علی علیہالسلام: رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے بعد ہادی امت
اس نورانی فرمان میں رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے امت کی ہدایت کے راستے میں اہل بیت علیہمالسلام کے مقام کو واضح فرمایا ہے:
آپ صلیاللہعلیہوآلہ خود اللہ کے عذاب سے آگاہ کرنے والے اور ڈرانے والے ہیں۔ امیرالمومنین علی علیہالسلام آپ کے بعد ہدایت کے رہبر ہیں۔ امام حسن علیہالسلام اللہ کی عطا کردہ احسان و کرامت کا مظہر ہیں۔ اور امام حسین علیہالسلام سعادت و شقاوت کا معیار ہیں۔
یعنی انسان کی کامیابی یا بدبختی کا تعلق امام حسین علیہالسلام کے ساتھ اس کے تعلق سے ہے۔ پس امیرالمومنین علی علیہالسلام ہی وہ ہادی ہیں جن کی طرف آیت کریمہ میں اشارہ ہے۔ حقیقی ہدایت ان کی ولایت کے راستے کے بغیر ممکن نہیں۔
حسین علیہالسلام: جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ
پھر رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے تاکید فرمائی:
حسین جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں؛ جو شخص ان سے دشمنی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کر دے گا۔
یعنی جس طرح ہدایت تک پہنچنے کا راستہ امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت سے گزرتا ہے۔ اسی طرح حقیقی سعادت کا راستہ بھی امام حسین علیہالسلام کی محبت اور ولایت سے وابستہ ہے۔ اس کے برخلاف، ان سے دشمنی انسان کو جنت کی رحمتوں سے محروم کر دیتی ہے۔
سعادت و شقاوت: امام حسین علیہالسلام کے ساتھ تعلق کا نتیجہ
اس روایت پر غور کرنے سے ایک عظیم حقیقت سامنے آتی ہے۔ انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی یا ناکامی کا تعلق امام حسین علیہالسلام کے مقابلے میں اس کے رویے سے ہے۔یہ تعلق محبت، نصرت، مصائبِ امام حسین علیہالسلام پر گریہ و عزاداری اور دشمنانِ اہلبیت سے بیزاری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے راستے کی پیروی بھی اس تعلق اور وفاداری کا اہم مظہر ہے۔ جو شخص اس راستے پر ثابت قدم رہے، امام حسین علیہالسلام اسے سعادت کی منزل تک پہنچاتے ہیں۔ جو اس راہ سے منہ موڑے، اس کا انجام محرومی اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں۔
علی علیہالسلام: نور ہدایت، حسین علیہالسلام: دروازۂ نجات
امیرالمومنین علی علیہالسلام ہادی امت اور رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے بعد رہبر ہدایت ہیں، جبکہ امام حسین علیہالسلام جنت کے ان دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے سعادت کے طلبگاروں کے لیے کھولا ہے۔ آج بھی ہر وہ دل جو حسین علیہالسلام کی بارگاہ کی طرف گریہ کرتے ہوئے متوجہ ہوتا ہے، رحمت الٰہی کے ایک دروازے کو کھلا پاتا ہے؛ اور جو شخص نام حسین علیہالسلام سے دشمنی رکھتا ہے، وہ خود کو اللہ کی رحمت کے نسیم سے دور کر لیتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی سعادت امام حسین علیہالسلام سے وابستہ ہو گئی، اور افسوس ہے ان لوگوں پر جن کے لیے حسین علیہ السلام بدبختی کا معیار بن گئے۔
مآخذ
مائة منقبة، ج۱، ص۲۲