سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

دحوالارض

مولائے متقیان علیہ‌السلام کا فرمان "زمین کو میں نے ہی بچھایا"

پچیس ذی القعدہ کا دن تاریخ اسلام میں دحوالارض کے نام سے منسوب ہے۔ دحوالارض کے معنی زمین کو پھیلانے اور وسعت دینے کے ہیں، اور اصطلاح میں یہ وہ دن ہے جب زمین پانی کے اندر سے باہر آئی۔ بعض اہلِ علم نے اس سے مراد زمین کی خشکیوں کا پھیلاؤ لیا ہے، تو کچھ نے اسے زمین کی حرکت سے تعبیر کیا ہے۔

دحوالارض

ایک عام فکری روایت کے مطابق، ابتدا میں زمین کی پوری سطح پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ یہ کیفیت ابتدائی موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ پانی زمین کے نشیب و فراز میں جمع ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ خشکی کے حصے پانی کی سطح سے باہر آنے لگے۔

یہ خشکی بتدریج وسیع ہوتی گئی اور زمین پھیلتی چلی گئی۔ روایات کے مطابق، پانی کی سطح سے سب سے پہلے خانۂ کعبہ کا مقام ظاہر ہوا۔

دحوالارض کے معنی

لغت میں لفظِ دحو پھیلانے اور لڑھکانے کے معنی میں آتا ہے۔ تاہم اکثر مفسرین نے کلمہِ دحو کو وسعت دینے اور بچھانے کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔

یومِ دحوالارض کی مناسبت سے امیرالمومنین علیہ‌السلام کا ایک حکمت آمیزفرمان اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے۔

آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:

أنا دَحَوتُ أرضَها۔۔۔زمین کو میں نے ہی بچھایا اور اسے وسعت دی۔[۱]

روایات کے مطابق حضرت امیرالمومنین علی علیہ‌السلام نے مسجد جامع بصرہ میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:

اے مومنوں اور مسلمانوں کے گروہ! خدائے عزوجل نے اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا:

هو الاول (یعنی وہ ہر شے سے پہلے تھا) اور الآخر (یعنی سب کی فنا کے بعد وہی باقی رہے گا)

اور الظاهر (یعنی وہ ہر چیز پر غالب ہے) اور الباطن (یعنی اس کا علم ہر نہاں و پوشیدہ کو احاطہ کیے ہوئے ہے)۔

لوگو! مجھ سے پوچھ لو اس سے پہلے کہ تم مجھے تلاش کرو اور نہ پاؤ، میں ہی اول ہوں اور میں ہی آخر ہوں۔

اس خطبے کے اختتام تک اہلِ بصرہ زار و قطار رو رہے تھے اور آپ علیہ‌السلام پر درود و سلام بھیج رہے تھے۔

آپ نے مزید فرمایا:

زمین کو میں نے بچھایا، اس کے پہاڑوں کو میں نے ہی استوار کیا، اس کے چشموں کو میں نے ہی شق کیا اور اس کی نہروں کو میں نے ہی رواں کیا۔

اس کے درختوں کو میں نے اگایا اور پھلوں کو ذائقہ و لذت عطا کی، بادلوں کو میں نے خلق کیا،اس کو گرج دار بنایا اور اس کی بجلیوں کو چمکایا۔

سورج کو میں نے حدت دی، چاند کو میں نے ہی منور کر کے نکالا، باران رحمت کو میں نے برسایا، ستاروں کو ان کی منزلوں پر میں نے ہی متمکن کیا۔

میں ہی وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا بے کراں سمندر ہوں، میں نے ہی پہاڑوں کو قائم کیا، کشتیوں کو موجوں پر رواں کیا اور سورج کو اس کی تپش و تابش عطا کی۔

میں ہی جنب ‌الله، کلمة‌ الله اور قلب الله ہوں، میں وہ درِ مراد ہوں جہاں سے گزرے بغیر بارگاہِ الٰہی تک رسائی ممکن نہیں۔

اس دروازے سے سجدہ ریز ہوکر داخل ہوجاؤ، تاکہ میں تمہارے گناہ معاف کردوں اور نیکوکاروں کے اجر میں اضافہ کردوں۔

میری ہی ذات اور میرے ہی ہاتھوں پر قیامت برپا ہوگی، اور اہل باطل میرے بارے میں شک و شبہ کا شکار رہیں گے۔

حقیقت میں اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ہی ہوں، اور میں ہر شے کا مکمل علم رکھتا ہوں۔[۲]

مآخذ
[۱] بحار الانوار، جلد ۳۹، صفحہ ۳۴۸

[۲] بحار الانوار، جلد ۳۹، صفحہ ۳۴۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے