جب قیامت کا دن برپا ہوگا…
حضرت محسن علیہ السلام تشریف فرما ہوں گے، جبکہ ان کی دو بزرگ نانیاں، حضرت خدیجہ اور فاطمہ بنت اسد، انہیں اپنی آغوش میں لیے ہوں گی۔
ان کے ہمراہ اُمّ ہانی اور جمانہ، حضرت ابوطالب کی دو صاحبزادیاں اور حضرت محسن علیہ السلام کی دو پھوپھیاں، نیز اسماء بنت عمیس بھی ہوں گی۔
وہ سب غم سے نڈھال چہروں اور شکستہ دلوں کے ساتھ فریاد کرتی ہوئی آئیں گی اس حال میں کہ چہروں پر ہاتھ رکھے ہوں گے اور سوگ میں بال پریشان کیے ہوئے ہوں گے۔
فرشتے اپنے پروں سے انہیں گھیرے ہوئے ہوں گے اور ان پر سایہ کیے ہوں گے۔
اسی عالم میں داغِ مصیبت سے تڑپتی ماں، بی بی فاطمہ علیهاالسلام، اشکبار آنکھوں سے فریاد کریں گی:
«آج وہی وعدے کا دن ہے…»
جبرئیل علیہالسلام حضرت محسن علیہالسلام کی جانب سے پکاریں گے:
«میں مظلوم ہوں! اے میرے پروردگار، میری فریاد کو پہنچ!»
پھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ، محبت سے حضرت محسن علیہالسلام کو اپنے دستِ مبارک پر اٹھائیں گے اور فرمائیں گے:
«اے میرے معبود! اے میرے آقا! ہم نے دنیا میں تیری خاطر صبر کیا، اور آج وہ دن ہے جب ہر انسان یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے گناہوں کے درمیان ایک طویل فاصلہ ہوتا۔»
مآخذ
عوالم العلوم، ج ۱۱، ص ۹۴۳