سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

شہادتِ ثامن الجج امام رضا علیہ السلام

صفر کا آخری دن، شہادتِ ثامن الحجج حضرت امام رضا علیہ السلام کی یاد کا دن ہے۔ امام علیہ السلام مامون کی دعوت پر قصر میں تشریف لے گئے، مگر پسِ پردہ دشمنی اور سازش تھی۔ زہر آلود انگور کھلائے گئے، چند دانے تناول فرماتے ہی امام علیہ السلام کی طبیعت دگرگوں ہوگئی۔ درد کی شدت میں ایک باپ کی زبان پر اپنے فرزند کا نام آیا۔ حضرت امام رضا علیہ السلام اپنے جگر کو ہاتھ سے تھامے، آخری وقت میں فرزند کو بلاتے ہیں اور امامت کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔
مرزا دبیر علیہ الرحمہ نے انہی آخری لمحات کو اپنے پرسوز اشعار میں بیان کیا ہے۔

اے مومنوں مضمون ہے اخبارِ رضا کا  /  محرابِ عبادت میں ابھی بیٹھے تھے مولا
اک پیک طلب کے لیے مامون نے بھیجا  /  مامون کا وہ پیک نہ تھا پیکِ اجل تھا
آتے ہی کہا اس نے شہِ جنّ و بشر سے
حضرت کو خلیفہ نے بلا بھیجا ہے گھر سے
داخل ہوا جب قصر میں ماموں کے وہ ذی جاہ  /  عکسِ رُخِ پُر نور نے ذرّوں کو کیا ماہ
مامون نے دیکھا جو نہیں آتے ہیں شہنشاہ  /  مشتاقوں کی مانند اُٹھا تخت سے بدخواہ
مرقد سے اُٹھانے کے لیے شیرِ خدا کو
بٹھلایا قریب اپنے امامِ دوسرا کو
دو خوشوں کو ظالم نے قریب اپنے منگایا  /  جس میں کہ نہ تھا زہر وہ بے رحم نے کھایا
بیکار میں جس خوشے میں تھا زہر ملایا  /  آگے گلِ گلزارِ نبی کے اُسے لایا
اور بولا کہ رد اس کو نہ فرمائیے حضرت
انگور بہت میٹھے ہیں سب کھائیے حضرت
حضرت نے کئی دانے تناول کیے جس دم  /  دل ٹکڑے لگا ہونے بُرا ہوگیا عالم
اُس خوشے کو بس پھینکتے ہی دل ہوا پُر غم  /  مجلس سے اُٹھے اور چلے سید اکرم
دامانِ عبا سے تھے لپیٹے ہوئے سر کو
اور دستِ مبارک سے وہ تھامے تھے جگر کو
اُس حال میں کہتا تھا رضا سید ابرار  /  آجا مرے فرزند کہ کرلوں میں تجھے پیار
فرزند، ترے باپ کا ہے آخری دیدار  /  مردوں میں تجھے سرِّ امامت سے خبردار
دم اُکھڑا دل و جان سماتے نہیں تن میں
اے جانِ پدر اب نہ لگا دیر وطن میں

مرزا دبیر علیہ الرحمہ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے