سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

غدیرِ خم؛ وصایت کی معراج اور نفاق کا آغاز (امام حسن عسکری علیہ‌السلام کی روایت کے مطابق)

۱۔ سب سے بڑی الٰہی عہد

امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے پاکیزہ اجداد علیہم السلام سے روایت فرمائی ہے کہ غدیرِ خم کے دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے حکم دیا کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے لیے اونٹوں کے کجاووں کے ڈھیر سے لوگوں کے اس عظیم ہجوم کے درمیان ایک بلند مقام تیار کیا جائے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اس لیے کہ انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے، فرمایا: «اے اللہ کے بندو! مجھے میرے نسب کے ذریعے پہچانو۔»

لوگوں نے یک زبان ہو کر عرض کیا: «آپ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں؛ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی نسل اور قریش کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔»

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے ایک مرتبہ پھر اپنی حقانیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: «کیا میں تم پر خود تم سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟»

سب نے جواب دیا: «کیوں نہیں، اے رسولِ خدا!»

پھر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے تین مرتبہ اپنا دستِ مبارک آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا: «اے اللہ! گواہ رہنا!»

اس کے بعد وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ.»
«جس کا میں مولا ہوں، یہ علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو اسے دوست رکھے، تو اسے دوست رکھ؛ جو اس سے دشمنی کرے، تو اس سے دشمنی رکھ؛ جو اس کی مدد کرے، تو اس کی مدد فرما؛ اور جو اسے بے یار و مددگار چھوڑے، اسے خوار فرما۔»

غدیر کے واقعے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ہاتھ کو بلند کرکے ولایت کا اعلان کرنا متعدد روایات میں نقل ہوا ہے۔

۲۔ بزرگانِ صحابہ سے بیعت

اس کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے صراحت کے ساتھ حکم فرمایا: «اے ابوبکر! اٹھو اور علی سے امیرالمؤمنین کی حیثیت سے بیعت کرو۔»

وہ اٹھا اور بیعت کر لی۔ اس کے بعد عمر بن خطاب کو بلایا گیا اور انہوں نے بھی بیعت کی۔ پھر باقی نو بزرگ افراد اور اس کے بعد مہاجرین و انصار کے رؤسا یکے بعد دیگرے آگے بڑھے اور سب نے أمیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ امت کے والی اور پیشوا کی حیثیت سے عہد و پیمان کیا۔

اسی موقع پر عمر بن خطاب مجمع کے درمیان کھڑا ہوا اور جوش و مسرت کے ساتھ کہا: «بَخٍ بَخٍ لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.»
«مبارک ہو، مبارک ہو، اے ابوطالب کے فرزند! آج سے تم میرے مولا اور ہر مؤمن مرد و عورت کے مولا ہوگئے ہو۔»

لیکن ان الفاظ کے پیچھے کچھ اور لوگ کچھ اور ہی سوچ رہے تھے۔

۳۔ دشمنوں کی سازش بےنقاب

جس طرح قرآنِ کریم فرماتا ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ﴾ (سورۂ بقرہ، آیت ۸)
«اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں: ہم اللہ پر ایمان لائے، حالانکہ وہ مؤمن نہیں ہیں۔»

سرکش اور گردن کش لوگوں کے ایک گروہ نے باہم اتفاق کیا اور کہا: «اگر ایک دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ دنیا سے چلے گئے تو ہم یہ حکومت علی کے حوالے نہیں کریں گے اور انہیں ان کے حق سے محروم کر دیں گے۔»

اپنی دشمنی کو چھپانے کے لیے وہ پہلے ہی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے پاس آتے اور خوشامدانہ انداز میں کہتے: «اللہ کا شکر ہے کہ آپ نے اپنے محبوب ترین بندے کو ہمیں پہچنوا دیا، تاکہ وہ ہمیں ظالموں کے شر سے نجات دے۔»

لیکن اللہ تعالیٰ _جو پوشیدہ رازوں سے بھی باخبر ہے_ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کو خبر دی کہ ان کی یہ گفتگو دراصل اقتدار کی خواہش اور فریب کاری پر مبنی ہے اور ان کے دل امیرالمؤمنین علیہ السلام سے دشمنی سے بھرے ہوئے ہیں۔

۴۔ نتیجہ

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ کو وحی فرمائی کہ یہ لوگ اس حکم پر ایمان نہیں لائے جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا، بلکہ صرف زبان سے اقرار کرتے ہیں؛ جبکہ اپنے باطن میں انہوں نے تمہیں اور علی علیہما السلام کو قتل کرنے اور ان کے فرمان سے سرپیچی کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔

یہ الٰہی تنبیہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ نفاق کا سلسلہ غدیر ہی کے دن سے شروع ہوگیا تھا اور وہ لوگ آخری لمحے تک امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے خلاف تاک میں بیٹھے رہے، تاکہ حق کی حکومت ان سے چھین لیں۔

مآخذ
تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام، ص ۱۱۱، ح ۵۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے