امام صادق علیہالسلام کی نظر میں امیرالمومنین علیہالسلام کا مقام
آپ علیہالسلام نے قرآن کریم کی حکمت بھری آیات سے استناد کرتے ہوئے مولائے متقیان علیہالسلام کے بلند مقام کی وضاحت فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے آیات قرآنی کی روشنی میں آپ علیہالسلام کے فضائل و کمالات کو بھی اجاگر کیا۔ اس حقیقت کی ایک واضح اور ہمیشہ رہنے والی تصویر مؤمنین کے اذہان و قلوب میں نقش فرمائی۔ امام صادق علیہالسلام، جو جعفر بن صادق علیہالسلام اور صادق آل محمد کے نام سے مشہور ہیں، شیعوں کے چھٹے امام ہیں۔ آپ علیہالسلام نے آیاتِ وحی کی روشنی میں اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ قرآن جب «نور»، «ہدایت» اور «ولایت» کا ذکر کرتا ہے۔ تو درحقیقت یہ امیرالمومنین علی علیہالسلام کے وجودِ مبارک کی طرف اشارہ ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے آیاتِ قرآن سے استناد کرتے ہوئے خالق و مخلوق کے درمیان دلائل کا مضبوط رشتہ قائم فرمایا۔ آپ علیہالسلام نے واضح کیا کہ ولایت کے بغیر قرآن پر ایمان کا تعلق منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی منقطع ہوجاتا ہے۔
صراط مستقیم
امام صادق علیہالسلام نے قرآن کریم میں بیان کردہ صراطِ مستقیم کی تفسیر فرماتے ہوئے امیرالمومنین علیہالسلام کو اس کا حقیقی پیشوا قرار دیا۔آپ علیہالسلام نے اپنے استدلال میں سورۂ زخرف کی آیت ۴ سے بھی استناد فرمایا۔ امام صادق علیہالسلام نے فرمایا:
«صراط مستقیم، امیرالمومنین علی علیہالسلام اور ان کی معرفت ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
«اور بے شک وہ امّ الکتاب میں ہمارے نزدیک بلند مرتبہ اور حکمت والا ہے۔» اور «علیّ حکیم» سے مراد امّ الکتاب میں امیرالمومنین علیہالسلام ہیں۔»[۱]
سوره بقرہ کی آیت ۲ میں قرآن کریم کو ایسی کتاب قرار دیا گیا ہے جو پرہیزگاروں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے امیرالمومنین علیہالسلام کو قرآن کی تعلیمات اور تقویٰ کے معیار کے مطابق لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
امام صادق علیہالسلام سے اللہ تعالیٰ کے فرمان، سوره بقرہ کی آیت ۲:
«ذلِکَ الکِتابُ لا رَیبَ فیهِ هُدىً لِلمُتَّقینَ»
کے بارے میں روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
«الکتاب» حضرت امیرالمومنین علی علیہالسلام ہیں، جن کے بارے میں کسی قسم کا شک نہیں؛ اور «هُدىً لِلمُتَّقین» سے مراد ہمارے شیعوں کے لیے روشنگر اور بیان کرنے والا ہے۔ [۲]
نور مبین
سوره نساء کی آیت ۱۷۴ وحی کے پیغام کی اہمیت اور مقام کو بیان کرتی ہے، جسے روشن نور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ نور انسانوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین علیہالسلام کو رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے راستے کا تسلسل قرار دیا۔ آپ علیہالسلام وہ ہستی ہیں جن کا تعلق نورِ وحی سے ہے اور جو معاشرے کی ہدایت و رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
عبداللہ بن سلیمان نے امام صادق علیہالسلام سے اللہ تعالیٰ کے فرمان، سوره نساء کی آیت ۱۷۴:
«قَد جاءَکُم بُرهانٌ مِن رَبِّکُم و أنزَلنا إلَیکُم نُوراً مُبیناً»
کے بارے میں نقل کیا ہے کہ میں نے عرض کیا۔ حضرت نے فرمایا:
«برہان» رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ ہیں، اور «نور» امیرالمومنین علی علیہالسلام ہیں۔[۳]
ریسمان الٰہی
سوره آل عمران کی آیت ۱۱۲ وحدت اور ریسمانِ الٰہی سے وابستگی کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت میں لوگوں کے تھامے جانے والے ریسمان سے مراد امیرالمومنین علیہالسلام کی ولایت بیان فرمائی۔ آپ علیہالسلام خاتم الانبیاء صلیاللہعلیہوآلہ کے جانشین کی حیثیت سے امت اسلامی کی ہدایت میں بنیادی کردار رکھتے ہیں۔ آپ علیہالسلام کی پیروی اس ریسمان الٰہی سے وابستگی کے مترادف ہے جو وحدت اور یکجہتی کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے سورہ آل عمران کی آیت ۱۱۲:
«إلّا بِحَبلٍ مِنَ اللهِ و حَبلٍ مِنَ النّاسِ»
کے بارے میں فرمایا:
اللہ کی طرف سے رسی سے مراد قرآن ہے، اور لوگوں کی جانب سے رسی سے مراد امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہالسلام ہیں۔[۴]
وَجہُ اللہ
سوره بقرہ کی آیت ۱۱۵ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی سمت یا مکان کی حدود میں محدود نہیں۔ امیرالمومنین علیہالسلام اور اہلِ بیت علیہم السلام زمین پر اللہ تعالیٰ کے نمائندے ہیں۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت کی تفسیر میں اہل بیت علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کی وجہ سے «وجہُ اللہ» قرار دیا ہے۔ وہ ہستیاں جو لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔
داود بن کثیر کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہالسلام کی خدمت میں عرض کیا:
کیا آپ قرآن میں نماز، زکات اور حج ہیں؟
حضرت نے فرمایا:
اے داود! ہم قرآن میں نماز، زکات، روزہ، حج، ماہِ حرام، شہرِ حرام، کعبہ، قبلہ اور «وجہُ اللہ» ہیں، جس کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: «پس تم جس طرف بھی رخ کرو، اسی طرف اللہ کا چہرہ ہے۔» اور ہم اللہ کی آیات اور روشن نشانیاں ہیں۔[۵]
اطاعت اولی الامر
سورہ نساء کی آیت ۵۹، جو آیتِ اطاعت یا آیتِ اولی الامر کے نام سے معروف ہے۔ مؤمنوں کو اللہ، رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیتی ہے۔ یعنی ان ہستیوں کی اطاعت جنہیں اللہ تعالیٰ نے امورِ امت کی ذمہ داری عطا فرمائی ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت کی تفسیر میں امیرالمومنین علیہالسلام کو امت کی حقیقی ہدایت کرنے والی اور صاحبِ امر ہستی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے اللہ تعالیٰ کے فرمان:
«أَطِیعُوا اللهَ وَ أَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ»
کے بارے میں فرمایا:
یہ آیت امیرالمومنین علی علیہالسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[۶]
سوره نساء کی آیت ۶۵، رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے فیصلے کو قبول کرنے کی اہمیت کو بیان کرتی ہے اور اسے حقیقی ایمان کا معیار قرار دیتی ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت کی تفسیر میں امیرالمومنین علی علیہالسلام کی پیروی کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تسلسل کے طور پر بیان فرمایا ہے۔
عبداللہ نجاشی سے نقل ہے کہ میں نے امام صادق علیہالسلام سے سوره نساء کی آیت ۶۵ کے بارے میں پوچھا۔
حضرت نے فرمایا:
«فَلا وَ رَبِّک لا یُؤمِنُونَ حَتَّى یحَکِّمُوک فِیمَا شَجَرَ بَینَهُمْ ثُمَّ لا یجِدُوا فِی أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیتَ وَ یسَلِّمُوا تَسْلِیماً»
یعنی: پس تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو حَکم نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور مکمل طور پر تسلیم نہ ہوجائیں۔
حضرت نے فرمایا:
«اس سے مراد امیرالمومنین علی علیہالسلام ہیں۔»[۷]
نماز وسطی
سوره بقرہ کی آیت ۲۳۸ میں نمازوں کی حفاظت، بالخصوص نماز وسطیٰ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ امام جعفر صادق علیہالسلام نے اس آیت کی تفسیر فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے نماز کو رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ اور اہلبیت علیہمالسلام کی طرف اشارہ قرار دیا۔ آپ علیہالسلام نے نمازِ وسطیٰ سے مراد امیرالمومنین علیہالسلام کو قرار دیا ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے سوره بقرہ کی آیت ۲۳۸:
«حافِظوا عَلَى الصَّلاواتِ و الصَّلاهِ الوُسطَى و قوموا لِلَّهِ قانِتِینَ»
کے بارے میں فرمایا:
نماز، رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ، امیرالمومنین علیہالسلام، فاطمہ سلام اللہ علیہا، حسن علیہالسلام اور حسین علیہالسلام ہیں؛ اور نماز وسطیٰ امیرالمومنین علیہالسلام ہیں۔
