مختلف کتب میں یہ روایت موجود ہیں کہ جب مولائے متقیان علیہالسلام کی ولایت، قیادت اور وراثت کا اعلان ہو گیا، تو اس کے بعد صحابہ کرام کو حکم دیا گیا کہ آئیں اور علی ابن ابی طالب علیہالسلام کے ہاتھوں پر بیعت کریں۔ جن مشہور شخصیات نے بیعت کی، ان میں سے ایک شخصیت خلیفہ ثانی کی ہے، جنہوں نے آکر یہ کہا: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَ أَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ اے ابو طالب علیہالسلام کے بیٹے! آپ علیہالسلام کو مبارک ہو، آج کے دن آپ ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت کے مولا بن گئے۔
البدایة والنهایة، ت شیری، ابن کثیر، ج۷، ص۳۸۶/ أسد الغابة، ابن اثیر، ج۴، ص۱۰۲/ تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، ج۸، ص۲۸۹/ المصنف، ابن ابی شیبہ، ت الشثري، ج۱۸، ص۷۴/ مسند احمد، امام احمد بن حنبل، ج۳۰، ص۴۳۰/ تاریخ دمشق، علامہ ابن عساکر، ج۴۲، ص۲۲۲/ فضائل الصحابہ، امام احمد بن حنبل، ج۲، ص۶۱۰/ جامع الأحادیث، السیوطی، مسند البراء بن عازب، ج۳۳، ص۳۶۳، ح۳۶۴۱۸