سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

تو نے بخٍّ کہا

فَقَالَ الثَّانِي: بَخٍ بَخٍ لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَى كُلِّ مُسْلِمٍ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْيَوْمَ: أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ

تو نے بخٍّ کہا مرحبا مرحبا
کہہ دیا تھا تو پھر اُس سے پھر کیوں گیا؟

جو کہا کر اُسے پھر نباھا بھی کر
گر منافق نہیں دو رخی چھوڑ دے

البدایة والنهایة، ابن کثیر دمشقی، ج۷، ص۳۵۰ / أسد الغابة، ابن اثیر جزری، ج۴، ص۱۰۲ / تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، ج۸، ص۲۸۹

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے