سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Imam-Ali-as-8

ردُّ الشمس: امیرالمومنین علیہ‌السلام کے لیے سورج کا پلٹایا جانا

امیرالمومنین علیہ‌السلام کے فضائل میں ایک نمایاں واقعہ ردُّ الشمس کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے، جس میں سورج کے پلٹائے جانے کا بیان ملتا ہے۔ یہ واقعہ مختلف جگہ پیش آیا اور  متعدد بار نقل ہوا ہے اور مختلف روایات میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے، جس سے امیرالمومنین علیہ‌السلام کے مقام اور منزلت کا اظہار ہوتا ہے۔

روایات میں متعدد مواقع کا ذکر ملتا ہے جہاں امیرالمومنین علیہ‌السلام کے لیے سورج پلٹایا گیا۔ ان روایات میں جناب سلمان کی روایت بھی شامل ہے، جس میں اس واقعے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

یہ مواقع یومِ بساط، یومِ خندق، یومِ حنین اور یومِ خیبر سے متعلق بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح یومِ قرقیسیا، یومِ براثا، یومِ غاضریہ اور یومِ نہروان کا بھی ذکر ملتا ہے۔

مزید برآں بیعتِ رضوان، جنگِ صفین، نجف، بنی مازر اور وادیِ عقیق بھی مذکور ہیں۔

جنگ احد کے بعد اور مسجدِ فضیخ، مدینہ میں بھی اس واقعے کا ذکر ملتا ہے۔

یہ وہ تمام مقامات اور مواقع ہیں جہاں روایات کے مطابق امیرالمومنین علیہ‌السلام کے لیے سورج پلٹایا گیا۔

مسجدِ فضیخ کے بارے میں شیخ کلینی نے الکافی میں روایت نقل کی ہے کہ وہاں سورج دوبارہ لوٹا تھا۔

ان واقعات میں دو مواقع کو زیادہ شہرت حاصل ہے۔

پہلا واقعہ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی حیاتِ طیبہ میں پیش آیا۔ یہ واقعہ کراع الغمیم کے مقام پر پیش آیا، جو مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ہے۔

دوسرا واقعہ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے وصال کے بعد بابل کے مقام پر پیش آیا۔ روایات میں بابل کے مقام پر امیرالمومنین علیہ‌السلام کے لیے سورج پلٹائے جانے کا ذکر ملتا ہے۔[۱]

ان روایات میں سورج کے پلٹائے جانے کے مختلف مواقع بیان ہوئے ہیں۔ یہ تمام روایات ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

اہلِ روایت نے ان واقعات کو متعدد مقامات پر نقل کیا ہے۔ ان روایات کا تسلسل ردّ الشمس کے مستقل عنوان کو واضح کرتا ہے۔

یہ واقعہ مختلف کتبِ روایات میں مستقل عنوان کے طور پر محفوظ ہے۔ علمائے حدیث نے اسے امیرالمومنین علیہ‌السلام کے فضائل میں شمار کیا ہے۔

[۱] مناقب ابن شہر آشوب، ج ۵، ص ۴۲۶

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے