شناخت نامہ
نام : رقیہ، فاطمہ، زینب
والد: امام حسین علیہ السلام
والدہ: جناب اُمِّ اسحاق سلام اللہ علیہا
مقامِ ولادت: مدینہ منورہ
کربلا میں عمر مبارک: تقریباً ۳ سال
تاریخِ شہادت: ۵ صفر ۶۱ ہجری
وقائع الشہور، ملا محمد باقر بیرجندی، ص ۴۷
حالات زندگی
مدینہ منورہ
کربلا (۳ سال کی عمر میں)
کوفہ (دورانِ اسارت)
شام (چالیس منزلوں کا کٹھن اور رنج بھرا سفر)
خرابۂ شام (شہادت)
کامل بہائی، عماد الدین طبری، ج ۲، ص ۱۷۹
زندگی کے تین اہم موڑ
۱۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام بارہا ان پر اپنی محبت و شفقت نچھاور فرماتے اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو ان کی نگہداشت اور دلجوئی کی تاکید فرماتے تھے۔
۲۔ سفرِ اسارت میں انہوں نے شام تک کا چالیس منزلوں پر مشتمل انتہائی تکلیف دہ سفر صبر و مصیبت کے ساتھ طے کیا۔
۳۔ شام میں جب خرابۂ شام میں اپنے بابا کا خون میں ڈوبا ہوا اور زخموں سے چور سرِ مبارک دیکھا، تو دلِ نازک پر ایسا صدمہ گزرا کہ بے اختیار گریہ و نالہ کرنے لگیں، یہاں تک کہ اسی غم میں بچی کا دم نکل گیا اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
کامل بہائی، عماد الدین طبری، ج ۲، ص ۱۷۹
قدیم مأخذ میں آپ کا تذکرہ
سیف بن عمیرہ نخعی کوفی کا مرثیہ (اصحابِ امام صادق اور امام کاظم علیہما السلام) وَ رُقَیَّةَ رَقَّ الْحَسُودُ لِضِلْعِهَا وَ غَدَا لِیَعْذُرَهَا الَّذِي لَمْ یَعْذِرِ "اور یاد کرو رقیہ بنت الحسین علیہمالسلام کو، جن کے شکستہ پہلو نے دشمن کے دلوں کو بھی نرم کر دیا؛ اور وہ شخص بھی آج ان کے عذر کو تسلیم کرنے لگا جو کل تک اسے قبول نہ کرتا تھا۔”
دائرۃ المعارفِ تشیع، زیرِ نظر: احمد صدر حاج سید جوادی و دیگر، ج ۸، ص ۳۱۳-۳۱۴
اَلسَّلَامُ عَلَیْکِ یَا سَیِّدَتِی یَا رُقَیَّةَ بِنْتَ الْحُسَیْنِ علیہا السلام ہر وہ دل جو زندہ ہے، آج آپ کی غربت پر اشکبار ہے