یہ حفظِ مراتب تھا کہ قرآں کو جلایا / بے دینوں نے حق مصحفِ ناطق کا مٹایا
کِس ظلم سے کِس جور سے زہرا کو ستایا / محروم رہیں باپ کا ورثہ بھی نہ پایا
جس خط پہ ہوئی مہر شہ جنّ و ملک کی
کی چھین کے پُرزے وہ سند باغِ فدک کی
بے اذن جہاں تھی نہ فرشتے کی رسائی / اُس گھر کی یہ عزّت کہ اُسے آگ لگائی
تھی حمل سے محسن کے محمد کی وہ جائی / پہلو پہ گرا در تو یہ فریاد مچائی
ہئے ہئے مجھے غم اور دیا باپ کے غم میں
بے جان ہوا محسنِ معصوم شکم میں
ہیہات نہ اس ظلم پہ بھی ہاتھ اُٹھایا / کوڑا بہ سِتم بازوئے زہرا پہ لگایا
مظلوم نے اک آہ کی ایسی کہ غش آیا / آرام لحد میں بھی محمد نے نہ پایا
رسّی تو ادھر بندھتی تھی گردن میں علی کی
مرقد میں اُدھر روح تڑپتی تھی نبی کی
میر انیس علیہ الرحمہ