سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمومنین علیہ‌السلام کا مدفن نجف

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے محل دفن کے بارے میں روایات اور تاریخی مصادر

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے محل دفن کے بارے میں تاریخی مصادر میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں، لیکن شیعہ مسلمانوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ آپ علیہ‌السلام کی قبر مطہر نجف اشرف میں واقع ہے۔

اہل‌بیت علیہم‌السلام سے منقول معتبر روایات کے علاوہ بہت سے شیعہ اور سنی مؤرخین، علما اور دانشوروں نے بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ مولائے متقیان کی قبر مبارک نجف اشرف میں ہے۔

 مؤرخین اور دانشوروں کی روایات

خلیفہ بن خیاط لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام شعب بنی عبدالمطلب (مکہ) میں پیدا ہوئے۔ کوفہ میں شہید ہوئے اور آپ کے فرزند امام حسن علیہ‌السلام نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی پھر آپ کو کوفہ کی رحبہ میں دفن کیا گیا اور ایک قول کے مطابق نجف کی حیرہ میں دفن کیا گیا۔

احمد بن اسحاق بن واضح یعقوبی اپنی کتاب تاریخ یعقوبی میں لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام جمعے کی شب، ماہ رمضان کے آخری عشرے کی پہلی رات، سنہ ۴۰ ہجری میں ۶۳ سال کی عمر میں شہید ہوئے۔ امام حسن علیہ‌السلام نے آپ کو غسل دیا اور نماز جنازہ پڑھائی اور سات تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: میں اپنے والد کے بعد میں کسی پر ایسی تکبیریں نہیں کہوں گا، اس کے بعد آپ کو کوفہ میں ایک مقام جسے غَری کہا جاتا ہے، میں دفن کیا گیا۔

احمد بن اعثم کوفی اپنی کتاب الفتوح میں لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو رات کے وقت غَری نامی مقام پر دفن کیا گیا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کو اپنے گھر اور مسجد کے درمیان دفن کیا گیا، اللہ بہتر جانتا ہے۔

محمد بن علی شلمغانی نے سید بن طاووس سے نقل کیا ہے:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو کوفہ کے پیچھے دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنے فرزند امام حسن علیہ‌السلام کو وصیت فرمائی کہ جہاں تابوت ٹھہر جائے وہاں زمین کھود دینا، کیوں کہ وہاں ایک تیار قبر موجود ہے اور یہ وہی قبر ہے جسے حضرت نوح علیہ‌السلام نے کھودا تھا۔

مسعودی اپنی کتاب مروج الذهب میں لکھتے ہیں:

حضرت کے محل دفن کے بارے میں مختلف اقوال ہیں؛ بعض کا کہنا ہے کہ آپ کو کوفہ کے نزدیک غَری میں دفن کیا گیا، کچھ کہتے ہیں کہ مسجد کوفہ میں، بعض نے رحبہ یا قصر امارت کوفہ کا ذکر کیا ہے، اور بعض کا خیال ہے کہ آپ کو مدینہ منتقل کیا گیا اور حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ اس بارے میں دیگر روایات بھی نقل ہوئی ہیں۔

جغرافیہ دان اور سیاح ابوالقاسم محمد بن حوقل اپنی کتاب صورة الارض میں لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کوفہ میں ہے اور مسجد جامع کے ایک کنارے میں آپ کو دفن کیا گیا تھا، لیکن بنی امیہ کے خوف کی وجہ سے اسے مخفی رکھا گیا۔ اس جگہ ایک چارہ فروش کی دکان تھی، مگر ان کی اولاد میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ قبر وہی ہے جو آج کوفہ سے ایک فرسخ کے فاصلے پر پہچانی جاتی ہے۔

شیخ علی بن محمد خزاز قمی رازی اپنی کتاب کفایة الاثر میں طارق بن شہاب سے نقل کرتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام ۲۱ ماہ رمضان سنہ ۴۰ ہجری کی شب شہید ہوئے اور غَری میں دفن کیے گئے۔

مؤرخین کا محل قبر پر تأکید کرنا

شریف رضی لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے محل دفن کے بارے میں مختلف اقوال ہیں؛ بعض کہتے ہیں رحبہ میں دفن ہوئے، کچھ قصر امارت کوفہ کو مدفن قرار دیتے ہیں، اور بعض کے نزدیک آپ کو مدینہ منتقل کیا گیا۔ لیکن معتبر اور مقبول قول یہ ہے کہ آپ غَری میں، جو شہر کوفہ میں واقع ہے، دفن ہوئے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ امام صادق علیہ‌السلام نے اسی مقام پر آپ کی قبر کی زیارت کی، جب منصور دوانیقی کے زمانے میں اس مقام کی نشاندہی ہوئی۔

محمد بن علی ابن شہرآشوب نے غزالی سے نقل کیا ہے:

لوگوں کے قول کے مطابق امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو نجف میں دفن کیا گیا۔ روایت ہے کہ آپ کے جسد مبارک کو ایک اونٹ پر رکھا گیا۔ اونٹ چلتا ہوا ایک مقام پر جا کر رک گیا اور اسے آگے بڑھانے کی کوشش ناکام رہی، لہٰذا اسی جگہ آپ کو دفن کر دیا گیا۔

عبدالرحمن بن جوزی نقل کرتے ہیں:

شیخ ابو بکر بن عبدالباقی نے کہا کہ میں نے ابوغنائم بن نرسی سے سنا کہ کوفہ میں اہل سنت اور اہل حدیث کے نزدیک صحابہ کی کوئی قبر واضح طور پر معروف نہیں، سوائے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر کے۔

علماء کی روایات کے مطابق محل دفن

علی بن ابی بکر ہروی کہتے ہیں:

شہر نجف اپنے اندر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کا روضہ رکھتا ہے اور وہاں علویوں اور دیگر معزز افراد کی قبریں بھی موجود ہیں۔

شہاب الدین یاقوت حموی لکھتے ہیں:

حضرت کے محل دفن کے بارے میں اختلاف ہے؛ کچھ کہتے ہیں کہ ایک معروف مقام پر دفن ہوئے، بعض کہتے ہیں مسجد میں، کچھ رحبہ یا قصر امارت کوفہ میں، اور بعض کا خیال ہے کہ مدینہ منتقل کر کے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

ابن اثیر جزری لکھتے ہیں:

شہادت کے بعد بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد جامع میں دفن کیا گیا، بعض نے قصر امارت کوفہ کہا، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ قبر اسی جگہ ہے جہاں آج زیارت کی جاتی ہے۔

کمال الدین محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں:

آپ علیہ‌السلام کے جسد مبارک کو رات کے وقت غَری میں دفن کیا گیا۔ بعض نے کہا کہ گھر اور مسجد اعظم کے درمیان دفن ہوئے، اللہ بہتر جانتا ہے۔

سبط بن جوزی کہتے ہیں:

محل دفن کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر نجف میں اسی مقام پر ہے جہاں آج زیارت کی جاتی ہے۔

علی بن عیسی اربلی کہتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے غَری میں دفن ہونے کے بارے میں واضح اور کافی روایات موجود ہیں۔ تمام شیعہ اس بات پر متفق ہیں کہ آپ وہیں دفن ہوئے جہاں آج زیارت گاہ ہے، اور یہ روایات ائمہ معصومین اور گذشتہ بزرگوں سے نقل ہوئی ہیں۔ اگر کوئی اس سے اختلاف کرے تو اس سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

حافظ محب الدین احمد بن عبدالله طبری کہتے ہیں:

محل دفن کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض نے قصر امارت کوفہ کہا، بعض نے رحبہ اور بعض نے نجف حیرہ یا اس کے راستے کو بیان کیا۔

صفی الدین محمد بن علی بن طباطبا حسنی (ابن طقطقی) لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو رات کے وقت غَری میں دفن کیا گیا اور کچھ عرصہ بعد قبر ظاہر ہو گئی۔ یہی وہ مقام ہے جو آج زیارت گاہ ہے اور جہاں دنیا بھر سے لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں۔ اللہ نے انہیں اور ان کی اولاد کو پاک قرار دیا ہے۔

عماد الدین اسماعیل بن علی (ابوالفداء) لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر نجف کے قریب ایک عظیم اور محترم مقام پر واقع ہے جہاں دنیا کے مختلف علاقوں سے لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں۔

وہ مزید لکھتے ہیں:

محل قبر کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض نے مسجد جامع کے قبلے کے پاس یا قصر امارت کوفہ کہا، بعض نے کہا کہ امام حسن علیہ‌السلام انہیں مدینہ لے گئے اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پہلو میں دفن کیا۔ لیکن ابن اثیر اور دیگر علما کے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ قبر نجف میں اسی جگہ ہے جہاں آج زیارت کی جاتی ہے۔

جمال الدین یوسف بن زکی حلبی (حافظ مزی) کہتے ہیں:

محل دفن کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض نے قصر امارت کوفہ، بعض نے رحبہ اور بعض نے نجف حیرہ کے قریب بتایا ہے۔ یہ بھی روایت ہے کہ امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے فرمایا کہ قبر کا مقام مخفی تھا۔

حمدالله مستوفی قزوینی اپنی کتاب نزهة القلوب میں لکھتے ہیں:

کوفہ سے ایک فرسخ کے فاصلے پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کا مدفن ہے جسے غَری کہا جاتا ہے۔

ابراہیم بن محمد فارسی اصطخری لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر نجف کے قریب ہے۔ اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں؛ بعض کہتے ہیں مسجد جامع کے ایک گوشے میں ہے اور بنی امیہ کے خوف سے مخفی رکھی گئی تھی، جب کہ بعض کے مطابق یہ کوفہ سے تقریباً دو فرسخ کے فاصلے پر ہے جہاں قبروں کے آثار اور ایک چھوٹا پل موجود تھا۔

شیخ محب الدین محمد بن محمد بن شحنہ کہتے ہیں:

محل قبر کے بارے میں اختلاف ہے، مگر صحیح قول یہ ہے کہ وہ اسی جگہ دفن ہوئے جہاں آج نجف میں زیارت کی جاتی ہے۔

احمد بن علی قلقشندی لکھتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام ماہ رمضان سنہ ۴۰ ہجری کو عراق میں شہید ہوئے اور نجف میں دفن کیے گئے، اور یہی صحیح اور مشہور قول ہے۔

ابن عنبہ کہتے ہیں:

قبر کے مقام کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ وہ اسی جگہ دفن ہوئے جہاں آج زیارت کی جاتی ہے۔

ابن حجر عسقلانی روایت کرتے ہیں:

امام محمد باقر علیہ‌السلام نے فرمایا کہ قبر کا مقام مخفی تھا؛ بعض نے قصر امارت کوفہ، بعض نے رحبہ اور بعض نے نجف حیرہ کا ذکر کیا ہے۔

علی بن محمد مالکی (ابن صباغ) کہتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو رات کے وقت غَری میں دفن کیا گیا، اور یہی مقام آج نجف کے نام سے معروف ہے۔

شیخ بسنوی کہتے ہیں:

قبر کے مقام کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض نے مسجد کے قریب، بعض نے قصر امارت کوفہ، بعض نے کہا کہ وصیت کے مطابق مدینہ لے جا کر بقیع میں دفن کیا گیا، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ نجف میں اسی جگہ دفن ہوئے جہاں آج زیارت کی جاتی ہے۔

شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی کہتے ہیں:

غَری وہ مقام ہے جہاں ان کا روضہ واقع ہے اور وہیں انہیں دفن کیا گیا۔

محب الدین محمد مرتضی حسینی زبیدی کہتے ہیں:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر نجف کے قریب غَری کے علاقے میں واقع ہے۔

شیخ سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی نقل کرتے ہیں:

زین الدین ابورشید حافظ کے مطابق امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر امام جعفر صادق علیہ‌السلام کے زمانے تک مخفی رہی، پھر غَری کے مقام پر ظاہر ہوئی اور آج تک لوگ اس کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ یہ قبر ہر بے سہارا کے لیے پناہ گاہ ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ نقل شدہ روایات اور تاریخی اقوال کے مطابق امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مدفن کا مشترک اور متفقہ مقام غَری یعنی موجودہ نجف اشرف ہے۔[۱]

[۱] تاریخ المرقد العلوی المطهر سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے