سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

صحن مقدس کی مرمت

صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے فرش کی تاریخی تبدیلیاں اور مرمت کے مراحل

صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے فرش کی مرمت و بحالی تاریخ کے مختلف ادوار، صفوی دور سے لے کر عصر حاضر تک، ہمیشہ اس بات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کی گئی کہ موجود مقبروں، زیرِ زمین حصوں اور تاریخی ورثے کا تحفظ بھی برقرار رہے۔ ان مرمتی مراحل میں فرش کے پتھروں کی تبدیلی، زیرِ زمین حصوں کی مرمت، نظامِ آب رسانی کی اصلاح و بحالی اور اعلیٰ معیار کے سنگ مرمر کا استعمال شامل رہا ہے۔

صفوی دور میں صحن کے فرش اور زیر زمین مقابر

  • صفوی دور میں موجودہ عمارت کی تعمیر کے وقت صحنِ مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کے زیر زمین حصوں کو محفوظ رکھا گیا۔ اس دوران وہاں موجود مقبروں اور محرابوں کو بھی منہدم نہیں کیا گیا۔
  • ان مقبروں میں خاندان جلاواریہ کے سلاطین کے مقابر بھی شامل تھے۔
  • اس زمانے میں صحن کی سطح اطراف کی زمین کی نسبت قدرے نشیبی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مٹی کے جمع ہونے اور ہوا کے کٹاؤ سے اطراف کی سطح بلند ہوگئی تھی۔

عثمانی دور میں فرش کی مرمت

  • عثمانی سلطان سلیم سوم کے دور حکومت (۱۲۰۳ – ۱۲۲۲ ہجری قمری) میں ایک فرمان جاری کیا گیا۔
  • ۱۲۰۶ ہجری قمری، مطابق ۱۷۹۱ء میں بغداد کے والی نے مقبروں کو ہٹانے اور صحن کا فرش سنگ مرمر سے ڈھانپنے کا حکم دیا۔ اس اقدام کا مقصد زائرین کی آمد و رفت کو آسان بنانا تھا۔
  • تاہم شیعہ مرجع، سید محمد مہدی بحرالعلوم نے اس اقدام کی مخالفت کی۔ انہوں نے حکم دیا کہ یہ مقبرے اپنی جگہ برقرار رکھے جائیں۔
  • چنانچہ مقبروں کے درمیان چھتیں تعمیر کی گئیں اور ان کے اوپر سفید پتھر نصب کیے گئے۔
    یہ پتھر نجف کے اطراف میں واقع کانوں سے نکالے گئے تھے۔ اس منصوبے کے اخراجات میر خیراللہ ایرانی نے فراہم کیے۔

سلطان عبدالحمید دوم کے دور میں صحن حرم کے فرش کی مرمت

  • یکم شوال ۱۳۱۵ ہجری قمری، مطابق ۱۸۹۸ء کو صحنِ مقدس کے فرش کی مرمت کا کام شروع کیا گیا۔ یہ کام سلطان عبدالحمید دوم کے حکم سے انجام پایا۔
  • فرش کے پتھر اکھاڑتے وقت قدیم زیر زمین حصے اور بعض سلاطین و امراء کی قبریں بھی ظاہر ہوئیں۔
  • یہ منصوبہ ۱۰ جمادی الثانی ۱۳۱۶ ہجری قمری، مطابق ۱۸۹۸ عیسوی کو مکمل ہوا۔ اس مرمت کا ذکر علامہ سید جعفر بحرالعلوم نے تاریخی منابع میں محفوظ کیا ہے۔

صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے فرش کی مرمت کے دوران پیش آنے والے واقعات

  • شیخ محمد حسین حرزالدین، صحن مقدس کے فرش کی مرمت کے دوران سامنے آنے والی چیزوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

