محمد بن ابی بکر، جنہیں عابدِ قریش کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، ابوبکر کے فرزند تھے۔ مگر امیرالمومنین علیہالسلام سے ان کی بے پناہ محبت اور عقیدت تھی۔ امیرالمومنین علیہالسلام بھی انہیں اپنے فرزند کی طرح عزیز رکھتے تھے۔ وہ تیسرے خلیفہ کی پالیسیوں کے نمایاں ناقدین میں شامل تھے اور ۱۴ صفر ۳۸ ہجری کو معاویہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
امیرالمومنین علیہالسلام کی آغوش تربیت میں
محمد بن ابی بکر، ابوبکر اور اسماء بنتِ عمیس کے فرزند تھے۔ ابوبکر کے انتقال کے بعد امیرالمومنین علیہالسلام نے اسماء بنت عمیس سے عقد فرمایا۔ اس کے بعد محمد نے آپ علیہالسلام کے گھر میں پرورش پائی۔ ان کی فقاہت، معرفت اور فکر امیرالمومنین علیہالسلام کی تعلیمات کا آئینہ دار تھی۔ وہ کسی کو بھی، حتیٰ کہ اپنے والد کو بھی، امیرالمومنین علیہالسلام پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ بیعت کے موقع پر انہوں نے عرض کیا:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہ امام ہیں جن کی اطاعت واجب ہے۔
امیرالمومنین علیہالسلام بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے اور انہیں ’’میرا وہ فرزند جو ابوبکر کی نسل سے ہے‘‘ فرمایا کرتے تھے۔
نہج البلاغہ میں امیرالمومنین علیہالسلام سے منقول ہے:
محمد میرا محبوب تھا اور میں نے اسے اپنے فرزند کی طرح پرورش دی تھی۔[۱]
محمد بن ابی بکر جنگ جمل اور جنگ صفین میں امیرالمومنین علیہالسلام کے لشکر کے اہم سالاروں میں شامل رہے۔ بعد ازاں امیرالمومنین علیہالسلام نے انہیں مصر کا گورنر مقرر فرمایا۔
امیرالمومنین علیہالسلام سے بیعت
امام جعفر صادق عليہ السلام نے محمد بن ابی بکر کا تذکرہ کرتے ہوئے امیرالمومنین علیہالسلام سے ان کی تجدیدِ بیعت اور بے لوث وفاداری کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ آپ علیہالسلام نے فرمایا کہ انہوں نے نہایت خضوع و اخلاص کے ساتھ امیرالمومنین علیہالسلام کی امامت اور واجب الاطاعت ہونے کی گواہی دی۔
حمزہ بن محمد طیار، جو امام جعفر صادق عليہ السلام کے قابل اعتماد راویوں میں سے تھے۔ وه روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام صادق علیہالسلام کی خدمت میں محمد بن ابی بکر کا ذکر ہوا۔
امام علیہالسلام نے فرمایا:
خدا محمد بن ابی بکر پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ ایک روز انہوں نے امیرالمومنین علیہالسلام سے عرض کیا:
اپنا دستِ مبارک بڑھائیے تاکہ میں دوبارہ آپ کی بیعت کروں۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
کیا تم پہلے بیعت نہیں کر چکے؟
انہوں نے عرض کیا:
جی ہاں، لیکن دوبارہ بیعت کرنا چاہتا ہوں۔
چنانچہ حضرت علیہالسلام نے اپنا دست مبارک بڑھایا تو محمد بن ابی بکر نے عرض کیا:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہ امام ہیں جن کی اطاعت واجب ہے۔
اس کے بعد امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمایا:
محمد بن ابی بکر کی شرافت اور نجابت انہیں اپنی والدہ اسماء بنت عمیس سے ملی تھی، نہ کہ اپنے والد کی طرف سے۔[۲]
اسی طرح زرارہ، جو امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہماالسلام کے ممتاز اصحاب میں سے تھے، روایت کرتے ہیں کہ امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمایا:
محمد بن ابی بکر نے اپنے والد سے براءت کا اظہار کرتے ہوئے امیرالمومنین علیہالسلام کی بیعت کی۔[۳]
معاویہ کے نام دفاع امیرالمومنین علیہالسلام میں تاریخی مکتوب
محمد بن ابی بکر اپنے مولا امیرالمومنین علیہالسلام کی طرح معاویہ کو ایک غاصب، ظالم اور فریب کار حکمران سمجھتے تھے۔ چنانچہ مصر کی گورنری سنبھالنے کے ابتدائی ایام ہی میں انہوں نے معاویہ کے نام ایک مفصل خط تحریر کیا، جس میں واضح کیا کہ خلافت و امامت کا حقیقی اور برحق حق دار صرف امیرالمومنین علیہالسلام ہیں۔
اس خط میں انہوں نے لکھا:
اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت، اقتدار اور کامل قدرت کے اظہار کے لیے تمام مخلوقات کو پیدا کیا۔ اس نے انہیں نہ عبث پیدا کیا، نہ کسی کمزوری یا حاجت کے باعث، بلکہ صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ پھر اپنی حکمت کے مطابق بعض کو ہدایت بخشی اور بعض کو گمراہی میں چھوڑ دیا، بعض کو سعادت مند بنایا اور بعض کو شقاوت میں مبتلا کیا۔
انہوں نے مزید لکھا:
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو منتخب فرمایا، انہیں اپنی وحی کا امین بنایا اور انہیں سچا رسول، ہادی، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا۔ سب سے پہلے جنہوں نے ان کی دعوت قبول کی، ان کی تصدیق کی، ایمان لائے اور اسلام کا اظہار کیا، وہ ان کے بھائی، چچا زاد، وصی، وارثِ علم اور ان کے بعد خلیفہ، امیرالمومنین علی بن ابی طالب عليہ السلام تھے، جنہیں رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا۔
محمد بن ابی بکر نے مزید لکھا:
امیرالمومنین علیہالسلام ہر خطرے میں رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے محافظ رہے، ہر معرکے میں آپ علیہالسلام کے ساتھ کھڑے رہے، دشمنوں کے مقابلے میں اپنی جان پیش کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب اور اپنی حجت کو مکمل کر دیا۔
پھر انہوں نے معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا:
اے معاویہ! تجھ پر افسوس! تو علی علیہالسلام پر فخر جتاتا ہے، حالانکہ وہ اس امت میں سب سے پاکیزہ، سب سے زیادہ سابق الاسلام، سب سے بڑھ کر راست باز اور بلند ترین مقام کے حامل ہیں۔ انہوں نے ہجرت کی رات رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی جگہ بستر پر سو کر اپنی جان اللہ کی راہ میں پیش کر دی۔ ان کے چچا حمزہ سید الشہداء تھے اور ان کے والد ابوطالب رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے سب سے بڑے محافظ تھے، جبکہ تو اور تیرا باپ ہمیشہ اسلام اور اہل بیت علیہمالسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔
خط کے اختتام پر محمد بن ابی بکر نے لکھا:
علی علیہالسلام کی فضیلت اور اسلام میں ان کی سبقت کی سب سے بڑی گواہی ان کے وہ مخلص ساتھی ہیں جن کی مدح اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمائی ہے۔ وہ ان کے ساتھ میدانِ جہاد میں ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کی اطاعت ہی کو سعادت اور ان کی مخالفت کو ہلاکت سمجھتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے معاویہ کو نہایت سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
تم اپنی خواہشاتِ نفس کے پیچھے چلو، کیونکہ عمرو بن عاص تمہیں گمراہی کی گہرائیوں میں دھکیل رہا ہے۔ یاد رکھو! تم نے اللہ کے ساتھ مکر کیا ہے، حالانکہ اللہ کی گرفت سے کوئی محفوظ نہیں۔ ہم اللہ، اس کے رسول صلیاللہعلیہوآلہ اور اہل بیتِ رسول علیہمالسلام کی نصرت سے تم سے بے نیاز ہیں۔[۴]
شہادت کا واقعہ
معاویہ نے مصر پر قبضہ کرنے اور محمد بن ابی بکر سے انتقام لینے کی غرض سے عمرو بن عاص کو مصر روانہ کیا۔ اس نے عثمان کے قتل کا الزام محمد بن ابی بکر پر عائد کیا اور باغیوں کی مدد سے ان کے خلاف لشکر کشی کی۔ محمد بن ابیبکر نے امیرالمومنین عليہ السلام کے حکم کے مطابق ثابت قدمی سے مقابلہ کیا، لیکن مالک اشتر کی شہادت کے بعد ان کی فوج کو شدید نقصان پہنچا۔ آخرکار مصر کے علاقے المسناة میں چھ ہزار شامی فوجیوں کے مقابلے میں ان کا لشکر شکست کھا گیا۔ شکست کے بعد ان کے بیشتر ساتھی انہیں تنہا چھوڑ کر منتشر ہو گئے۔ محمد بن ابیبکر نے ایک ویران جگہ میں پناہ لی، مگر معاویہ بن حدیج نے انہیں وہاں تلاش کر لیا، انہیں نہایت بے دردی سے شہید کیا اور ان کے جسدِ مبارک کو جلا دیا۔[۵]
محمد بن ابی بکر کی شہادت پر امیرالمومنین علیہالسلام کا غم
جب محمد بن ابی بکر کی شہادت کی خبر امیرالمومنین علیہالسلام تک پہنچی تو آپ علیہالسلام نے نہایت رنج و الم کے ساتھ فرمایا:
محمد کی شہادت پر ہمارا غم اتنا ہی ہے جتنی شامیوں کو اس کی موت پر خوشی ہوئی ہے؛ فرق صرف یہ ہے کہ ان کا ایک دشمن کم ہوا ہے اور ہم نے اپنا ایک مخلص دوست کھو دیا ہے۔[۶]
مالک بن جون حضرمی روایت کرتے ہیں کہ امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
خدا محمد بن ابی بکر پر رحمت نازل فرمائے۔ وہ اگرچہ عمر میں جوان تھے، لیکن میں نے ارادہ کیا تھا کہ مصر کی حکومت ہاشم بن عتبہ (مرقال) کے سپرد کروں۔ اللہ کی قسم! اگر وہ مصر کے گورنر ہوتے تو عمرو بن عاص اور اس کے ساتھیوں کو ہرگز کامیابی نہ ملتی، اور وہ اس وقت تک شہید نہ ہوتے جب تک ان کے ہاتھ میں تلوار رہتی۔
اس کے بعد امیرالمومنین عليہ السلام نے واضح فرمایا:
یہ بات محمد بن ابیبکر کی مذمت کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی پوری طاقت اور اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کی اور کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔
جب امیرالمومنین عليہ السلام سے پوچھا گیا:
یا امیرالمومنین! آپ ان کی شہادت پر اس قدر غمگین کیوں ہیں؟
تو آپ علیہالسلام نے فرمایا:
میں غمگین کیوں نہ ہوں؟ وہ میری آغوش میں پرورش پائے تھے، میرے فرزندوں کے لیے بھائی کی مانند تھے، میں ان کے لیے باپ کی حیثیت رکھتا تھا اور انہیں اپنے بیٹے کی طرح سمجھتا تھا۔[۷]
امیرالمومنین علیہالسلام کی نگاہ میں محمد بن ابی بکر کا مقام
امیرالمومنین علیہالسلام نے عبداللہ بن عباس کے نام ایک مکتوب میں محمد بن ابی بکر کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اعلیٰ اخلاق، وفاداری اور خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا:
مصر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا اور اس کا گورنر محمد بن ابیبکر ـ خدا ان پر رحمت فرمائے ـ شہید ہو گیا۔ اللہ کے حضور ہم انہیں ایک خیر خواہ فرزند، محنتی کارگزار، تیز دھار تلوار اور مضبوط دفاعی ستون سمجھتے ہیں۔
مزید فرمایا:
میں مسلسل لوگوں کو ان کی مدد کے لیے بلاتا رہا اور انہیں ان حوادث سے پہلے مصر پہنچنے کا حکم دیتا رہا، لیکن بعض لوگ بے دلی سے آئے، بعض نے جھوٹے بہانے بنائے اور بعض اپنی جگہ بیٹھے رہے۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے جلد ایسے لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے راہِ خدا میں شہادت کی آرزو نہ ہوتی اور میں موت کے لیے آمادہ نہ ہوتا تو میں ایک دن بھی ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا پسند نہ کرتا۔[۸]
مآخذ
[1] سید رضی، نهج البلاغه، خطبۀ ۶۷، ترجمۀ محمد دشتی، قم، انتشارات مشهور، ۱۳۸۰ش
[2] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۵۸۲
[3] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۵۸۵
[4] وقعه الجمل، جلد ۱، صفحۀ ۸۹
[5] ابن شبه، عمر بن شبه، تاریخ مدینه المنوره، ج۴، ص۱۲۸۵
[6] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۵۹۰؛ نهج البلاغه، جلد ۱، صفحۀ ۵۳۲
[7] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۵۶۶
[8] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۵۹۲