حال ان کا نظر آیا جو سُلطانِ اُمم کو / فرمایا کہ لے آؤ دوات اور قلم کو
تحریر تمہارے لیے کچھ کرنا ہے ہم کو / تا راہِ ضلالت سے رکھو باز قدم کو
واللہ عمل گر مرے لکھنے پہ کرو گے
پھر حشر تلک تم کبھی گمراہ نہ ہو گے
اک شخص چلا لینے دوات اور قلم جب / کہنے لگا از راہِ عداوت یہ کوئی تب
پھر آ ہمیں تحریرِ نبی سے نہیں مطلب / قران ہی کافی ہے ہمارے لیے بس اب
کہتا ہو جو ہذیان، اُسے کب ہوش و خرد ہے
اس وقت کی تقریر نہ تحریر سند ہے
تکرار سے ان سب کی جو اک غُل ہُوا برپا / اس صدمے سے محبوبِ الہی کو غش آیا
کیا ظلم ہے، کیا قہر ہے وا حسرت و دردا / تحریرِ وصیت کے بھی مانع ہوئے اعدا
ہذیاں کا، کلمہ حق میں نبی کے
محبوبِ خدا سے یہ سخن بے ادبی کے
اے مومنو انصاف کی جا ہے وہ پیغمبر / جس کے لیے قرآں میں کہے خالقِ اکبر
جو کچھ ہے کلام اُس کا نہیں وحی سے باہر / ہذیاں کہے اس شخص کے حق میں وہ ستم گر
کونین میں لعن اس پہ نہ کیوں حشر تلک ہو
کافر ہے وہ خود کفر میں اس کے جسے شک ہو
میر انیس علیہ الرحمہ