پیغمبر اکرم صلیاللهعلیہوآلہ کے اوصاف مبارک
سند روایت
حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہالسلام کے غلام نے، علی بن موسیٰ الرضا علیہالسلام سے، انہوں نے اپنے والدِ بزرگوار موسیٰ بن جعفر علیہالسلام سے، انہوں نے اپنے والدِ بزرگوار سے، انہوں نے اپنے جدِّ بزرگوار سے، اور انہوں نے امیرالمومنین علی علیہالسلام سے روایت کی ہے۔
مقدمہ
امیرالمومنین علیہالسلام کی خدمت میں عرض کیا گیا:
اے علی! ہمارے پیغمبر صلیاللهعلیہوآلہ کا اس طرح وصف بیان فرمائیے کہ گویا ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں؛ بے شک ہمیں ان کی زیارت کا شوق ہے۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
۱. رنگتِ مبارک:
آپ صلیاللهعلیہوآلہ کی رنگت سفید تھی، جس میں سرخی کی آمیزش تھی۔
۲. آنکھیں:
آپ صلیاللهعلیہوآلہ کی آنکھیں سیاہ تھیں۔
۳. بال اور محاسن:
آپ صلیاللهعلیہوآلہ کے بال قدرے لمبے اور محاسن گھنے اور بلند تھے۔
۴. گردن:
آپ صلیاللهعلیہوآلہ کی گردن ایسی تھی گویا چاندی کا جام ہو جس کی رگوں میں سونا رواں ہو۔
۵. چلنے کا انداز:
- جب آپ صلیاللهعلیہوآلہ چلتے تو مضبوط اور پُراعتماد قدم اٹھاتے۔
- جب آگے بڑھتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا کسی ڈھلان سے اتر رہے ہیں۔
- اور جب کسی جانب رخ فرماتے تو پورے بدن کے ساتھ اسی طرف متوجہ ہوتے۔
۶. قامت:
آپ صلیاللهعلیہوآلہ کا قد درمیانہ تھا۔
۷. پسینۂ مبارک:
آپ صلیاللهعلیہوآلہ کے چہرۂ مبارک پر پسینہ موتیوں کی مانند جھلملاتا تھا اور اس کی خوشبو مشک سے بھی زیادہ مہک دار تھی۔
۸. اخلاق و کردار:
آپ صلیاللهعلیہوآلہ نہ کمزور تھے اور نہ ذلیل و خوار؛ زندگی میں سب سے زیادہ کریم، اخلاق میں سب سے زیادہ نرم خو اور سخاوت میں سب سے بڑھ کر سخی تھے۔
۹. حضورِ مبارک کا اثر:
جو شخص پہلے سے آپ صلیاللهعلیہوآلہ سے آشنا ہو کر آپ کی خدمت میں شرفیاب ہوتا، آپ صلیاللهعلیہوآلہ سے محبت کرنے لگتا؛ اور جو پہلی مرتبہ آپ کو دیکھتا، آپ کی ہیبت و عظمت سے مرعوب ہو جاتا
۱۰. حُسنِ توصیف:
آپ صلیاللهعلیہوآلہ کے وصف میں کہنے والا کہتا تھا:
«میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد، آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔»
صلیاللهعلیہوآلہ تسلیماً کثیراً
یہ تهے امیرالمومنین علیہالسلام کی زبانی پیغمبر اکرم صلیاللهعلیہوآلہ کے اوصاف مبارک۔
مآخذ
فضائل أمیرالمؤمنین علیہالسلام، ج ۱، ص ۱۲۳