    «ربیع الثانی ۱۳۱۶ ہجری قمری میں سلطان عبدالحمید خان کے حکم کے مطابق مزدوروں نے نجف اشرف میں صحن کا فرش کھودنا شروع کیا، تاکہ زیرِ زمین دفن شدہ حصوں کی مرمت و بحالی کی جا سکے۔ اس دوران اموات کی حرمت اس انداز سے پامال ہوئی جسے بیان کرنا دشوار ہے۔ یہ کام نجف میں اوقاف کے نمائندے علاءالدین افندی کی نگرانی میں انجام دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں صحن کے شمال مشرقی حصے میں بڑے بڑے مقبرے ظاہر ہوئے، جو ایک ایسے زیرِ زمین حصے سے متصل تھے جو مسجد الخضراء کے نام سے معروف مسجد تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی طرح قیران کے کفشداری کے قریب، جو کربلا اور نجف کے درمیان واقع ایک گاؤں ہے، صحن کے فرش کے نیچے دو بڑے مقبرے بھی دریافت ہوئے۔ غالب امکان ہے کہ یہ نجف کے قبرستان کی حدود میں واقع تھے۔ ان مقبروں کو عمدہ نیلے رنگ کی کاشیوں سے بنایا گیا تھا، جو ٹائیلز کی مانند  اور روشن رنگوں اور خوب صورت نقوش سے مزین تھیں۔ دونوں مقبروں کے اطراف کی دیواریں پھولوں اور درختوں کے نقوش والی منقش کاشیوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ ان کے نیچے ایک نہایت وسیع زیرِ زمین حصہ موجود تھا، جسے شفاف اور قیمتی سفید پتھر سے بنایا گیا تھا۔ زیرِ زمین حصے کی سیڑھیاں بھی اسی سفید پتھر سے بنی ہوئی تھیں۔»

  • ان میں سے ایک قبر کے پتھر پر یہ عبارت درج تھی:

    «شاہ اعظم سلطان معزالدین عبدالواسع، ۳ جمادی الاولیٰ ۷۹۱ ہجری قمری کو وفات پا گئے۔»

  • دوسری قبر کے کتبے پر درج تھا:

    «۱۱ محرم، بروز بدھ، سال ۸۳۱ ہجری قمری»

  • تاہم صاحب قبر کا نام پڑھا نہیں جا سکا۔ ان قبروں کے قریب ایک اور قبر بھی ظاہر ہوئی، جس پر درج تھا:

    «یہ مرحومہ شاہزادی سلطان بایزید کی قبر ہے، طاب ثراها، جمادی الثانی ۸۰۳ ہجری قمری۔»

  • ایک اور قبر ایک ایسے بچے کی تھی جو سلطان شیخ اویس کی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ غالباً یہی وہ شخصیت ہے جس کی فارسی شاعر خواجہ حافظ کے دیوان میں اس شعر کے ذریعے مدح کی گئی ہے:

    «الحمدُ للهِ على مَعْدِلَهِ السُّلطانِ احمَدَ بنِ شَیخِ أُوَیسِ حَسَنِ ایلخانی»
    یعنی
    «سلطان احمد بن شیخ اویس حسن ایلخانی کے عدل و انصاف پر اللہ کا شکر ہے۔»

  • مزدوروں نے مجلسِ اوقاف بغداد کے حکم پر ان آثار کو منہدم کردیا۔ انہوں نے سلاطین کے ان آثار کا مناسب احترام بھی ملحوظ نہیں رکھا، حالانکہ وہ مسلمان اور اہل ایمان تھے۔
  • خداوند متعال، حرم مقدس کے خدام کے سربراہ اور ان مزدوروں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ کیونکہ اس واقعے سے پہلے اور اس کے بعد کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

حرم مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی مرمت و تعمیر و ترقی

  • ۱۳۷۰ ہجری قمری، مطابق ۱۹۵۱ء میں عراق کے وزیر اعظم نوری السعید نجف اشرف پہنچے۔
  • انہوں نے حرم مقدس اور صحن مقدس میں اصلاحات و مرمتی کاموں کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔
  • اس کمیٹی کی سربراہی نجف کے قائم مقام سید ضیاء شکّارہ اور نجف شہر کے حاکم، استاد عبدالفتاح العامری نے کی۔
  • کمیٹی کے ارکان میں حرم مقدس کے نگہبان سید عباس رفیعی اور عدالتی انتظامی کونسل کے رکن استاد رشاد عجینہ شامل تھے۔
  • اس کے علاوہ نجف کی بلدیہ کے سربراہ حاج محمد سعید شمسه، کربلا کے دیگر انتظامی حکام اور محکمۂ اوقاف کے انجینئرز بھی کمیٹی میں شامل تھے۔
  • شیخ علوم کاشف الغطاء کو بھی اس کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس بڑے منصوبے کے لیے درکار مالی وسائل عراق کی حکومت کے عمومی بجٹ سے فراہم کیے گئے۔
  • کام ماہر انجینئروں اور معماروں کی نگرانی میں جاری رہا، جن میں حاج سعید معمار بھی شامل تھے۔ اس دوران انجام پانے والے اہم کاموں میں صحنِ مقدس کے فرش کی مرمت بھی شامل تھی۔
  • اس کے علاوہ، صحن کے ایوانوں کو عراقی سنگِ مرمر سے آراستہ کیا گیا۔ یہ کام ۱۳۷۱ ہجری قمری، مطابق ۱۹۵۲ عیسوی میں مکمل ہوا۔
  • شیخ محمد حسین حرزالدین اس مرمت کے بارے میں لکھتے ہیں:

