امیرالمومنین علیہالسلام کی ولایت کے دفاع کے باب میں موجود روایات میں سے ایک حدیثِ غدیر ہے ۔ ابن جزری، شافعی محدث اور فقیہ نے غدیر کے واقعے کے لیے سندوں کی تلاش میں ایک منفرد سند پائی، جسے وہ غدیر کی سب سے لطیف سند کہتے ہیں۔
یہ سند حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا سے شروع ہوتی ہے اور ائمہ کی بیٹیوں کے ذریعے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا تک پہنچتی ہے۔
مرحوم علامہ امینی نے اس روایت کو الغدیر (ج۱، ص۳۹۷) میں ابن جزری شافعی کی کتاب "أسنی المطالب” سے نقل کیا ہے:
(فاطمة و زينب و أمّ كلثوم بنات موسى بن جعفر، قلن: حدّثتنا فاطمة بنت جعفر بن محمد الصادق، حدّثتني فاطمة بنت محمد بن عليّ، حدّثتنا فاطمة بنت عليّ بن الحسين، حدّثتنا فاطمة و سكينة ابنتا الحسين بن عليّ، عن أمّ كلثوم بنت فاطمة بنت النبيّ، عن فاطمة بنت رسول اللّهصلّىاللّهعليه و رضيعنها- قالت:
أَنسيتُم قول رسول اللَّه (صلىاللهعليهوآله) يوم غدير خُم:
من كنتُ مولاه فعليٌّ مولاه، و قوله (صلىاللهعليهوآله): أنت منّي بمنزلة هارون من موسى)
ترجمہ:
حضرت فاطمہ معصومہ، امام کاظم علیہالسلام کی بیٹی نے، فاطمہ، امام صادق علیہالسلام کی بیٹی سے، انھوں نے فاطمہ، امام باقر علیہالسلام کی بیٹی سے، انھوں نے فاطمہ، امام سجاد علیہالسلام کی بیٹی سے، انھوں نے فاطمہ، امام حسین علیہالسلام کی بیٹی سے، انھوں نے ام کلثوم، امیرالمؤمنین علیہالسلام کی بیٹی سے اور انھوں نے حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ سے نقل کیا ہے کہ فرمایا:
کیا تم نے غدیر خم کے دن رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کے قول کو بھلا دیا کہ:
‘جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی علیہالسلام مولا ہیں.’
اور آنحضرت کا یہ قول جو انھوں نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کو مخاطب کرکے فرمایا:
آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہماالسلام سے تھی[۱]
حضرت فاطمہ معصومہ علیہاالسلام "حدیثِ فواطم” کی راوی ہیں۔
اس روایت میں، جو حضرت زہرا علیہاالسلام سے صادر ہوئی ہے، تمام راویوں کے نام "فاطمہ” ہیں اور سب ائمہ علیہمالسلام کی اولاد میں سے ہیں[۲]
مآخذ
[۱] أسنیالمطالب فی مناقب علیبنأبیطالب علیهالسلام، ابنجزری، ص۴۹
[۲] جامع المقال، ص۴