سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام: تاریخ، معماری اور کتبوں کا مطالعہ

صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام اور حرم مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے رواق عراق میں اسلامی معماری کے نمایاں نمونوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ عمارتیں زمانے کی گردش، موسمی اثرات اور مختلف تاریخی واقعات کے باوجود آج بھی اپنی عظمت و استحکام کے ساتھ قائم ہیں۔ اس تحریر میں صحن کی بیرونی دیواروں کی تعمیر و مرمت کی تاریخ، رواقوں کی معماری اور ان مقدس مقامات کی زینت بننے والے قرآن کریم کی آیات اور شعری کتبوں کے گراں قدر مجموعے کا جائزہ لیا گیا ہے۔

صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی بیرونی دیوار

صحن مقدس کی بیرونی دیوار تقریباً ۴۵۷۳ مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔ اس دیوار کی بلندی تقریباً ۱۲ میٹر ہے۔ ماضی میں نجف اشرف کے قدیم شہری علاقے کی عمارتیں براہِ راست صحن مقدس کی بیرونی دیوار سے متصل تھیں۔ تاہم سنہ ۱۳۶۸ ہجری‌قمری ( ۱۹۴۹ء) میں اطراف کی متعدد عمارتیں منہدم کرکے صحن کے گرد سڑک تعمیر کی گئی۔

ستر کی دہائی کے وسط میں بھی صحن کی دیوار سے متصل تمام بیرونی عمارتیں منہدم کردی گئیں۔ دیوار کے بیرونی حصے کو نقش و نگار سے مزین اینٹوں سے آراستہ کیا گیا۔ ان نقوش میں لفظ جلالہ ’’اللہ‘‘، رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کے اسمائے گرامی شامل تھے۔ اس کے علاوہ، لفظ ’’احد‘‘ بھی موجود تھا۔  جنہیں دائرہ نما اور چار رُخی خطی ترکیبات کی صورت میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔

عہد حاضر میں صحن حرم مقدس کی دیواروں کی مرمت 

صحن مقدس کی دیوار وقت گزرنے کے ساتھ موسمی اثرات سے متاثر ہوتی رہی۔ اس کے علاوہ، اطراف میں پیش آنے والے فوجی واقعات اور دھماکوں کے باعث بھی دیوار کے مختلف حصے متاثر ہوئے۔ ان نقصانات میں دیوار کے بعض حصوں میں دراڑیں پڑنا بھی شامل تھا۔ اس کے نچلے حصے میں نصب سنگ مرمر کی تختیاں بھی خراب ہوگئی تھیں۔ اسی وجہ سے سنہ ۱۴۲۶ ہجری‌قمری ( ۲۰۰۵ء)  میں حرم مقدس کے ماہرین نے مرمت کا کام شروع کیا۔ اس مرحلے میں صحن مقدس کی بیرونی دیوار کی مرمت اور بحالی کا کام انجام دیا گیا۔

اس منصوبے کے دوران نقش و نگار میں موجود تمام نقائص دور کیے گئے اور متاثرہ حصے نئے ٹکڑوں سے تبدیل کیے گئے۔ اس دوران قدیم تزئین و آرائش کی اصل ساخت، طرز اور فنی خصوصیات کو مکمل طور پر برقرار رکھا گیا۔ اس کے علاوہ دیوار کے نچلے حصے میں سنگِ گرانیت کی ایک نئی پٹی بھی نصب کی گئی۔ یہ مرمتی کام ۱۴۲۷ ہجری قمری، مطابق ۲۰۰۶ء کے اختتام پر مکمل ہوا۔

روضۂ مقدسہ کے رواق

حرم مقدس کے چاروں جانب چار رواق قائم ہیں۔ جو مجموعی طور پر ایک تقریباً مربع شکل کی عمارت تشکیل دیتے ہیں۔ یہ رواق مل کر ایک باشکوہ، مستحکم اور متوازن معمارانہ مجموعہ پیش کرتے ہیں۔ اپنی منفرد معماری اور دلکش تزئین و آرائش کے باعث یہ رواق خاص شان رکھتے ہیں۔ ان کی چھتوں سے قیمتی اور نفیس فانوس آویزاں ہیں، جو رواقوں کی شان و شوکت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان فانوسوں کے دیدہ زیب نقوش نگاہوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

آج ان رواقوں میں بیرونی دروازے اور داخلی راستے موجود ہیں، جن کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔ رواقوں کے اندرونی حصے کی ہر سمت کی لمبائی تقریباً ۳۱ میٹر ہے۔ شمالی اور جنوبی رواق کی چوڑائی تقریباً ۶ میٹر ہے۔ مشرقی رواق کی چوڑائی تقریباً ۷.۶۰ میٹر، جبکہ مغربی رواق کی چوڑائی تقریباً ۴.۴۰ میٹر ہے۔ ہر رواق کی بلندی تقریباً ۱۲ میٹر ہے۔ جو حرم مقدس کی عمارت اور صحن کی بیرونی دیوار کی بلندی کے برابر ہے۔

گنبد اور روشن دان

ان رواقوں میں مجموعی طور پر آٹھ گنبد ہیں، جو وسطی حصے اور کونوں میں واقع ہیں۔ ہر گنبد کے اوپر ایک آٹھ پہلو روشن دان ہے۔ جو حرم کی سطح سے بلند ہے اور اس میں آٹھ کھڑکیاں موجود ہیں۔ ان گنبدوں کے درمیان مزید چھ چھوٹے گنبد بھی بنائے گئے ہیں۔ ان میں شمالی، جنوبی اور مغربی رواق میں سے ہر ایک کے لیے دو دو گنبد ہیں۔ ان تمام گنبدوں کی معماری اور تزئین و آرائش میں نمایاں ہم آہنگی اور تقارن پایا جاتا ہے، جو ان کے حسن و جلال کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

رواقوں کے اطراف کے حجرے

رواقوں کے چاروں جانب دو منزلہ حجرے موجود ہیں۔ بالائی منزل پر کل ۱۲ حجرے ہیں۔ مشرقی جانب دو، مغربی جانب دو، جبکہ شمالی اور جنوبی جانب چار، چار حجرے ہیں۔ ان حجروں میں چھوٹی چھوٹی علیحدہ کھڑکیاں موجود ہیں جو شمالی اور جنوبی سمتوں میں صحن مقدس کی جانب کھلتی ہیں۔

رواقوں میں منقوش شعری کتبے

صحن مقدس کے رواقوں میں متعدد معروف قصائد اور اشعار خوب صورت خط میں سنہری حروف کے ذریعے رنگین شیشوں کے پس منظر پر تحریر کیے گئے ہیں۔ مشرقی رواق کے دائیں کونے میں، مقدس اردبیلی کے مزار کے حجرے کے قریب، حسین بن حجاج نیلی کے ۱۸ اشعار تحریر ہیں، جو ایک مخصوص مطلع سے شروع ہوتے ہیں۔ اسی رواق کے بائیں کونے میں علامہ حلی کے مزار کے حجرے کے قریب معروف شاعر «الناشی الصغیر» کے قصیدے کے ۱۸ اشعار تحریر کیے گئے ہیں۔

«باب ابی‌طالب» کے اوپر واقع اس ایوان کے پیشانی نما حصے کے وسط میں، جو مغربی رواق سے رواق ابی‌طالب کی جانب راستہ فراہم کرتا ہے، محمد بن ادریس شافعی کے دو اشعار درج ہیں۔ مغربی رواق کے دائیں کونے میں دو شعرا، محمد بن طلحہ شافعی اور عبدالغنی جابری، کا مشترکہ قصیدہ تحریر ہے، جس کا وزن اور قافیہ یکساں ہے۔ اس میں شافعی کے ۱۱ اور جابری کے ۷ اشعار شامل ہیں۔

اسی طرح شاعر ابوفراس حمدانی کے دیوان سے ۱۸ اشعار اس رواق کے بائیں جانب تحریر کیے گئے ہیں۔ شاعر محمدکاظم الازری کے معروف قصائد کے ۲۶ اشعار شمالی رواق میں حرم مقدس کے حجرے کے دونوں داخلی دروازوں کے اوپر تحریر ہیں۔ اسی طرح ایوانِ علما کے دروازے کے اوپر، شمالی رواق کے اندر، ۲۲ اشعار بھی تحریر کیے گئے ہیں۔

قرآنی کتبے اور کاشی کاری کی نفیس آرائش

صحن مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی جانب کھلنے والے رواقوں کی بیرونی دیواریں نفیس نقش و نگار سے آراستہ کاشی کاری سے مزین ہیں۔ ان کاشی کاریوں کے درمیان قرآن کریم کی آیات پر مشتمل کتبے بھی موجود ہیں۔ ان میں سب سے قدیم سورۂ «الرحمن» کا کتبہ ہے۔ یہ کتبہ نادرشاہ افشار کے عہد حکومت میں حرم مقدس کی بیرونی دیوار کے درمیانی حصے میں ایک طویل پٹی کی صورت میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس سورت کا متن رواق ابوطالب کے شمالی دروازے سے شروع ہوتا ہے، پھر ایوانِ علما کے اوپر سے گزرتا ہوا حرم کے شمال مشرقی کونے پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

اس پٹی کے اختتام پر خطاط کا نام یوں درج ہے:

«کمال‌الدین حسین گلستانه»

اسی طرح جنوبی جانب بھی یہی سورت جنوب مشرقی کونے سے شروع ہوتی ہے، پھر ایوان میزاب کے اوپر جاری رہتی ہے اور آخرکار رواق ابوطالب کے کونے پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔

اس کتبے کے آغاز میں اس کی تکمیل کرنے والے معمار کا نام فارسی میں یوں درج ہے:

«به معماری استاد ابراهیم طهرانی تمام شد»

رواق کی بیرونی دیوار کے دونوں جانب قاشانی کاشیوں پر مشتمل کتبے بھی آویزاں ہیں، جو عثمانی سلطان عبدالحمید ثانی کے عہد حکومت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کتبے ماہر خطاط عبدالعلی یزدی کے فنِ خطاطی کا شاہکار ہیں۔ شمالی جانب سورۂ «مزمل» تحریر کی گئی ہے، جو رواقِ ابوطالب کے کونے سے شروع ہوکر شمالی مینار کے قریب اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس کے بالمقابل جنوبی جانب سورۂ «انسان» تحریر ہے، جو جنوبی مینار کے قریب سے شروع ہوکر اسی سمت رواقِ ابوطالب کے کونے پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔

ماخذ
کتاب «تاریخ المرقد العلوی المطهر» سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے