جنگ نہروان ۹ صفر ۳۷ ہجری کو پیش آئی۔ یہ جنگ امیرالمومنین علیہ السلام کے عہدِ حکومت کے اہم ترین معرکوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنگِ صفین کے بعد خوارج نے دین کی غلط تعبیر اختیار کی۔ انہوں نے امیرالمومنین علیہالسلام اور آپ کے پیروکاروں کو کافر قرار دیا۔ انہوں نے امیرالمومنین علیہالسلام اور آپ علیہالسلام کے پیروکاروں کے خلاف جنگ کو بھی واجب سمجھا۔ یہ معرکہ انتہا پسند گروہوں کے خلاف امیرالمومنین علیہالسلام کے مضبوط اور دوٹوک موقف کی روشن مثال ہے۔ آپ علیہالسلام نے دین کی غلط تشریح کے ذریعے امتِ مسلمہ میں فتنہ و انتشار پھیلانے والوں کا مقابلہ کیا۔
خوارج کا ظہور
خوارج، جنگ صفین میں امیرالمومنین علیہ السلام کے لشکر کا وہ گروہ تھا جس نے بعد میں آپ علیہالسلام پر کفر کا الزام لگایا۔ آپ علیہالسلام کے خلاف بغاوت کر دی۔ امام برحق کے خلاف خروج کرنے کی وجہ سے انہیں ’’خوارج‘‘ کہا گیا۔
خوارج کا نعرہ
’’لَا حُكْمَ إِلَّا لِلّٰهِ‘‘ خوارج کا مشہور نعرہ تھا، مگر امیرالمومنین علیہ السلام نے اس کے فریب پر مبنی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
یہ حق بات ہے، مگر اس سے باطل مقصد لیا جا رہا ہے۔[۱]
مولائے متقیان علیہ السلام پر کفر کا الزام
خوارج نے حکمیت کے فیصلے کو سختی سے رد کیا اور امیرالمومنین علیہ السلام کو کافر قرار دیا۔
جب امیرالمومنین علیہ السلام نے عبداللہ بن عباس کو ان سے گفتگو کے لیے بھیجا تو انہوں نے پوچھا:
تم امیرالمومنین علیہ السلام سے کیوں ناراض ہو؟
انہوں نے جواب دیا:
وہ امیرالمومنین تھے، مگر جب انہوں نے اللہ کے دین میں حکمیت قبول کی تو ایمان سے خارج ہو گئے۔ پہلے وہ اپنے کفر کا اقرار کریں، پھر ہم ان کے ساتھ ہوں گے۔
اس پر ابن عباس نے فرمایا:
جو شخص ایمان رکھتا ہو اور اس کے ایمان میں شک داخل نہ ہوا ہو، اس کے لیے کفر کا اقرار کرنا جائز نہیں۔[۲]
جنگ سے پہلے کی پیش گوئی
جنگ سے قبل خوارج نہرِ نہروان کی طرف بڑھے، مگر امیرالمومنین علیہ السلام نے ان کے انجام کے بارے میں ایسی پیش گوئی فرمائی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ جب بعض ساتھیوں نے آ کر اطلاع دی کہ خوارج نہر عبور کر چکے ہیں، تو امیرالمومنین علیہ السلام نے قسم کھا کر فرمایا کہ وہ ہرگز نہر پار نہیں کر سکتے اور ان کی ہلاکت اُسی جانب مقدر ہے۔ بعد میں جب لشکر وہاں پہنچا تو معاملہ بالکل ویسا ہی نکلا جیسا آپ نے فرمایا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر ایک نوجوان، جو پہلے شک میں مبتلا تھا، توبہ کرتے ہوئے عرض کرنے لگا:
یا امیرالمومنین! میں پہلے آپ کے بارے میں شک رکھتا تھا، اب اللہ اور آپ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ ہی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے، اسی سے مغفرت طلب کرو۔[۳]
جنگِ نہروان کی حکمت عملی
امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ جب تک دشمن حملہ نہ کرے، جنگ کا آغاز نہ کیا جائے۔ جب خوارج کے ایک جنگجو نے حملہ کرکے آپ کے تین ساتھیوں کو شہید کر دیا تو امیرالمومنین علیہالسلام خود میدان میں اترے۔ آپ علیہالسلام نے اسے ہلاک کیا اور پھر اپنے لشکر سے فرمایا:
اب حملہ کرو، اللہ کی قسم! تم میں سے دس سے زیادہ شہید نہیں ہوں گے اور خوارج میں سے دس سے زیادہ زندہ نہیں بچیں گے۔
جنگ کے اختتام پر یہی پیش گوئی درست ثابت ہوئی: امیرالمومنین علیہ السلام کے لشکر سے صرف نو افراد شہید ہوئے جبکہ خوارج میں سے صرف آٹھ افراد زندہ بچے۔ [۴]
میں نے فتنہ کی آنکھ پھوڑ دی
زر بن حبیش روایت کرتے ہیں کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:
میں نے فتنہ کی جڑ کاٹ دی۔ اگر میں نہ ہوتا تو کوئی بھی اہلِ نہروان اور اصحابِ جمل سے جنگ نہ کرتا۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم عمل میں سستی اختیار کرو گے، تو میں تمہیں وہ فضیلت بھی بیان کرتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے جنگ کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمائی تھی۔[۵]
خوارج کے بارے میں ہدایت
اگرچہ جنگِ نہروان میں خوارج کو شکست ہوئی، لیکن وہ ایک فکری اور سیاسی گروہ کے طور پر باقی رہے۔ اس کے باوجود امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والوں کو ان کے خلاف جنگ سے منع فرمایا۔
آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
میرے بعد خوارج سے جنگ نہ کرنا، کیونکہ جو شخص حق کا طالب ہو مگر اس تک پہنچنے میں خطا کر بیٹھے، وہ اس شخص کی مانند نہیں جو باطل کا طالب ہو اور اسے پا لے۔[۶]
مآخذ
[۱] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۳۸۶
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۳۴۶
[۳] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۳۴۶
[۴] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۳۴۶
[۵] بحار الانوار، جلد ۳۳، صفحۀ ۳۵۶
[۶] نهج البلاغه، جلد ۱، صفحۀ ۹۴