    «۱۳۷۰ ہجری قمری میں صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے جنوبی حصے کے فرش کی مرمت کی گئی اور ایوانوں کے اطراف کو سفید سنگ مرمر سے ڈھانپ دیا گیا۔ یہ کام ایک تعمیراتی منصوبے کے تحت انجام پایا، جس کے لیے عراق کی حکومت نے ۵۰۰ دینار کا بجٹ مختص کیا تھا۔»

صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے فرش اور آب رسانی کے نظام کی مرمت

  • ۱۴۰۱ ہجری قمری، مطابق ۱۹۸۱ عیسوی میں صحن کا فرش سنگِ مرمر سے ڈھانپ دیا گیا۔
  • وقت گزرنے کے ساتھ اس سنگِ مرمر کو اپنی قدامت اور تعمیر کے کم معیار کے باعث دراڑیں پڑنے لگیں اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔
  • اس کے علاوہ فرش میں جگہ جگہ دھنساؤ بھی پیدا ہوگیا، جس کی وجہ فرش کے نیچے موجود زیر زمین حصے اور خالی جگہیں تھیں۔
  • اسی وجہ سے حرم مقدس کی انتظامیہ نے ان نقصانات کی مرمت اور صحن کے فرش کو یونانی سفید سنگ مرمر، جسے تاسوس کہا جاتا ہے، سے دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
  • یہ سنگ مرمر انتہائی اعلیٰ معیار کا حامل ہے۔
  • اس کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ اس کا درجۂ حرارت ماحول کے درجۂ حرارت سے تقریباً ۱۴ ڈگری سینٹی گریڈ کم رہتا ہے۔
  • یہ خصوصیت نجف اشرف کے گرم موسم اور صحن مقدس کے ایسے فرش کے لیے نہایت موزوں ہے جہاں زائرین کو ننگے پاؤں چلنا ہوتا ہے۔
  • اس منصوبے کے عملی کام کا آغاز ذوالقعدہ ۱۴۳۸ ہجری قمری، مطابق ۲۰۱۷ عیسوی میں ہوا۔

صحن مقدس کے فرش اور آب رسانی کے نظام کی مرمت کے مراحل

پہلا مرحلہ:
  • پرانا سنگ مرمر اور اس کے نیچے موجود خراب شدہ کنکریٹ کی تہہ ہٹا دی گئی۔
  • صحن کے فرش پر موجود پرانی سفید پتھر کی تہہ بھی نکال دی گئی۔
  • زیرِ زمین حصوں اور قبروں کی شرعی ضوابط کے مطابق مرمت کی گئی اور ان کے تحفظ کے لیے ضروری انجینئرنگ اقدامات کیے گئے۔

اگلا مرحلہ:

  • صحن کے پانی کی نکاسی کے لیے استعمال ہونے والے ۱۰ سے ۱۲ میٹر گہرے کنویں کی مرمت و بحالی کی گئی۔
  • ان کنوؤں سے منسلک نکاسیٔ آب کے راستوں کی صفائی اور دیکھ بھال کی گئی۔
  • پرانے پانی کے پائپ ہٹا کر ان کی جگہ اعلیٰ معیار کے پلاسٹک پائپوں کا نیا نظام نصب کیا گیا۔
  • ان پائپوں کی مجموعی لمبائی ۶۱۸ میٹر تھی اور انہیں صحن کے اندر نئے تعمیر کیے گئے سروس ٹنل میں بچھایا گیا۔=

اس کے علاوہ ایوان کے ہر ستون کے قریب پانی کی فراہمی کے مقامات بھی قائم کیے گئے، تاکہ صحن کے مختلف حصوں تک پانی کی رسائی آسان بنائی جا سکے۔

اس سلسلۂ مضامین کی گزشتہ کڑی میں «صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی کاشی کاری اور مرمت کی تاریخی‌ روایت» کا تعارف پیش کیا گیا تھا۔

ماخذ
کتاب «تاریخ المرقد العلوی المطهر» سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے