یہ سنہرا دروازہ حرم ملکوتی امیرالمومنین علیہ السلام پر پیش کیا گیا ایک نفیس نذرانہ ہے۔ علامہ سید محمد کلانتر کی کوششوں اور تین ایرانی مخیر حضرات اور تاجروں کے مالی تعاون سے تیار ہونے والے اس دروازے نے سابقہ چاندی کے دروازے کی جگہ لی اور حرم مطہر کے مشرقی ایوان طلا کی شان و خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے۔
پیر، ۸ شعبان ۱۳۷۳ ہجری قمری، بمطابق ۱۹۵۴ عیسوی کو یہ دروازہ علامہ سید محمد کلانتر کی کوششوں اور تہران کے تین تاجروں کے مالی تعاون سے پرانے چاندی کے دروازے کی جگہ نصب کیا گیا۔ یہ تینوں افراد الحاج مہدی مقدم، ان کے دو بھتیجے الحاج کاظم آقا توکلیان مقدم اور الحاج عبداللہ مقدم تھے، جنہوں نے اس کام پر پانچ لاکھ تومان سے زیادہ رقم خرچ کی۔
اصفہان کے ہنرمندوں کے ہاتھوں کا شاہکار نجف کے لیے نذرانہ
یہ دروازہ شہر اصفہان میں ماہر کاریگروں اور ممتاز فنکاروں نے انتہائی باریک بینی اور مہارت کے ساتھ تیار کیا۔ اپنے زمانے میں یہ اپنی نوعیت کا بے مثال اور دیدہ زیب شاہکار تھا۔ اس کی دلکش بناوٹ، منفرد نقش و نگار اور چمکتے رنگ ہر دیکھنے والے کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتے تھے۔
ڈاکٹر سعاد ماہر اس بارے میں کہتے ہیں:
درحقیقت، اس نوعیت کے دروازے کی تیاری اپنی مادی قدر و قیمت کے علاوہ، عصر حاضر کے ایران میں دست کاری اور اطلاقی فنون کی ترقی کی سطح کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اسی بنا پر اسے بیسویں صدی کے آرائشی اور اطلاقی فنون کے شاہکاروں میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس دروازے کی تیاری ۲۵ ربیع الثانی ۱۳۷۳ ہجری قمری، بمطابق ۱۹۵۴ عیسوی کو اصفہان میں مکمل ہوئی۔ اس کے بعد اسے پہلے بانی کے گھر، تہران منتقل کیا گیا، جہاں ایران کی متعدد اہم شخصیات، عمائدین اور سرکاری عہدے دار اس کی زیارت کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ اس تقریب میں محمد رضا شاہ پہلوی نے بھی شرکت کی اور حکم دیا کہ دروازے کو لے جانے والے قافلے کو عراق کی سرحد کی جانب روانگی میں سہولت فراہم کی جائے اور اس کی حفاظت کے لیے تمام ضروری حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔
اس کے بعد ملک فیصل دوم کے دور حکومت میں عراقی حکام نے بھی قافلے کے عراق میں داخلے اور ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ و ہم آہنگی کے لیے بھرپور توجہ دی اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ بالآخر، ۲۰ جمادی الثانی کو یہ قافلہ نجف اشرف پہنچ گیا۔ قافلے کے ساتھ وہی زرگر اور ماہر کاریگر بھی موجود تھے، تاکہ وہ خود دروازے کی تنصیب اور اسے اپنی جگہ پر نصب کرنے کے عمل کی نگرانی کر سکیں۔
سنہرے دروازے کی تعمیر کا خیال
آقای علاءالدین کلانتر اپنے والد کے کردار کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
میرے والد کو پہلی توفیق یہ حاصل ہوئی کہ انہوں نے حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے لیے ایک بڑا سنہرا دروازہ تیار کرنے کی کوشش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ان کا پہلا تخلیقی اقدام تھا، جس سے ان کے کارناموں کا آغاز ہوا۔ اس سے پہلے کسی نے اس جانب قدم نہیں اٹھایا تھا۔ انہوں نے یہ خیال پیش کیا، پھر تاجروں سے رابطہ کیا اور انہیں اس منصوبے کی تفصیلات سمجھائیں۔ تاجروں نے بھی اس کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔
اس کے بعد وہ اصفہان گئے اور زرگری، میناکاری اور خطاطی جیسے مختلف فنون کے ممتاز اساتذہ سے ملاقاتیں کیں۔ ان میں مرحوم محمد حسین پرورش، جو زرگری کے فن کے استاد تھے، مرحوم شکراللہ صنیع زادہ، جو میناکاری کے استاد تھے اور پارسایان جو اس فن کے ماہر تھے، شامل تھے۔ اسی طرح مرحوم سید محمد عریضی اور حاج محمد تقی ذوفن بھی ان ممتاز خطاطوں میں شامل تھے جو خط و کتابت کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔
انہوں نے ان تمام ماہرین کے سامنے اپنا نقطہ نظر بیان کیا اور متعدد مرتبہ سفر کرکے خود دروازے کی تیاری کے مراحل کی نگرانی کی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے قرآن مجید کی ان آیات کا انتخاب کیا جو امیرالمومنین علیہالسلام کی شان میں نازل ہوئی تھیں، ان کی فضیلت میں رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی احادیث مبارکہ منتخب کیں اور حضرت علیہالسلام کی مدح میں عربی زبان کے اعلی درجے کے اشعار بھی چنے، تاکہ انہیں دروازے کے دونوں حصوں اور حاشیوں پر تحریر کیا جا سکے۔ اس طرح یہ دروازہ فن اور تخلیقی جدت کا ایک شاہکار بن گیا۔
سنہرے دروازے کی تیاری کے لیے ساگوان کی بہترین قسم کی لکڑی استعمال کی گئی۔ یہ کام حلے کے رہنے والے دو تاجروں، جناب کریم المرعبي اور الحاج حسن یزدی نے نہایت توجہ اور ہنرمندی سے انجام دیا۔ اس منصوبے میں تقریباً ساڑھے تین ہزار مثقال خالص سونا اور پچاس ہزار مثقال خالص چاندی استعمال ہوئی۔
دروازے کے لکڑی کے حصے نجف میں الحاج صالح حلبوص کے کارخانے میں تیار کیے گئے۔ انہوں نے منصوبے کے ذمہ داران سے درخواست کی کہ دروازے کے اوپر ہلالی تاج اور اس کے شیشے کے فریم میں استعمال ہونے والی لکڑی اور لوہے کے اخراجات انہیں نذرانے اور ہدیے کے طور پر ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کی یہ درخواست قبول کر لی گئی۔
سنہرے دروازے کی تنصیب کی پروقار تقریب
بالآخر، پیر، ۸ شعبان کی صبح حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام میں سنہرے دروازے کی تنصیب کے آغاز کی مناسبت سے ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شیخ محمد علی یعقوبی نے مختصر خطاب کیا اور اپنا خوب صورت قصیدہ حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ اس قصیدے کا متن دروازے کے اوپر ہلالی قوس کے فریم پر تحریر کیا گیا ہے۔ اس میں ۱۳۷۳ ہجری قمری میں دروازے کی تنصیب کی تاریخ بھی درج ہے۔
سنہرے دروازے کے دو دیگر حصوں پر بھی دو اور تاریخیں تحریر کی گئی ہیں۔ دائیں جانب کے فریم پر سنہرے ابھرے ہوئے حروف میں سید محمد جمال ہاشمی کا قصیدہ لکھا گیا، جب کہ بائیں جانب کے فریم پر شیخ عبدالحمید سماوی کا قصیدہ درج ہے۔
دوسری جانب، شیخ العراقین عبدالرضا آل کاشف الغطاء بیان کرتے ہیں:
یہ اشعار استاد شیخ مسلم جابری کے کہے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انہیں حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے سنہرے دروازے کی تنصیب کی تاریخ کے طور پر نظم کیا تھا۔ اسی روز غروب آفتاب کے بعد حرم مطہر کے صحن میں معنقدہ دروازے کی تنصیب کی تقریب کے دوران انہوں نے یہ اشعار پڑھ کر سنائے۔
شیخ عبدالحمید حویزی نے بھی اپنے اشعار میں سنہرے دروازے کی تنصیب کی تاریخ درج کی ہے۔
جمعرات، ۱۱ شعبان ۱۳۷۳ ہجری قمری، بمطابق ۱۹۵۴ عیسوی کی شام سنہرے دروازے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ اس پروقار تقریب کا افتتاح حرم مطہر کے متولی سید عباس رفیعی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس عظیم الشان جشن میں ہزاروں عقیدت مندوں اور چاہنے والوں نے شرکت کی اور علامہ شاعر شیخ عبدالمنعم فرطوسی کا پُرجوش قصیدہ سماعت کیا۔
اگلے روز، یعنی جمعہ، ۱۲ شعبان کی صبح انجمن منتدی النشر نے اس منصوبے سے وابستہ افراد، بالخصوص سید محمد کلانتر اور مقدم خاندان کے مخیر حضرات کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔ اس محفل میں انجمن کے نمائندے علامہ شیخ محمد رضا مظفر نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ سید محمد جمال ہاشمی اور علامہ شیخ عبدالمہدی مطر نے اپنے اپنے قصیدے پیش کیے۔
سنہرے دروازے کی مرمت کے دوران مٹائی گئی تحریر
حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کا سنہرا دروازہ ۱۴۱۱ ہجری قمری، بمطابق ۱۹۹۱ عیسوی میں انتفاضہ کے ساتھ پیش آنے والے فوجی واقعات کے دوران شدید طور پر نقصان کا شکار ہوا۔ اس کے بعد اس کی مرمت اور بحالی کا کام انجام دیا گیا۔ اس عمل کے دوران بعض تحریروں اور کتیبوں کو ہٹا دیا گیا، جن میں ایک فارسی قصیدہ بھی شامل تھا، جو دروازے کے دونوں جانب کندہ تھا۔ اسی طرح دروازے کے بائیں حصے پر درج ایک تحریر بھی مٹا دی گئی، جس میں اس کی تیاری کے مقام، کاریگروں اور بانی کا ذکر تھا۔
اس تحریر کا متن درج ذیل تھا:
یہ دروازہ شہر اصفہان میں فن کے ماہر اساتذہ کے ہاتھوں تیار کیا گیا: الحاج سید محمد عریض، الحاج محمد تقی ذوفن اور محمد حسین پرورش اور یہ بندۂ ناچیز، جو اپنے آباؤ اجداد کی شفاعت کا امیدوار ہے، محمد بن سلطان موسوی کلانتر ہے۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
۱۴۳۷ ہجری قمری، بمطابق ۲۰۱۶ عیسوی میں سنہرے دروازے کو ایک مرتبہ پھر اس کی جگہ سے اتارا گیا۔ ابتدائی تنصیب کے بعد ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باعث حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے ماہر فنی عملے نے اس کی بنیادی مرمت کا کام شروع کیا۔
اس مرحلے میں ماہر زرگر مجید ابوالنوائر کی نگرانی میں دروازے پر دوبارہ سونے کا ملمع چڑھانے کا کام انجام دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے فنی حسن، تزئینی نقوش اور باریک تفصیلات کا بھی خاص خیال رکھا گیا۔
بالآخر، ۱۳ رجب المرجب ۱۴۳۸ ہجری قمری، بمطابق ۲۰۱۷ عیسوی کو، مولائے کائنات امیرالمومنین علی علیہالسلام، جو باب مدینۃ العلم کے لقب سے معروف ہیں، کی ولادت باسعادت کے موقع پر یہ دروازہ دوبارہ اپنی جگہ نصب کر دیا گیا۔
اس سلسلۂ مضامین کی گزشتہ کڑی میں «حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے رواقوں کے نفیس دروازے: اسلامی فن و معماری کی درخشاں یادگار» کا تعارف پیش کیا گیا تھا۔
مآخذ
کتاب «تاریخ المرقد العلوی المطهر» سے ماخوذ