی۔ شدید متاثرہ اور ناقابل مرمت چھتیں منہدم کرکے دوبارہ تعمیر کی گئیں۔ اسی طرح پرانے فرش بھی ہٹا دیے گئے۔ جمادی الاول ۱۴۲۷ھ، مطابق ۲۰۰۶ء، میں صحن مقدس کا پرانا فرش ہٹا کر اینٹوں سے نیا فرش تعمیر کیا گیا۔ اسی دوران بارش کے پانی کے نکاس کے راستوں، یعنی میزابوں، کی مرمت بھی کی گئی اور دیمک کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کیے گئے۔
بالائی منزل کے کمروں کی تعمیر و آرائش
بالائی منزل کے کمروں کی آخری مرمت کے دوران دیواروں پر پلستر اور بورک کی تہہ چڑھائی گئی۔ فرش مکمل کیے گئے، بجلی اور ایئر کنڈیشننگ کا نظام نصب ہوا، دروازے مرمت ہوئے اور کھڑکیاں تبدیل کی گئیں۔ پرانی کھڑکیوں کی جگہ عمدہ ساگوان کی نئی کھڑکیاں لگائی گئیں، تاہم ان کا قدیم طرز اور ڈیزائن برقرار رکھا گیا۔ ذی القعدہ ۱۴۲۷ھ، مطابق ۲۰۰۶ء، میں بالائی منزل کے کمروں کے ایوانوں میں نصب پرانی سنگِ مرمر کی جالیاں ہٹا دی گئیں۔ ان ۴۸ جالیوں کی جگہ ساگوان کی نئی جالیاں نصب کی گئیں، جن میں سنہری رنگ کے المونیم کے ٹکڑے شامل تھے۔
زیریں منزل کے کمروں کی تعمیرِ نو
صحنِ مقدس کی زیریں منزل کے کمروں کی تعمیرِ نو میں بھی تقریباً یہی طریقۂ کار اختیار کیا گیا۔ تاہم، ان کمروں کے فرش پر سبز اونیکس مرمر نصب کیا گیا۔ دیواروں کو زمین سے ۲٫۱۰ میٹر کی بلندی تک اسی سبز اونیکس مرمر سے مزین کیا گیا۔ چھتوں کو آئینہ کاری سے آراستہ کیا گیا، جبکہ کمروں کے دروازوں کی مرمت اور کھڑکیوں کی تبدیلی کا کام بھی انجام دیا گیا۔
جمادی الاول ۱۴۲۹ھ، مطابق ۲۰۰۸ء، میں ان کمروں کے ایوانوں کے فرش اور دیواروں پر تاسوس مرمر کی تنصیب کا کام شروع ہوا۔ یہ مرمر ۳ سینٹی میٹر موٹا تھا۔ اس کی تنصیب کا کام ۱۴۳۰ھ، مطابق ۲۰۰۹ء، میں مکمل ہوا۔
سنہ ۱۴۳۳ھ، مطابق ۲۰۱۲ء، میں حرم مقدس کے ماہرین نے تمام روشندانوں کی مرمت کی۔ اس کے ساتھ ہوا کے گزرنے کے راستوں، یعنی بادگیر، کی بھی مرمت اور بحالی کا کام انجام دیا گیا۔ یہ راستے زیریں اور بالائی منزل کے کمروں سے لے کر چھت تک قائم ہیں، جو کمروں میں قدرتی ہوا کی آمد و رفت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور نمی کی مقدار کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
صحن مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے سایہ بان
حرم مقدس اور جرمن کمپنی راش کے درمیان ۱۴۳۰ھ، مطابق ۲۰۰۹ء، میں ہونے والے معاہدے کے مطابق، اور نجف اشرف کی مقامی حکومت کے مالی تعاون سے، صحن مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے لیے آٹھ بڑے اور عظیم سایہ بان تیار کیے گئے۔ ان میں سے چار سایہ بان صحن کے شمالی حصے میں اور چار جنوبی حصے میں نصب کیے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ کمپنی ایسے منصوبوں میں خصوصی مہارت رکھتی ہے ۔ اس سے قبل مسجد نبوی صلیاللہعلیہوآلہ کے سایہ بان بھی اسی کمپنی نے تیار کیے تھے۔ یہ سایہ بان کھلنے کے وقت مربع شکل اختیار کرتے ہیں اور ہائیڈرولک نظام کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ ہر سایہ بان میں آٹھ متحرک دھاتی بازو موجود ہیں، جنہیں دور سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ان سایہ بانوں میں استعمال ہونے والا کپڑا خاص خصوصیات کا حامل ہے؛ یہ آگ سے محفوظ ہے اور اس پر صحن کی دیواروں کے نقش و نگار سے ہم آہنگ ڈیزائن بنائے گئے ہیں تاکہ اس مقدس مقام کے وقار اور عظمت کا خیال رکھا جا سکے۔
آٹھ ہائیڈرولک سایہ بانوں کی تنصیب
صحن مقدس کے فرش میں کھدائی کا کام مکمل ہونے کے بعد، جہاں ان سایہ بانوں کے بنیادی ستون نصب کیے جانے تھے۔ سنہ ۱۴۳۵ھ، مطابق ۲۰۱۴ء، میں حرم مقدس کے فنی اور انجینئرنگ عملے نے ان کے مضبوط کنکریٹ کے پایے تیار کیے۔ پھر پیر ۲۸ رجب ۱۴۳۶ھ، مطابق ۱۸ مئی ۲۰۱۵ء، کو جرمن کمپنی کے انجینئروں کی براہ راست نگرانی میں صحن کے شمالی حصے میں ایک سایہ بان کا پہلا ستون نصب کیا گیا۔ اس کے بعد سایہ بانوں کے بازو اور کپڑے ایک ایک کرکے نصب کیے گئے اور انہیں فعال کیا گیا۔ اس منصوبے کے آخری مرحلے میں سایہ بانوں سے متعلق تمام اضافی سہولیات، جن میں ان کا خصوصی روشنی کا نظام بھی شامل تھا، مکمل کیا گیا۔ شاعر محمد علی زہیری نے بھی ۱۴۳۶ھ میں ان سایہ بانوں کی تنصیب کو اپنے اشعار میں محفوظ کیا۔
اس سلسلۂ مضامین کی گزشتہ کڑی میں «صحن مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے فرش کی تاریخی تبدیلیاں اور مرمت کے مراحل» کا تعارف پیش کیا گیا تھا۔
ماخذ
کتاب «تاریخ المرقد العلوی المطهر» سے ماخوذ