سوا لاکھ حاجیوں کا مجمع ہوا اور نبی صلیاللہعلیہوآلہ نے طویل ترین خطبہ دیا۔
آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا: "ایُّھَا النَّاسُ! کیا میں نے تمہیں توحید کا درس نہیں دیا؟ کیا میں نے تمہیں رسالت کا سبق نہیں پڑھایا؟ کیا میں نے تمہاری ہدایت نہیں کی؟ کیا میں نے تمہیں صراطِ مستقیم نہیں دکھائی؟ کیا میں نے تمہیں حق و باطل کا فرق نہیں سمجھایا
سب نے یک زبان ہو کر کہا: "بَلیٰ یَا رسُوْلَ اللّٰهِ!” ہاں یا رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ! آپ نے توحید کا پیغام بھی دیا، رسالت کا سبق بھی پڑھایا، ہماری ہدایت بھی کی، صراطِ مستقیم بھی دکھائی، خانۂِ کعبہ کی فضیلت بھی بتائی اور ہمیں قرآن بھی عطا کیا۔
جب پورا مجمع اقرار کر چکا اور پورے مجمعے سے یہ گواہی لے لی گئی، تو میرے نبی صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا: تو جس کے کہنے سے تم نے پورا دین مانا، اب اُس کے کہنے سے یہ بھی مان لو!
پھر آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے علی علیہالسلام کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