وہ خطبہ جس نے حقائق سے پردہ اٹھایا، یزیدی حکومت کے اصل چہرے کو آشکار کیا اور اہلِ بیت علیہمالسلام کے بلند و رفیع مقام کو بیان کرکے سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کر دیا۔ یزید کا ارادہ تھا کہ خاندانِ رسالت کو بدنام کیا جائے! چنانچہ اس نے حکم دیا کہ منبر اور خطیب کا انتظام کیا جائے تاکہ سیدالشہداء امام حسین علیہالسلام اور امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی شان میں گستاخی کی جائے۔
خطیب منبر پر گیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اس نے امیرالمؤمنین علی علیہالسلام اور سیدالشہداء علیہالسلام کی مذمت اور توہین شروع کر دی، جبکہ معاویہ اور یزید کی تعریف و تمجید کرنے لگا۔
اچانک اسیروں کے قافلے میں سے امام زینالعابدین علیہالسلام نے اسے پکار کر فرمایا: "اے خطیب! وائے ہو تجھ پر! تو نے مخلوق کی خوشنودی کو خالق کے غضب کے بدلے خرید لیا ہے۔ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ سمجھ لے۔”
پھر امام علیہالسلام نے یزید سے فرمایا: "اے یزید! مجھے اجازت دے کہ میں ان لکڑیوں پر چڑھوں اور ایسی باتیں بیان کروں جن میں اللہ کی رضا ہو۔”
یزید نے انکار کر دیا، لیکن لوگوں نے اصرار کیا: "اسے منبر پر جانے کی اجازت دو تاکہ ہم سنیں کہ یہ کیا کہتا ہے۔”
لوگوں کے اصرار نے آخرکار یزید کو مجبور کردیا اور اس نے امام علیہالسلام کو منبر پر جانے کی اجازت دے دی۔
امام سجاد علیہالسلام منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اور حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل بیان کرنے کے بعد جب امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کے فضائل بیان کرنے لگے تو فرمایا: "میں ہوں علیِ مرتضیٰ کا فرزند؛ میں ہوں اس ہستی کا بیٹا جس نے مشرکین سے جنگ کی یہاں تک کہ انہوں نے زبان سے لا إلہَ إلّا اللہ کہا۔ میں ہوں اس شخص کا بیٹا جس نے رسولِ خدا کے ہمراہ دو تلواروں اور دو نیزوں کے ساتھ جہاد کیا، جس نے دو مرتبہ ہجرت کی اور دو مرتبہ بیعت کی۔ وہ بدر اور حنین کے میدانوں میں لڑے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ کا انکار نہیں کیا۔”
امام زینالعابدین علیہالسلام مسلسل اپنا تعارف اور اہلِ بیت علیہمالسلام کے فضائل بیان فرماتے رہے، یہاں تک کہ لوگوں کی گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہو گئیں۔
یزید کو خوف ہوا کہ کہیں لوگوں میں بغاوت اور اعتراض کی کیفیت پیدا نہ ہو جائے، چنانچہ اس نے مؤذن کو حکم دیا کہ اذان دی جائے تاکہ لوگ امام سجاد علیہالسلام کی آواز سن نہ سکیں۔
امام سجاد علیہالسلام کی جانگداز شہادت کی مناسبت سے حضرت ولیعصر امام مہدی عجلاللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، تمام مسلمانوں اور بالخصوص محبان و پیروانِ اہلِ بیت علیہمالسلام کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
حوالہجات
بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۵، ص ۱۳۷
مقتل الحسین، خوارزمی، ج ۲، ص ۶۹
الفتوح، ابناعثم کوفی، ج ۲، ص ۱۳۲
المناقب، ابنشہر آشوب، ج ۴، ص ۱۶۸