معتبر تاریخی دستاویزی رپورٹوں کے مطابق، صلح حدیبیہ کے موقع پر امیرالمومنین علیہالسلام کو رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی طرف سے صلح نامے کے نکات و مفادات تحریر کرنے کی ذمہ داری (مأموریت) سونپی گئی تھی۔
معاہدہ لکھتے وقت مشرکین کا اعتراض
حضرت امام جعفر صادق علیہالسلام نے صلحِ حدیبیہ کے پس منظر میں ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے:
"حفص بن احنف اور سہیل بن عمرو رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے پاس واپس آئے اور کہنے لگے:
‘اے محمد! قریش نے آپ کی یہ شرط قبول کر لی ہے کہ دینِ اسلام (کی تبلیغ و پیروی) آزاد ہوگی اور کسی کو بھی اس کے دین پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔’
یہ سن کر رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے قلم اور دوات طلب فرمائی اور امیرالمومنین علیہالسلام کو صلح نامہ لکھنے کے لیے آواز دی۔”
امیرالمومنین علیہالسلام نے لکھنا شروع کیا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ»
سہیل بن عمرو نے (فوری طور پر اعتراض کرتے ہوئے) کہا:
"ہم ‘رحمن’ نام کے کسی خدا کو نہیں جانتے۔ اپنے آباء و اجداد کی روش کے مطابق ‘بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ’ لکھو۔”
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
"اے علی! ‘بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ’ ہی لکھ دو؛ کیونکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔”
اس کے بعد امیرالمومنین علیہالسلام نے لکھا:
"یہ وہ عہد نامہ ہے جو اللہ کے رسول محمد اور رؤسائے قریش کے درمیان طے پایا ہے۔”
سہیل بن عمرو نے دوبارہ اصرار اور اعتراض کرتے ہوئے کہا:
"اگر ہم یہ تسلیم کرتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، تو ہم آپ سے جنگ ہی کیوں کرتے؟ پس یوں لکھیں: ‘یہ عہد نامہ محمد بن عبداللہ اور قریش کے درمیان ہے۔’
اے محمد! کیا آپ کو اپنے نسب (شجرہ) سے شرم آتی ہے؟”
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے ارشاد فرمایا:
"میں اللہ کا رسول ہوں، خواہ تم اس کا اقرار نہ بھی کرو۔” پھر آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا: "اے علی! اس (رسول اللہ) کو مٹا دو اور لکھو: محمد بن عبداللہ۔”
امیرالمومنین علیہالسلام نے نہایت عقیدت اور جلالِ امامت کے ساتھ عرض کیا:
"خدا کی قسم! میں اپنے ہاتھوں سے کبھی بھی آپ کا نام مبارک منصب نبوت سے حذف (پاک) نہیں کروں گا۔”
چنانچہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے خود اپنے دستِ مبارک سے لفظِ "رسول اللہ” کو مٹایا۔
پھر امیرالمومنین علیہالسلام نے صلح نامے کی باقی شروط اس طرح تحریر فرمائیں:
"یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد بن عبداللہ، رؤسائے قریش اور سہیل بن عمرو کے درمیان طے پایا ہے۔
ان فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ۱۰ سال تک ان کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوگی۔
وہ ایک دوسرے پر دست درازی نہیں کریں گے، چوری اور لوٹ مار سے گریز کریں گے،
معاہدے کی شروط کے خلاف کسی قسم کی خیانت یا صلح نامے کو پامال کرنے کا ارادہ دل میں نہیں رکھیں گے۔
جو کوئی محمد صلیاللہعلیہوآلہ کے ساتھ ہم پیمان اور ہم دین ہونا چاہے، وہ آزاد ہے؛ اور جو کوئی قریش کے ساتھ ہم پیمان اور ہم عقیدہ ہونا چاہے، وہ بھی آزاد ہے۔
اگر قریش میں سے کوئی شخص اپنے ولی یا سرپرست کی اجازت کے بغیر محمد صلیاللہعلیہوآلہ کے ساتھیوں سے آ کر ملا، تو اسے واپس لوٹا دیا جائے گا؛
لیکن اگر محمد صلیاللہعلیہوآلہ کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص قریش سے جا ملا، تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔
مکہ میں اسلام (کی عبادات) علانیہ اور آزاد ہوں گی، لوگ اپنے دین کے معاملے میں خود مختار ہوں گے اور انہیں کسی قسم کی اذیت یا تحقیر کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
محمد صلیاللہعلیہوآلہ اور ان کے اصحاب اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹ جائیں گے، اور اگلے سال مکہ آئیں گے اور وہاں تین دن قیام کریں گے۔
وہ مکہ میں نیام میں لپٹی ہوئی مسافرانہ شمشیر کے علاوہ دیگر کوئی جنگی ہتھیار اپنے ساتھ نہیں لائیں گے۔”
علی بن ابیطالب (علیہالسلام) نے اس صلح نامے کو لکھا اور مہاجرین و انصار نے اس پر بطورِ گواہ دستخط کیے۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی غیبی پیشگوئی
صلح نامہ مکمل ہونے کے بعد، رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمومنین علیہالسلام کی طرف دیکھا اور فرمایا:
"اے علی! تم نے احترام کی وجہ سے میرا نام منصبِ نبوت سے مٹانے سے انکار کیا۔ اس پروردگار کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے!
تم پر بھی ایک ایسا وقت آئے گا جب تم مجبوراً اور انتہائی رنج و غم کے ساتھ، اسی جماعت (قریش و بنو امیہ) کی اولاد کے سامنے اسی طرح کی چیز (اپنا عنوانِ امارت حذف کرنے) پر تنِ تنہا راضی ہو گے۔۔۔”
سالہا سال بعد؛ صفین میں پیشگوئی کی تعبیر
[کئی سال گزرنے کے بعد] جب جنگ صفین کا موقع آیا اور دونوں فریقین (لشکر علی علیہالسلام اور لشکر معاویہ) حکمیت (ثالثی) پر راضی ہوئے، تو امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے معاہدہ لکھواتے ہوئے فرمایا:
"یہ وہ مکتوبِ معاہدہ ہے جو امیرالمومنین علی بن ابیطالب اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان طے پایا ہے۔”
(بنو امیہ کے نمائندے) عمرو بن عاص نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا:
"اگر ہم یہ مانتے کہ آپ ‘امیرالمومنین’ (مومنوں کے امیر) ہیں، تو ہم آپ کے خلاف تلوار ہی کیوں اٹھاتے۔
پس لکھیں: ‘یہ معاہدہ علی بن ابی طالب اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہے۔'”
اس نازک تاریخی لمحے میں، امیرالمومنین علیہالسلام نے سسکتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا:
"اللہ اور اس کے رسول (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے سچ فرمایا تھا؛ پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے مجھے اس دن کی پہلے ہی خبر دے دی تھی جب میں صلحِ حدیبیہ کا مکتوب لکھ رہا تھا۔”[۱]
مآخذ
[۱] تفسیر قمی، جلد ۲، صفحۀ ۳۱۲ / السیرة النبویه، جلد ۱، صفحۀ ۳۱۷ / الطبقات الکبری، جلد ۲، صفحۀ ۷۴