سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ولادت رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ، مولائے کائنات کے کلام کے آئینے میں

امیر‌المومنین علیہ‌السلام  نہایت بلیغ انداز میں خاتم النبیین صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادتِ باسعادت کی شب، عالم میں رونما ہونے والی حیرت انگیز تبدیلیوں کا ذکر فرماتے ہیں۔

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادت

وہ شب جب کعبہ کے بت اوندھے منہ گر پڑے، آسمان و زمین تسبیح و شادمانی میں مصروف ہوگئے۔ باطل کی نابودی کی گونج نے ابلیس کو بھی خاتم الانبیاء صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور کردیا۔

حضرت محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ ۱۷ ربیع الاول، عام الفیل کے سال، مکہ مکرمہ میں دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب اور والدہ آمنہ بنت وہب تھیں۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام خاتم النبیین صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی شبِ ولادت کے حیرت انگیز واقعات بیان فرماتے ہیں۔

آپ عالم ہستی میں رونما ہونے والی ان تبدیلیوں کو یوں بیان فرماتے ہیں:

«جب رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادت ہوئی تو کعبہ کے بت سرنگوں ہوگئے اور رات ہوتے ہی آسمان سے یہ ندا بلند ہوئی:

جاءَ الحَقُّ وَ زَهَقَ الباطِلُ إِنَّ الباطِلَ کانَ زَهوقاً

حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا؛ بے شک باطل نابود ہونے والا ہے۔ (سورۂ اسراء، آیت ۸۱)

اس رات نور نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، پتھر، کنکریاں اور درخت شادمانی سے مسکرانے لگے اور زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مصروف ہوگئیں۔ اسی دوران شیطان فرار

ہو رہا تھا اور پکار رہا تھا:

«محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ بہترین امت، برترین مخلوق، سب سے معزز بندہ اور تمام جہان والوں میں سب سے بلند مرتبہ رکھنے والی شخصیت ہیں۔»[۱]

ازلی رشتہ اور ایک نور

نظام آفرینش میں خاتم النبیین صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کا بلند مرتبہ نمایاں ہے۔ ان کی نورانی حقیقت ایک ازلی اور ناقابلِ انفصال رشتے کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ عظیم حقائق اہل بیت علیہم‌السلام کی اصالتِ وجودی کو واضح کرتے ہیں۔ یہ ان کے سچے پیروکاروں کے لیے ہدایت و ایمان کے سرچشمے کو بھی بیان کرتے ہیں۔ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کے درمیان ازلی رشتہ اور نورانی وحدت قائم تھی۔ یہ رشتہ انسان کی خلقت سے بھی پہلے موجود تھا۔

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اس بارے میں فرمایا:

«میں اور علی اللہ کے حضور ایک نور تھے۔ آدم کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے ہم اسی نور کی صورت میں حق تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو خلق فرمایا تو اس نور کو ان کی پشت میں قرار دیا اور ہم ہمیشہ ایک ہی وجود میں رہے، یہاں تک کہ عبدالمطلب کی پشت میں پہنچ کر ہم ایک دوسرے سے جدا ہوئے؛ نبوت مجھے عطا ہوئی اور خلافت علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کے حصے میں آئی۔»[۲]

خالقِ کائنات نے اہل بیت علیہم‌السلام اور ان کے پیروکاروں کو ایک ہی نورانی سرچشمے سے پیدا فرمایا ہے۔

جابر بن عبداللہ انصاری رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

«اللہ تعالیٰ نے مجھے، علی بن ابی طالب، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم‌السلام کو ایک ہی نور سے پیدا فرمایا۔ پھر اس نور کو باہم جوڑ دیا اور ہمارے شیعوں کو بھی اسی سے وجود بخشا۔ چنانچہ ہم نے اللہ کی تسبیح کی تو ہمارے شیعوں نے بھی اس کی تسبیح کی؛ ہم نے اس کی تقدیس کی تو ہمارے شیعوں نے بھی اس کی تقدیس کی۔»[۳]

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کے درمیان وجودی اتحاد اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔ اس میں حقیقتِ نبوت و امامت کی یکسانیت جلوہ گر ہوتی ہے۔ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے مزید فرمایا:

«میں اور علی بن ابی طالب علیہ‌السلام ایک ہی نور سے ہیں؛ میں اور وہ ایک ہی حقیقت ہیں۔ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اس کا گوشت میرا گوشت اور اس کا خون میرا خون ہے۔ جو چیز اسے رنجیدہ کرتی ہے، وہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے اور جو چیز مجھے رنجیدہ کرتی ہے، وہ اسے رنجیدہ کرتی ہے۔»[۴]

نجات کے راستے میں ایک نور کا تسلسل

رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ خود «جاءَ الحق» کے مظہر اور باطل کے زوال کے آغاز کا سبب تھے۔ آپ نے اپنے بعد رونما ہونے والے فتنوں کے ہنگامے میں عمار یاسر کا ہاتھ مولائے کائنات کی ولایت کی رسی سے باندھ دیا۔ کیونکہ یہ دونوں ایک ہی نور ہیں اور امت کی ہدایت و نجات کا تسلسل امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے راستے کی پیروی میں قرار دیتے ہیں۔ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اپنے بعد رونما ہونے والے فتنوں سے آگاہ تھے۔ اسی لیے آپ نے عمار یاسر کو امیرالمومنین علیہ‌السلام سے وابستگی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

«اے عمار! میرے بعد فتنے اور بدامنی ہوگی، یہاں تک کہ اختلاف کی تلواریں امت کے درمیان گردش کریں گی، ان میں سے بعض بعض کو قتل کریں گے اور ایک گروہ دوسرے گروہ سے بیزاری کا اظہار کرے گا۔ جب تم یہ صورتِ حال دیکھو تو اس شخص کی پیروی کرنا جو میرے دائیں جانب ہے اور جس کا سر منڈا ہوا ہے؛ یعنی علی بن ابی طالب علیہ‌السلام!
اگر تمام لوگ ایک راستے پر چلیں اور علی بن ابی طالب علیہ‌السلام دوسرے راستے پر ہوں تو تم علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کے راستے کو اختیار کرنا اور لوگوں کو چھوڑ دینا؛ کیونکہ علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کبھی تمہیں ہدایت کے راستے سے نہیں ہٹائیں گے۔ جان لو کہ علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کی اطاعت میری اطاعت ہے اور میری اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔»[۵]

رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے نزدیک امیر‌المومنین علیہ‌السلام کا بلند مقام محض دوستی کی حدود سے کہیں آگے بڑھ کر ایمان، عبادت اور کامل تقویٰ کی بنیاد سے جڑ جاتا ہے۔ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے مولائے کائنات سے محبت کے بارے میں فرمایا:

«علی بن ابی طالب علیہ‌السلام سے محبت ایسی باقی رہنے والی نیکی ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور ان سے دشمنی ایسی برائی ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی نیکی فائدہ نہیں دے سکتی۔»[۶]

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت کے بارے میں فرمایا:

«علی بن ابی طالب علیہ‌السلام بخشش کا دروازہ ہیں؛ جو اس دروازے سے داخل ہوا، وہ مؤمن ہے اور جو اس سے باہر نکل گیا، وہ کافر ہے۔»[۷]

ابوذر نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امت کے درمیان امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مقام کو کعبہ سے تشبیہ دی اور فرمایا:

«اس امت کے درمیان علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کی مثال اس پردہ پوشیدہ کعبہ کی مانند ہے؛ اسے دیکھنا عبادت ہے اور اس کا قصد کرنا واجب ہے۔» [8]

امام باقر علیہ‌السلام اپنے آباء سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے پوچھا گیا:

«سب سے بہترین انسان کون ہے؟»

آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:

«سب سے برتر، سب سے زیادہ متقی اور جنت سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو میرے سب سے زیادہ قریب ہو؛ اور تم لوگوں میں علی بن ابی طالب علیہ‌السلام سے بڑھ کر کوئی ایسا شخص نہیں جو مجھ جیسا متقی اور میرے زیادہ قریب ہو۔»[۹]

مولائے کائنات: جانشین اور راہِ نبوت کے تسلسل بخش

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے لیے مقام امامت اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی جانشینی کا تعین، تدبیرِ الٰہی اور ازلی انتخاب سے سرچشمہ لیتا ہے۔ ولایت کا یہ بلند مقام گمراہی سے نجات کا واحد راستہ اور بندوں اور الٰہی عہد و پیمان کے درمیان مضبوط ترین رشتہ ہے۔ عرش اور سدرۃ المنتہیٰ میں رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے وزیر اور مددگار کے مقام کا جلوہ، نظامِ آفرینش میں نبوت و امامت کے ناقابلِ انفصال رشتے کی نشاندہی کرتا ہے۔

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

«اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی نسل کو خود اسی کی پشت میں قرار دیا، لیکن میری نسل کو علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کی پشت میں قرار دیا ہے۔»[۱۰]

پیغمبر اکرم کے مطابق مولائے متقیان رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے حقیقی جانشین ہیں۔ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اس رشتے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«وہ میرے مددگار، میرے وزیر اور میرے اہلِ خانہ میں میرے جانشین ہیں۔ علی بن ابی طالب علیہ‌السلام سب سے بہترین شخص ہیں جنہیں میں اپنے بعد چھوڑ کر جاؤں گا؛ وہ میرے وعدوں کو پورا کریں گے اور میرے قرض ادا کریں گے۔»[۱۱]

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے مولائے کائنات سے عہد و پیمان کے بارے میں فرمایا:

«جب تک تم علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کی ولایت پر قائم رہو گے، نہ گمراہ ہوگے اور نہ ہلاک ہوگے۔ جب بھی تم ان کی مخالفت کرو گے، تمہاری خطائیں اور تمہاری خواہشاتِ نفس تمہیں گمراہی کی طرف لے جائیں گی۔ ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور ان کے عہد کی رعایت کرو، کیونکہ علی بن ابی طالب علیہ‌السلام تمہارے درمیان اللہ کا عہد ہیں۔»[۱۲]

ابن عباس رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی جانشینی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کا ہاتھ تھاما، پھر چار رکعت نماز ادا کی۔ اس کے بعد آپ نے ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے اور فرمایا:

«اے اللہ! جس طرح موسیٰ بن عمران نے تجھ سے درخواست کی تھی، میں بھی تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرا سینہ کشادہ فرما، میرے کام کو آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، اور میرے اہلِ خانہ میں سے میرے لیے ایک وزیر مقرر فرما؛ یعنی میرے بھائی علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کو۔ ان کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما اور انہیں میرے کام میں شریک قرار دے۔»[۱۳]

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اپنے جانشین کے بارے میں فرمایا:

«علی بن ابی طالب علیہ‌السلام سب سے بہترین شخص ہیں جنہیں میں اپنے بعد چھوڑ کر جاؤں گا؛ وہی میرے قرض ادا کریں گے اور میری ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔»[۱۴]

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ایک روایت میں علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کی برتر خصوصیات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

«اے علی! اللہ تعالیٰ نے اہلِ عالم پر نظر فرمائی، پھر ان میں سے مجھے منتخب فرمایا اور تمام جہان کے مردوں پر مجھے فضیلت عطا کی۔ پھر دوسری مرتبہ نظر فرمائی تو تمہیں ان میں سے منتخب فرمایا اور تمام جہان کے مردوں پر تمہیں فضیلت عطا کی۔ پھر تیسری مرتبہ نظر فرمائی تو تمہاری نسل سے ائمہ کو تمام جہان کے مردوں پر برگزیدہ فرمایا۔ پھر چوتھی مرتبہ نظر فرمائی تو فاطمہ سلام اللہ علیہا کو تمام جہان کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
اے علی! میں نے تین مقامات پر تمہارا نام اپنے نام کے ساتھ دیکھا اور اس سے مجھے اطمینان حاصل ہوا:

