حذیفہ بن یمان کہتے ہیں: خدا کی قسم! میں غدیر خم میں رسول اللہ صلیاللهعلیهوآله کے سامنے بیٹھا تھا، مجلس مہاجرین و انصار سے بھری ہوئی تھی۔
رسول خدا صلیاللهعلیهوآله کھڑے ہوئے اور فرمایا: "خداوند نے مجھے حکم دیا ہے: یا أَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ…” (مائدہ/۶۷)
پھر آپ نے علی علیہالسلام کو اپنے دائیں جانب بلایا اور لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: کیا میں تم پر تمھارے نفس سے زیادہ حق دار نہیں ہوں؟
صحابہ نے کہا: بالکل۔
پھر رسول اللہ صلیاللهعلیهوآله نے فرمایا: "جس کا میں مولی ہوں، علی اُس کے مولی ہیں۔ اے اللہ! جو علی کو دوست رکھے اسے دوست رکھ، جو ان کا دشمن ہو اس سے دشمنی رکھ، اُن کی مدد کرنے والے کی مدد فرما اور جو اسے تنہا چھوڑے، تو اُسے تنہا چھوڑ دے۔”
حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ کو دیکھا، وہ تکبر کے ساتھ کھڑا ہوا، دو بندوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر غصے میں باہر نکلا اور کہا: ہم محمد کے کلام کی تصدیق نہیں کرتے اور علی کی ولایت کبھی قبول نہیں کریں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: "فَلا صَدَّقَ وَ لا صَلَّى” (نہ اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی) "وَلَكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلَّى” (بلکہ جھوٹ بولا اور منہ موڑ لیا) "ثُمَّ ذَهَبَ إِلى أَهْلِهِ يَتَمَطَّى” (پھر تکبر کے ساتھ اپنے گھر والوں کی طرف گیا)۔ (قیامت/۳۱-۳۳)
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ چاہتے تھے کہ اسے واپس پلٹا کر قتل کر ڈالیں،لیکن جبرائیل نے فرمایا: "اے محمد! اس معاملے میں جلدی نہ کیجئے۔” پس حضور صلیاللهعلیہوآلہ پر سکون اور خاموش ہوگئے۔
ماخذ
شواہد التنزيل، قواعد التفضيل، ج۲، ص۳۹۱