واقعہ کچھ یوں ہے…
عبدالرحمن بن سالم ایک فقیہ سے نقل کرتے ہیں کہ:
امیرالمومنین حضرت علی علیہالسلام نے اس آیتِ کریمہ کی تلاوت فرمائی، پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا:
"کیا تم جانتے ہو کہ اولیائے خدا کون ہیں؟”
اصحاب نے عرض کیا:
"اے امیرالمومنین علیہالسلام! آپ ہی بیان فرمائیے کہ وہ کون ہیں؟”
امام علیہالسلام نے فرمایا:
"اولیائے خدا ہم ہیں اور ہمارے پیروکار ہیں…”
پھر فرمایا:
"طوبىٰ لنا و طوبىٰ لهم، أفضلُ مِن طوبىٰ لنا”
یعنی: "خوش نصیبی ہے ہمارے لیے اور خوش نصیبی ہے ان کے لیے، لیکن ان کی خوش نصیبی ہماری خوش نصیبی سے بھی بڑھ کر ہے!”
یہ سن کر سوال پیدا ہوا:
"اے امیرالمومنین علیہالسلام! کیا ہم اور وہ ایک ہی راستے پر نہیں ہیں؟ پھر ان کی سعادت ہم سے زیادہ کیوں ہے؟”
حضرت نے ایک گہرا اور حکمت بھرا جواب عطا فرمایا:
"اس لیے کہ انہوں نے ایسے بوجھ اٹھائے جنہیں تم نے نہیں اٹھائے، اور ایسی آزمائشوں پر صبر کیا جن پر تم صبر نہ کر سکے۔”
اس آیت کا کامل نمونہ: امام حسین علیہالسلام
اولیائے خدا کے کامل ترین مصادیق میں سے ایک حضرت امام حسین علیہالسلام کی ذاتِ مبارک ہے، جن کی زندگی میں اس آیتِ الٰہی کا عظیم جلوہ نمایاں نظر آتا ہے۔
اس آیت کے دو پہلو ہیں:
۱۔ دنیا میں جلوہ (واقعۂ عاشورا)
روزِ عاشورا امام حسین علیہالسلام یقین، صبر اور اطمینان کے اس بلند مقام پر فائز تھے کہ کوئی مصیبت، کوئی بلا اور کوئی خطرہ آپ کے عزم کو متزلزل نہ کر سکا اور نہ ہی آپ کو راہِ حق سے ہٹا سکا۔
۲۔ آخرت میں جلوہ (جنت)
وہ مقام جہاں خوف و حزن کا کوئی وجود نہیں، بلکہ ہر طرف امن، خوشی، سرور اور دائمی اطمینان ہے۔
خلاصۂ کلام
اولیائے خدا وہ ہیں جو دنیا میں غیرِ خدا سے خوف زدہ نہیں ہوتے اور آخرت میں کسی غم و حزن سے دوچار نہیں ہوں گے۔
اور وہ بندے جو معصومین علیہمالسلام کے بعد ان کے راستے پر چلتے ہیں، ان کی سعادت ایک خاص پہلو سے بلند تر ہے؛ کیونکہ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود عظیم آزمائشوں کا بوجھ اٹھایا اور ایمان، صبر اور وفاداری کے ساتھ اس راہ کو جاری رکھا۔
اے اللہ! ہمیں امیرالمومنین علیہالسلام اور ان کی معصوم اولاد علیہمالسلام کے سچے پیروکاروں میں قرار دے۔
مآخذ
تفسیر عیاشی، ج ۲، ص ۱۲۴