۱۔ معراج کے موقع پر:

جب میں بیت المقدس پہنچا اور مجھے آسمان کی جانب لے جایا گیا تو میں نے وہاں کی چٹان پر یہ تحریر دیکھی:

«اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اس کے رسول ہیں؛ میں نے اپنے وزیر کے ذریعے ان کی تائید کی اور اپنے وزیر کے وسیلے سے ان کی مدد کی ہے۔»

میں نے جبرئیل علیہ‌السلام سے پوچھا: میرے وزیر کون ہیں؟

جبرئیل نے کہا: «علی بن ابی طالب علیہ‌السلام۔»

۲۔ جب میں سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا:

میں نے وہاں یہ تحریر دیکھی:

«بے شک میں ہی اللہ ہوں؛ میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں ہی یکتا ہوں۔ محمد میری مخلوقات میں میرے برگزیدہ ہیں؛ میں نے ان کی اپنے وزیر کے ذریعے تائید کی اور اپنے وزیر کے وسیلے سے ان کی مدد کی ہے۔»

میں نے جبرئیل علیہ‌السلام سے پوچھا: «میرے وزیر کون ہیں؟»

انہوں نے جواب دیا: «علی بن ابی طالب علیہ‌السلام۔»

۳۔ جب میں سدرۃ المنتہیٰ سے گزر کر رب العالمین کے عرش تک پہنچا:

میں نے عرش کے ستونوں پر یہ تحریر دیکھی:

«بے شک میں ہی اللہ ہوں؛ میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں ہی یکتا ہوں۔ محمد میرے حبیب اور میرے دوست ہیں؛ میں نے اپنے وزیر کے ذریعے ان کی تائید کی اور اپنے وزیر کے وسیلے سے ان کی مدد کی ہے۔»[۱۵]

مآخذ
[۱] بحار الانوار، جلد ۱۵، صفحۀ ۲۷۴
[۲] مناقب ابن‌مغازلی، صفحۀ ۸۸، تاریخ دمشق، جلد ۴۲، صفحۀ ۶۷، المناقب خوارزمی، صفحۀ ۱۴۵، شرح الاخبار، جلد ۱، صفحۀ ۲۲۰، علل الشرائع، صفحۀ ۱۳۴
[۳] کشف الغمه، جلد ۱، صفحۀ ۴۵۸، بحار الانوار، جلد ۲۷، صفحۀ ۱۳۱
[۴] عوالی اللآلی، جلد ۴، صفحۀ ۱۲۴
[۵]  العمده، جلد ۱، صفحۀ ۴۵۰
[۶]  المناقب ابن‌شهرآشوب، جلد ۳، صفحۀ ۱۹۷، کشف الغمه، جلد ۱، صفحۀ ۹۳، کشف الیقین، جلد ۱، صفحۀ ۲۲۵
[۷] الصواعق المحرقه، صفحۀ ۱۲۵
[۸] تاریخ دمشق، جلد ۴۲، صفحۀ ۳۵۶، المناقب ابن مغازلی، صفحۀ ۱۰۷
[۹] ینابیع المودّه، جلد ۲، صفحۀ ۲۷۴
[۱۰] المعجم الکبیر، جلد ۳، صفحۀ ۴۴
[‍‍۱۱] تاریخ دمشق، جلد ۴۲، صفحۀ ۵۷
[۱۲] ینابیع الموده، جلد ۲، صفحۀ ۲۸۵، احقاق الحق، جلد ۶، صفحۀ ۵۷
[۱۳] المناقب ابن‌مغازلی، صفحۀ ۳۸۹
[‍۱۴] تاریخ دمشق، جلد ۴۲، صفحۀ ۵۷
[۱۵] من لا یحضره الفقیه، جلد ۴، صفحۀ ۳۷۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے