سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

مولاۓ کائنات سے محبت

سلمان حکیم اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کی مثال؛ سورۂ توحید کی مانند

مولاۓ کائنات سے محبت

۱۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے تین سوال

ایک روز رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے محبت بھری نگاہوں سے اصحاب کے چہروں کی طرف دیکھا اور تین گہرے اور غور طلب سوالات فرمائے:

  • تم میں سے کون ہے جو پوری زندگی روزے رکھ سکتا ہے؟
  • تم میں سے کون ہے جو تمام راتیں عبادت اور مناجات میں بیدار رہ سکتا ہے؟
  • اور تم میں سے کون ہے جو ہر روز ایک مرتبہ مکمل قرآن ختم کر سکتا ہے؟

۲۔ جناب سلمان محمدی نے تینوں کا جواب ہاں میں دیا

مجلس میں سلمانِ محمدی، وہ روشن ضمیر، حق شناس اور پرہیزگار مرد، وقار کے ساتھ کھڑے ہوئے اور تینوں سوالات کے جواب میں ایمان و معرفت سے لبریز دل کے ساتھ عرض کیا:

«میں ، یا رسول اللہ!»

حضرت سلمان کا یہ پُراعتماد اور بے تکلف جواب بعض حاضرین کے لیے اس قدر حیران کن تھا کہ مجلس میں حیرت اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔

۳۔ بعض اصحاب کا اعتراض

قریش اور عرب کے بزرگ اور مشہور خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بعض اصحاب ناخوش اور برہم ہوئے اور حیرت اور انکار کے ساتھ اعتراض کرتے ہوئے کہنے لگے:

«یا رسول اللہ! یہ سلمان تو فارس کا ایک شخص ہے۔ یہ ہم عرب اور قریشی لوگوں کے مقابلے میں خود کو برتر کیسے سمجھ سکتا ہے اور ہم پر فخر کیسے کر سکتا ہے؟

آپ نے پوچھا کہ کون پوری زندگی روزہ رکھتا ہے اور اس نے کہا:

"میں!” حالانکہ ہم اسے اکثر دنوں میں کھانا کھاتے دیکھتے ہیں۔

آپ نے پوچھا کہ کون تمام راتیں عبادت میں بیدار رہتا ہے اور اس نے پھر کہا:

"میں!” حالانکہ ہم اسے زیادہ تر رات سوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

اور آپ نے پوچھا کہ کون ہر روز قرآن ختم کرتا ہے اور اس نے پھر دعویٰ کیا:

"میں!” حالانکہ وہ دن کا بیشتر حصہ خاموش رہتا ہے اور گفتگو نہیں کرتا۔»

۴۔ سلمان: اپنے زمانے کے لقمانِ حکیم

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:

«خاموش رہو، اے فلاں! تمہیں لقمانِ حکیم جیسے شخص سے کیا نسبت؟ اگر سلمان کی بات میں تمہیں کوئی شک ہے تو خود اسی سے پوچھ لو، وہ تمہیں اس کی وضاحت کر دے گا۔»

چنانچہ وہ شخص جناب سلمان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا:

«اے ابوعبداللہ! کیا آپ نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آپ پوری زندگی روزے رکھتے ہیں؟»

جناب سلمان نے فرمایا:

«ہاں»

اس نے کہا:

«پھر میں آپ کو اکثر دنوں میں کھانا کھاتے کیوں دیکھتا ہوں؟»

۵۔جناب سلمان حکیم کی پوری زندگی کے روزے میں گزارنے کی وضاحت

جناب سلمان اطمینان سے، لبوں پر مسکراہٹ سجائے فرمانے لگے:

«اے بھائی! تم غلط سمجھے ہو۔ میری مراد وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ میں ہر ماہ تین دن روزہ رکھتا ہوں اور ماہِ شعبان کو ماہِ رمضان کے ساتھ ملا دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ جو شخص نیکی لے کر آئے، اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا۔ لہٰذا ہر ماہ تین دن کے روزے، دس گنا اجر کے اعتبار سے پورے تیس دن کے روزوں کے برابر ہیں، اور شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملا دینے سے پورے سال کے روزوں کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔ یہی پوری زندگی روزہ رکھنے کا مفہوم ہے!»

۶۔ شب بیداری کی وضاحت

اس شخص نے پوچھا:

«کیا آپ نے یہ بھی دعویٰ نہیں کیا کہ تمام راتیں بیدار رہتے اور عبادت میں گزارتے ہیں ؟»

جناب سلمان نے فرمایا:

«ہاں، ایسا ہی ہے۔»

اس نے کہا:

«پھر میں آپ کو اکثر راتوں میں سوتے ہوئے کیوں دیکھتا ہوں؟»

سلمان حکیم نے فرمایا:

«پھر بھی تم غلط سمجھے ہو! میں کامل وضو اور طہارت کے ساتھ سوتا ہوں،

اور میں نے اپنے محبوب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:

"جو شخص طہارت کے ساتھ سوئے، گویا اس نے پوری رات عبادت میں گزاری۔”

لہٰذا میرا سونا بھی عبادت شمار ہوتا ہے اور میری راتیں ذکر و طہارت کے ساتھ گزرتی ہیں۔»

۷۔ روزانہ قرآن ختم کرنے کی وضاحت

اس شخص نے پوچھا:

«کیا آپ نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ آپ ہر روز ایک مرتبہ مکمل قرآن ختم کرتے ہیں؟»

جناب سلمان نے فرمایا:

«ہاں، ایسا ہی ہے۔»

اس نے کہا:

«پھر آپ اکثر دن خاموش کیوں رہتے ہیں اور گفتگو کیوں نہیں کرتے؟»

جناب سلمان نے آنکھوں میں نورِ معرفت لیے جواب دیا:

«اے بھائی! پھر بھی تم غلط سمجھ رہے ہو!میں ہر روز تین مرتبہ سورۂ مبارکہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کی تلاوت کرتا ہوں۔

کیونکہ میں نے اپنے محبوب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے سنا ہے کہ آپ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام سے فرمایا:

"اے ابوالحسن! میری امت میں تمہاری مثال سورۂ توحید کی مانند ہے۔”»

۸۔ سورۂ توحید کی فضیلت اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کا بلند مقام

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام سے اپنے فرمان کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا:

«جو شخص سورۂ توحید ایک مرتبہ پڑھے، گویا اس نے ایک تہائی قرآن پڑھا۔ جو اسے دو مرتبہ پڑھے، گویا اس نے دو تہائی قرآن پڑھا۔ اور جو اسے تین مرتبہ پڑھے، گویا اس نے پورا قرآن ختم کر لیا۔»

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:

«اے علی! تمہاری محبت بھی اسی طرح ہے:

  • ظجو شخص صرف اپنی زبان سے تم سے محبت کرے، اس کے پاس ایک تہائی ایمان ہے۔
  • جو شخص زبان اور دل، دونوں سے تم سے محبت کرے، اس کے پاس دو تہائی ایمان ہے۔
  • اور جو شخص زبان و دل سے تم سے محبت کرے اور اپنے ہاتھ سے تمہاری مدد بھی کرے، اس کا ایمان کامل ہو گیا۔»

پھر فرمایا:

«اے علی! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اگر اہلِ زمین تم سے اسی طرح محبت کرتے جس طرح اہلِ آسمان تم سے محبت کرتے ہیں، تو کوئی انسان بھی جہنم کی آگ کے عذاب میں گرفتار نہ ہوتا۔»

آخر میں جناب سلمان نے کہا:

«میں بھی ہر روز تین مرتبہ سورۂ توحید پڑھتا ہوں؛ پس میرے لیے قرآن کا ختم یہی ہے۔»

وہ شخص جناب سلمان کے یہ بصیرت افروز جوابات سن کر اس قدر حیران ہوا کہ گویا اس نے کوئی پتھر نگل لیا ہو اور اس کی زبان گنگ ہو گئی ہو۔

جناب سلمان محمدی نے روزہ، شب بیداری اور ختمِ قرآن سے متعلق رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے ارشادات کی حکیمانہ تشریح فرمائی۔ اسی روایت میں مولاۓ کائنات سے محبت و نصرت کو سورۂ توحید کی مانند قرار دیا گیا ہے۔

ماخذ
فضائل الأشهر الثلاثة، شیخ صدوق، ج۱، ص ۴۹

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے