سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Junge-Hunain-1

جنگ حنین میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کے فضائل

جنگ حنین اسلامی تاریخ کا ایک اہم معرکہ ہے،اس جنگ میں امیرالمومنین علیہ‌السلام مہاجرین کے علمدار تھے،ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ میدان چھوڑ چکے تھے، آپ نے پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی جان کی حفاظت کی اور ان کے ساتھ ڈٹے رہے۔

جنگِ حنین اسلامی تاریخ کا ایک اہم معرکہ ہے، جس میں سخت حالات اور شدید مقابلے کے باوجود حق کی نصرت ظاہر ہوئی۔

اس موقعے پر امیرالمومنین علیہ‌السلام کے فضائل نمایاں صورت میں سامنے آئے۔

شیخ مفید رحمة الله علیه اس جنگ کے بارے میں لکھتے ہیں:

فَانظُرِ الآنَ إِلَى مَنَاقِبِ أَمِيرِ المُؤمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي هذِهِ الغَزَاةِ… تَجِدْهُ قَدْ تَوَلَّى كُلَّ فَضْلٍ كَانَ فِيهَا
یعنی:
اس غزوے میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے مناقب پر غور کرو، تم دیکھو گے کہ ہر فضیلت آپ ہی سے وابستہ ہے۔[۱]

اس جنگ میں امیرالمومنین علیہ‌السلام مہاجرین کے علمدار تھے۔  جب جنگ شدت اختیار کر گئی اور دشمن نے بے اماں حملے کیے۔

اس وقت بھی آپ ثابت قدم رہے اور میدان میں حاضر رہے۔ ایسے وقت میں جب بہت سے لوگ میدان چھوڑ چکے تھے۔

آپ علیہ‌السلام نے پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی جان کی حفاظت کی اور ان کے ساتھ ڈٹے رہے۔ اس موقعے پر آپ نے ابو جرول کو قتل کیا، جس کے بعد قبیلہ ہوازن کی فوج منتشر ہو گئی۔

اسی طرح ہوازن کے چالیس جنگجوؤں کو قتل کیا، جس سے دشمن کی قوت کمزور پڑ گئی۔ حنین کے بعد بتوں کا خاتمہ بھی آپ علیہ‌السلام کے ذریعے انجام پایا، جو توحید کے غلبے کی علامت تھا۔

مزید یہ کہ قبیلہ خثعم کے شہاب نامی شخص کے مقابلے میں آپ ہی سامنے آئے، حالاں کہ مسلمانوں میں سے کوئی اس کے مقابلے کے لیے تیار نہ تھا۔

اسی طرح آپ نے نافع کو بھی قتل کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے بہت سے افراد جنگ سے دستبردار ہو گئے۔

یہ تمام واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ حنین میں امیرالمومنین علیہ‌السلام نے شجاعت، ثابت قدمی اور دفاعِ رسول کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا اور آپ ہی ہمشیہ مددگار دینِ خدا رہے، اور اس غزوے میں نمایاں فضائل آپ ہی کے ساتھ مخصوص رہے۔

[۱] الارشاد، ج ۱، ص ۱۴۰-۱۵۱

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے