خطبہ غدیر کے اختتام پر حضور نے فرمایا:
فَلْيُبَلِّغِ اَلْحَاضِرُ اَلْغَائِبَ، وَ اَلْوَالِدُ اَلْوَلَدَ إِلَى يَوْمِ اَلْقِيَامَةِ۔
جو یہاں موجود ہیں اور علی ابن ابی طالب کو میرا وصی دیکھ چکے ہیں، اب ان کی ذمہ داری ہے کہ جو موجود نہیں ہیں ان تک ولایت علی کو پہنچائیں۔ اور ہر باپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے آنے والی نسل تک پہنچائے، قیامت تک علی کی ولایت کو پہنچانا ضروری ہے۔
احتجاج، ج۱، ص۷۹
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم پریشانی کے اندر ہیں، علاج کیا ہے؟
حضور نے فرمایا: اَللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاَهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَ اُنْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ۔
پروردگار تو اس کی مدد کر جو علی کی مدد کرے۔ تو اگر کوئی علی کی مدد کے لیے قدم آگے بڑھاتا ہے، خدا اس کی مدد کرتا ہے اور مشکل کشائی کرے گا۔
تفسیر العیاشی، ج۱، ص۳۳۳