سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Jannatul-Baqi-3

جنت البقیع: اہم اسلامی شخصیات کا مدفن

مدینہ منورہ میں جنت البقیع ایک اہم قبرستان ہے جہاں اسلام کی بہت سی بڑی اور قابل احترام شخصیات دفن ہیں۔

جنت البقیع؛ مدینہ منورہ کا تاریخی قبرستان

مدینہ منورہ میں جنت البقیع ایک اہم قبرستان ہے جہاں اسلام کی بہت سی بڑی اور قابل احترام شخصیات دفن ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں اسلام کے ابتدائی دور سے تعلق رکھنے والی ان شخصیات کی یادیں آج بھی محفوظ ہیں۔

جنہوں نے دینِ اسلام کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا اور مختلف مواقع پر اہم خدمات انجام دیں۔

محمد بن علی ابن حنفیہ

محمد بن علی المعروف ابن حنفیہ آپ صدر اسلام کی معروف شخصیات اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کے نامور فرزند ہیں۔

آپ قاسطین، مارقین اور ناکثین کے خلاف جنگوں میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کے ساتھ شریک رہے۔ آپ نے ۸۱ ہجری میں وفات پائی اور بقیع میں مدفون ہوئے۔

عثمان بن مظعون

عثمان بن مظعون آپ نبی کریم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے جلیل القدر صحابی ہیں اور آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر ایمان لانے والے تیرہویں فرد تھے۔

آپ نے دو بار حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ ہجرت کے بائیسویں مہینے میں وفات پائی۔ عثمان بن مظعون پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں وفات پا کر بقیع میں دفن ہوئے۔

سعد بن معاذ

سعد بن معاذ قبیلہ اوس کے بزرگ اور نبی کریم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ جنگ بدر میں انصار کے علم بردار تھے۔  جنگ خندق میں زخمی ہوئے اور شہادت کے قریب پہنچ گئے۔

بالآخر غزوہ بنی قریظہ کے موقعے پر وفات پاگئے۔ نبی کریم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انھیں بقیع میں فاطمہ بنت اسد سلام‌اللہ‌علیہا کی قبر کے قریب دفن کیا۔

حضرت ام البنین سلام‌اللہ‌علیہا

ام البنین سلام‌اللہ‌علیہا، امیرالمومنین علیہ‌السلام کی زوجہ تھیں۔ آپ کے چار بیٹے کربلا میں امام حسین علیہ‌السلام کے ساتھ شہید ہوئے۔ آپ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور بقیع میں مدفون ہوئیں۔

حلیمہ سعدیہ

حلیمہ سعدیہ، نبی کریم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی رضاعی والدہ تھیں، جو مدینے میں وفات کے بعد بقیع میں دفن ہوئیں۔

عقیل بن ابی طالب

عقیل ابن ابی طالب علیہ السلام، امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے برادرِ گرامی اور حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کے فرزند تھے۔ آپ حضرت علی علیہ السلام سے تقریباً بیس سال بڑے تھے۔

اسلام کی اشاعت میں آپ نے بے شمار فداکاریاں کیں اور بڑھاپے میں نابینا ہو گئے۔ واقعہ حرہ سے پہلے، معاویہ کے آخری دور یا یزید کے ابتدائی دور میں وفات پائی اور بقیع میں دفن ہوئے۔

جنت البقیع ان تمام شخصیات کی آخری آرام گاہ ہے۔ ان کی زندگیاں دین کی خدمت اور ثابت قدمی کی مثال ہیں۔

 تخریب و بازسازی بقیع به روایت اسناد

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے