سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

زمین کبھی بھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی امام سجاد علیہ‌السلام کی روایت کی روشنی میں

حضرت أمیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: زمین کبھی بھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی۔

امام سجاد علیہ السلام سے سوال

ابوخالد کابلی کہتے ہیں: میں امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "اے فرزندِ رسولِ! رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کے بعد وہ کون حضرات ہیں جن کی اطاعت اور محبت کو اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور جن کی پیروی بندوں پر لازم کی ہے؟”

امام سجاد علیہ السلام کا جواب

امام علیہ‌السلام نے فرمایا: "سب سے پہلے امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں، پھر امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام ، اور ان کے بعد امامت ہم تک پہنچی۔” اگرچہ امام علیہ‌السلام نے یہاں اپنا نام نہیں لیا، لیکن واضح تھا کہ مراد اپنی ہی امامت تھی۔

حجتِ خدا کے بارے میں سوال

ابوخالد نے عرض کی: "امیرالمؤمنین علیہ‌السلام سے روایت ہے کہ زمین کبھی بھی اللہ کی حجت سے خالی نہیں رہتی۔” "آپ علیہ‌السلام کے بعد حجتِ خدا اور امام کون ہوں گے؟” یہ سوال راوی کی امامت کے بارے میں گہری معرفت کی علامت تھا۔

امام محمد باقر علیہ‌السلام کا تعارف

امام علیہ‌السلام نے فرمایا: "میرے بعد میرا بیٹا محمد ہوگا، جس کا نام تورات میں ‘باقر’ درج ہے۔” "وہ علم کو شکافتہ کرنے والا ہے اور میرے بعد اللہ کی حجت اور امام ہوگا۔” یہ اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ائمہ علیہم‌السلام کے نام سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی مذکور تھے۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام کا تعارف

"امام محمد باقر علیہ‌السلام کے بعد ان کے فرزند جعفر صادق علیہ‌السلام امام ہیں، جنہیں اہلِ آسمان ‘صادق’ کے لقب سے پکارتے ہیں۔” ابوخالد نے عرض کی: "جبکہ آپ سب سچے ہیں، پھر صرف انہیں ‘صادق’ کیوں کہا گیا؟” تو امام علیہ‌السلام نے اس لقب کا راز بیان فرمایا۔

جعفر کذّاب کے بارے میں رسول خداؐ کی پیشینگوئی

امام علیہ‌السلام نے فرمایا کہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے فرمایا: "جب میرے فرزند جعفر بن محمد پیدا ہوں تو انہیں ‘صادق’ کہو۔” "کیونکہ ان کی نسل میں ایک ایسا شخص ہوگا جو انہی کے نام کا ہوگا اور جھوٹا دعویٰٔ امامت کرے گا۔” "وہ جعفر کذّاب ہے، جسے دنیا کی حرص اور حسد خیانت کی طرف لے جائے گا۔”

ولیِ خدا کی غیبت پر گریہ

اس موقع پر امام سجاد علیہ‌السلام شدت سے گریہ کرنے لگے اور فرمایا: "گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ جعفر کذّاب اپنے زمانے کے ظالم حاکم کو اللہ کے ولی کی تلاش پر آمادہ کرے گا تاکہ اسے قتل کرے اور اس کی میراث پر قبضہ کرے۔” یہ گریہ حضرت ولی عصر عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف کی غیبت اور مظلومیت پر تھا۔

طویل غیبت

ابوخالد نے پوچھا: "اس کے بعد کیا ہوگا؟” امام علیہ‌السلام نے فرمایا: "اللہ کے ولی، رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے بارہویں وصی کے لیے ایک طویل غیبت ہوگی۔” "جو لوگ اس غیبت کے زمانے میں ان کی امامت پر ایمان رکھیں گے اور ان کے ظہور کے منتظر ہوں گے، وہ تمام زمانوں کے لوگوں سے افضل ہوں گے۔”

منتظرین کی فضیلت

امام علیہ‌السلام نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ انہیں ایسی عقل اور معرفت عطا فرمائے گا کہ ان کے لیے غیبت، حضور کی مانند ہوگی۔” "وہ ایسے مجاہدین کی طرح ہوں گے جنہوں نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے ساتھ تلوار کے ذریعے جہاد کیا ہو۔” آخر میں فرمایا: "انتظارِ فرج ہی سب سے بڑی گشائش اور فرج ہے۔”

مآخذ
کمال‌الدین و تمام النعمة، ج ۱، ص ۳۱۹

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے