شبِ عاشورا؛ بیٹے نے بابا کو وداع کیا
امام سجاد علیہ السلام بیمار تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے یہ شعر پڑھا: "اے زمانے! تجھ پر افسوس، تو کتنا برا دوست ہے…” امام سجاد علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ آخری وداع ہے، آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے، مگر صبر کا دامن نہ چھوڑا ۔
(بحارالانوار، ج ۴۵، ص ۱)
روزِ عاشورا بیٹے کی بابا سے آخری ملاقات
عاشورا کے آخری لمحات میں امام سجاد علیہ السلام نے چچا حضرت عباس، بھائی حضرت علی اکبر اور دیگر اصحاب کے حالات دریافت کیے۔ جب معلوم ہوا کہ سب شہید ہو چکے ہیں تو آپ نے تلوار لے کر والدِ گرامی کا دفاع کرنا چاہا، مگر امام حسین علیہ السلام نے روک دیا۔
(بحارالانوار، ج ۴۵، ص ۴۶)
عاشورا کے دن بیماری کی شدت
امام سجاد علیہ السلام کی بیماری عاشورا کے دن اس قدر شدید تھی کہ آپ بیٹھنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے تھے۔ بعض روایات میں اس بیماری کا سبب زرہ سے لگنے والی چوٹ کو بیان کیا گیا ہے۔
(بحارالانوار، ج ۴۴، ص ۲۹۸؛ ج ۴۵، ص ۱)
خون آلود آغوشِ پدر
امام حسین علیہ السلام کے جسمِ مبارک سے خون جاری تھا، آپ نے اپنے فرزند امام سجاد علیہ السلام کو سینے سے لگایا اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سکھائی ہوئی دعا انہیں تعلیم فرمائی۔
(بحارالانوار، ج ۴۵، ص ۵۴)
اسیری اور بازارِ شام
بازارِ شام میں منہال بن عمرو کے سوال کے جواب میں امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: "ہم اس امت میں بنی اسرائیل کی طرح فرعونیوں کے ہاتھوں گرفتار ہیں؛ ہمارے مرد قتل کر دیے گئے اور ہماری عورتوں کو اسیر بنایا گیا۔”
(بحارالانوار، ج ۴۵، ص ۸۴ و ۱۴۳)
زنجیروں میں جکڑا خطیبِ مسجدِ اموی
ہاتھوں میں زنجیریں ہونے کے باوجود امام سجاد علیہ السلام نے مسجدِ اموی میں ایسا ولولہ انگیز خطبہ دیا کہ یزید کی حقیقت آشکار ہوگئی اور اہلِ شام میں افسردگی و ندامت کی کیفیت پیدا ہوئی۔
(بحارالانوار، ج ۴۵، ص ۱۳۱ و ۱۴۰)
مدینہ کی گلیوں میں کربلا کا نوحہ
مدینہ پہنچ کر امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: "اباعبداللہ الحسین علیہالسلام اور ان کے اہلِ بیت کو شہید کر دیا گیا، ان کے سرِ مقدس کو نیزوں پر بلند کیا گیا… گویا ہم اہلِ ترکستان یا اہل کابل ہوں!”
(لہوف سید بن طاووس، ص ۲۳۷)
زہر کے ذریعے شہادت (۹۴ یا ۹۵ ہجری)
سالہا سال ظلم و مصائب برداشت کرنے کے بعد، امام سجاد علیہ السلام کو ولید بن عبدالملک یا بعض روایات کے مطابق ہشام کے دورِ حکومت میں زہر دے کر شہید کیا گیا۔
(بحارالانوار، ج ۴۶، ص ۱۵۲)
بقیع میں غریبانہ تدفین امام سجاد علیہ السلام کا جسد مطہر جنت البقیع میں اپنے چچا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے جوار میں سپردِ خاک کیا گیا۔ بعد میں آپ کے مزار کو وہابیوں نے منہدم کر دیا۔
(بحارالانوار، ج ۴۶، ص ۱۵۱)
امام کی جدائی میں وفادار اونٹ کا غم
حضرت امام سجاد علیہ السلام کا وفادار اونٹ، جو بغیر کسی تازیانے کے ۲۲ مرتبہ آپ کے ساتھ حج پر گیا تھا، آپ کی وفات کے بعد قبر پر آ کر گر پڑا اور اس نے تین دن کے بعد غم و حزن کی شدت سے جان دے دی۔
(بحارالانوار، ج ۴۶، ص ۱۴۷)