مقتل ریاض القدس میں حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کی کیفیت میں یوں نقل ہوا ہے:
امام حسین علیہ السلام کا سرِ مبارک ایک طشت میں رکھ کر حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کے سامنے لایا گیا، جسے ایک کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔
حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: "یہ کیا ہے؟ میں نے تو کھانا نہیں مانگا تھا!”
انہوں نے کہا: "یہی وہ چیز ہے جس کی تمہیں طلب تھی تمہارے بابا کا سر۔”
یہ خبر سنتے ہی بچی نے سرِ مبارک کو آغوش میں لے لیا، بابا کے رخِ انور کو بوسوں سے نوازنے لگیں اور شدت غم سے اپنے سر و چہرے پر ماتم کرنے لگیں؛ یہاں تک کہ ان کا منہ خون سے بھر گیا۔
پھر گریہ کرتے ہوئے سرِ مبارک سے مخاطب ہو کر عرض کرتی ہیں: "اے بابا کس نے آپ کے خون سے غسل دیا؟” اے بابا "آپ کی گردن کی رگیں کس نے کاٹیں؟” "کاش! میری اتنی بینائی بھی باقی نہ ہوئی، کہ میں آپ کو اس حال میں دیکھتی۔” "کاش میں اس سے پہلے ہی خاک کی آغوش میں سو گئی ہوتی، تاکہ آپ کی ریشِ مبارک کو خون میں رنگین نہ دیکھتی۔”
پھر حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے اپنے خون آلود لبوں کو بابا کے خون آلود لبوں پر رکھ دیا، اور اس قدر آہ و فریاد اور گریہ کیا کہ اسی لمحے غم کی شدت سے بے ہوش ہو گئیں ۔
جب انہیں حرکت دی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ اسی حال میں اپنے بابا کے حضور جا پہنچی ہیں اور روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے ۔
مآخذ
مقتل ریاض القدس، ج ۲، ص ۵۱۰
الغمة فی معرفة الأئمة، ج۱، ص۵۳۷