«اللہ کے لیے فروتنی کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ» سے مراد ائمہ علیہم السلام کی اطاعت کی راہ میں قیام کرنا ہے۔[8]
عہدِ الٰہی
سوره بقرہ کی آیت ۴۰ عہد و پیمان کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وفاداری اور عہد کی پابندی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے عہد کی وضاحت فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے اس عہد سے امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت سے وفاداری مراد لی ہے۔
سماعة بن مہران نے امام صادق علیہالسلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے سورۂ بقرہ کی آیت ۴۰:
«أوفوا بِعَهدی أوفِ بِعَهدِکُم»کے بارے میں فرمایا۔
میں نے عرض کیا:
اس سے کیا مراد ہے؟
حضرت نے فرمایا:
میرے عہد کو پورا کرو؛ یعنی امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت سے وفاداری کرو، جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے واجب کی گئی ہے؛
«تاکہ میں تمہارے عہد کو پورا کروں» یعنی تمہارے لیے جنت کا وعدہ پورا کروں۔[۹]
میثاقِ انبیاء
سورۂ آل عمران کی آیت ۸۱ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انبیاء کے عہد و پیمان کو بیان کرتی ہے۔ اس عہد کے مطابق، جب کوئی نیا نبی واضح نشانیوں اور کتاب کے ساتھ آئے تو سابق انبیاء اس پر ایمان لائیں اور اس کی نصرت کریں۔ امیرالمومنین علی علیہالسلام ہمیشہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے مددگار اور دین کے مدافع رہے۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت کی تفسیر میں امیرالمومنین علیہالسلام کے کردار کو واضح فرمایا۔ آپ علیہالسلام نے رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی نصرت میں آپ علیہالسلام کی اہم خدمات بیان فرمائیں۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے سوره آل عمران کی آیت ۸۱:
«و إذ أخَذَ اللهُ میثاقَ النَّبیّینَ لَما آتَیتُکُم مِن کِتابٍ و حِکمَهٍ ثُمَّ جاءَکُم رَسولٌ مُصَدِّقٌ لِما مَعَکُم لَتُؤمِنُنَّ بِهِ و لَتَنصُرُنَّهُ»
کے بارے میں فرمایا:
آدم علیہالسلام کے زمانے سے لے کر آج تک اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ وہ دنیا میں واپس آئے گا اور رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ اور امیرالمومنین علیہالسلام کی مدد کرے گا۔ پس «لَتُؤمِنُنَّ بِهِ» کی تأویل یہ ہے کہ رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ پر ایمان لاؤ، اور «لَتَنصُرُنَّهُ» کی تأویل یہ ہے کہ امیرالمومنین علی علیہالسلام کی مدد کرو۔[۱۰]
امتِ وسط
سوره بقرہ کی آیت ۱۴۳ امتِ وسط اور اعتدال کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔ یہ آیت دیگر امتوں پر گواہ بننے اور ہدایت فراہم کرنے کے کردار کی بھی وضاحت کرتی ہے۔ امام جعفر صادق علیہالسلام نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے امتِ وسط سے مراد اللہ تعالیٰ کی حجت والی ہستیوں کو قرار دیا۔ آپ علیہالسلام نے انہیں لوگوں پر گواہ بننے والی ہستیاں بھی قرار دیا۔ آپ علیہالسلام نے اہلبیت علیہمالسلام کو اس امت کا حقیقی مصداق بیان فرمایا۔
بُریدِ عجلی سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہالسلام سے سوره بقرہ کی آیت ۱۴۳:
«و کَذلِکَ جَعَلنٰاکُم أُمَّهً وَسَطاً لِتَکونوا شُهَدٰاءَ عَلَی النّٰاسِ و یَکونَ الرَّسولُ عَلَیکُمْ شَهیداً» کے بارے میں پوچھا۔
حضرت نے فرمایا:
ہم امتِ وسط ہیں، ہم اللہ کی مخلوق پر اس کے گواہ اور زمین پر اس کی حجت ہیں۔[۱۱]
یُسر و حسنہ
امام جعفر صادق علیہالسلام سے منقول روایات میں سورۂ بقرہ کی آیت ۱۸۵ کے «یُسر» سے مراد ولایت بیان ہوئی ہے۔ اس ولایت سے مراد امیرالمومنین علیہالسلام کی پیروی ہے۔ کیونکہ ہدایت، بندگیِ خدا اور ولایت اہلبیت علیہمالسلام کو قبول کرنا دین و دنیا میں آسانی کا سبب ہے۔ اس الٰہی محور سے دوری انسان کے لیے سختی اور دشواری کا باعث بنتی ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے اللہ تعالیٰ کے فرمان:
«یُریدُ اللهُ بِکُمُ الیُسرَ و لا یُریدُ بِکُمُ العُسرَ» کے بارے میں فرمایا:
اس «یُسر» یعنی آسانی سے مراد امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہالسلام ہیں۔[۱۲]
سوره نمل کی آیت ۸۹ نیک عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس کی تفسیر میں امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کو بیان کیا گیا ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے قرآن میں مولائے متقیان علیہالسلام سے متعلق اس آیت کی تفسیر فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے «حسنہ» سے اہلبیت علیہمالسلام کی معرفت و محبت مراد لی۔ جبکہ «سیئہ» سے مراد ولایت کا انکار اور اہلبیت علیہمالسلام سے دشمنی ہے۔ آپ علیہالسلام نے اسے اہلبیت علیہمالسلام سے دوری کی علامت قرار دیا ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے اپنے والد گرامی امام محمد باقر علیہالسلام سے روایت کی ہے کہ ایک روز ابوعبداللہ جَدَلی امیرالمومنین علی علیہالسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
حضرت نے ان سے فرمایا:
اے ابوعبداللہ! کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا معنی بتاؤں جس میں وہ فرماتا ہے:
«مَن جاءَ بِالحَسَنَهِ فَلَهُ خَیرٌ مِنها وَ هُم مِن فَزَعٍ یَومَئِذٍ آمِنونَ؛ وَ مَن جاءَ بِالسَّیِّئَهِ فَکُبَّت وُجوهُهُم فِی النَارِ هَل تُجزَونَ إِلَا ما کُنتُم تَعمَلُونَ»
یعنی:
جو شخص نیکی لے کر آئے گا، اس کے لیے اس سے بہتر اجر ہوگا اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے؛ اور جو شخص برائی لے کر آئے گا، وہ اپنے چہروں کے بل آگ میں جھونک دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا: کیا تمہیں اس کے سوا کوئی اور بدلہ دیا جائے گا جو تم عمل کرتے تھے؟
ابوعبداللہ جَدَلی نے عرض کیا:
جی ہاں، اے امیرالمومنین! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔
پھر حضرت نے فرمایا:
حسنہ یعنی نیکی، ہماری ولایت اور ہم اہلِ بیت سے محبت کی معرفت ہے؛ اور سیئہ یعنی برائی، ہماری ولایت کا انکار اور ہم اہلِ بیت سے دشمنی ہے۔[13]
عملِ صالح
سوره فاطر کی آیت ۱۰ میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و عظمت کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور عملِ صالح کو ایک اہم وصف کے طور پر بیان کرتا ہے۔ تفسیری روایات میں امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کو عملِ صالح کے اعلیٰ ترین مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔ عادل اور صاحبِ ایمان پیشوا کی اطاعت و پیروی تقوائے الٰہی اور دین پر عمل کا مظہر ہے۔
امام صادق علیہالسلام نے سورۂ فاطر کی آیت ۱۰:
«إلَیهِ یَصعَدُ الکَلِمُ الطَّیِّبُ و العَمَلُ الصّٰالِحُ یَرفَعُهُ» کے بارے میں فرمایا:
عمل صالح، ہم اہلِ بیت کی ولایت ہے۔ پس جو شخص ہماری ولایت کو قبول نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے کسی عمل کو بلند نہیں کرے گا۔[۱۴]
انکارِ ولایت
سورۂ نساء کی آیت ۴۸ شرک کے سوا دیگر گناہوں کی بخشش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ امام صادق علیہالسلام نے اس آیت کی تفسیر میں امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کی اہمیت بیان فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے انکار ولایت کو شرک سے تشبیہ دی۔
عبدالرحمن بن کثیر، جو محدثینِ شیعہ اور صادق آل محمد علیہالسلام کے اصحاب میں سے تھے، سے نقل ہے:
میں امام صادق علیہالسلام کی خدمت میں حج کے لیے روانہ ہوا۔ راستے میں امام ایک پہاڑ کی بلندی پر تشریف لے گئے اور لوگوں کے ایک بڑے اجتماع کی طرف دیکھا۔
پھر آپ علیہالسلام نے فرمایا:
کتنا زیادہ شور ہے، لیکن حاجی کتنے کم ہیں!
داود رقی نے عرض کیا:
اے فرزند رسول خدا! کیا اللہ تعالیٰ اس تمام مجمع کی دعا قبول فرمائے گا؟
حضرت نے فرمایا:
اے ابوسلیمان! تم پر افسوس! «إنَّ اللهَ لا یَغفِرُ أن یُشرَک بِهِ؛ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے» اور امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کا منکر بت پرست کی مانند ہے۔[۱۵]
سورہ آل عمران کی آیت ۱۶۲ کے مطابق، امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت سے انکار حق سے دوری کا سبب ہے۔ ایسا انکار انسان کو ہدایت کی راہ سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ ایسے لوگ ان کافروں کی مانند ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ قرآن کریم لوگوں کو اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کی پیروی کی دعوت دیتا ہے۔ اس ولایت کا انکار دنیا و آخرت میں غضبِ الٰہی اور نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے سورۂ آلِ عمران کی آیت ۱۶۲:
«کَمَنْ باءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللهِ إِلَى قَولِهِ المَصِیرُ» کے بارے میں فرمایا:
خدا کی قسم! یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے امیرالمومنین علی علیہالسلام اور اہلِ بیت علیہم السلام سے تعلق رکھنے والے ائمہ کے حق کا انکار کیا، ان کے حق کو نہ پہچانا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے غضب و ناراضی کا شکار ہوئے۔[۱۶]
سوره بقرہ کی آیت ۸۱ حق سے دانستہ انحراف سے خبردار کرتی ہے۔ ایسا انحراف انسان کو اللہ تعالیٰ کے غضب و عذاب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اپنے باطن کو برائیوں سے آلودہ کرنا بھی اسی انجام کا سبب بنتا ہے۔ امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کا انکار بھی اسی انحراف کی ایک صورت ہے۔ ایسا انحراف انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔
ابوحمزہ سے نقل ہے کہ امام باقر یا امام صادق علیہما السلام نے سورۂ بقرہ کی آیت ۸۱:
«بَلى مَن کَسَبَ سَیِّئَهً و أحاطَت بِهِ خَطیئَتُهُ؛» کے بارے میں فرمایا:
جب لوگ امیرالمومنین علی علیہالسلام کی امامت کا انکار کریں گے، «فَأولئِکَ أصحابُ النّارِ هُم فیها خالِدونَ؛» پس وہ اہلِ آتش ہوں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔[۱۷]
ولایت اہل بیت علیہمالسلام کی اہمیت
امام صادق علیہالسلام نے سورۂ بقرہ کی آیت ۱۶۷ کی تفسیر میں انکارِ ولایت کے اثرات بیان فرمائے۔ آپ علیہالسلام نے انکارِ ولایت کے انجام کو جہنم کی آگ قرار دیا۔ آپ نے اس حقیقت سے غفلت کے خطرناک نتائج سے بھی خبردار فرمایا۔
منصور بن حازم نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہالسلام کی خدمت میں عرض کیا:
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، سورۂ بقرہ کی آیت ۱۶۷:
«و ما هُم بِخارِجینَ مِنَ النّارِ؛» سے مراد کون لوگ ہیں؟
حضرت نے فرمایا:
امیرالمومنین علی علیہالسلام کے دشمن؛ یہی وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ، ابد تک اور زمانۂ روزگار کے تمام ادوار تک آتشِ جہنم میں جاوداں رہیں گے۔[۱۸]
مآخذ
[۱] تفسیر قمی، جلد ۱، صفحۀ ۲۸
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۵، صفحۀ ۴۰۲
[۳] تفسیر عیاشی، جلد ۱، صفحۀ ۲۸۵
[۴] تفسیر عیاشی، جلد ۱، صفحۀ ۱۹۶
[۵] تأویل الآیات الظاهره، جلد ۱، صفحه ۲۱
[۶] تفسیر عیاشی، جلد ۱، صفحۀ ۲۴۹
[۷] بصائر الدرجات، جلد ۱، صفحۀ ۵۲۰
[۸] تفسیر عیاشی، جلد ۱، صفحۀ ۱۲۸
[۹] تفسیر عیاشی، جلد ۱، صفحۀ ۴۲
[۱۰] تفسیر قمی، جلد ۱، صفحۀ ۲۵
[۱۱] بصائر الدرجات، جلد ۱، صفحۀ ۶۳
[۱۲] تفسیر فرات کوفی، جلد ۱، صفحۀ ۶۲
[۱۳] تفسیر نورالثقلین، جلد ۴، صفحۀ ۱۰۳ / اصول کافی، جلد ۱، صفحۀ ۱۸۵
[۱۴] اصول کافی، جلد ۱، صفحۀ ۴۳۰
[۱۵] بصائر الدرجات، جلد ۱، صفحۀ ۳۵۸
[۱۶] تفسیر عیاشی، جلد ۱، صفحۀ ۲۰۵
[۱۷] اصول کافی، جلد ۱، صفحۀ ۴۲۹
[۱۸] تفسیر عیاشی، جلد ۱، صفحۀ ۷۳