سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

غاصبینِ ولایت کا نفاق: امام حسن عسکری علیہ‌السلام کی ایک روایت میں

جب امام حسن عسکری علیہ‌السلام کی شہادت کی خبر سامرہ میں پھیلی تو بازار بند ہوگئے اور لوگ روتے، تڑپتے ہوئے امام علیہ‌السلام کے گھر کی جانب دوڑ پڑے۔ وہ محروم عوام جو عباسی حکومت کے خوف سے ہمیشہ امام علیہ‌السلام سے اپنی محبت چھپائے رکھتے تھے، اس دن اپنے جوشِ عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرنے لگے۔

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے عباسی خلافت کے گھٹن زدہ دور میں امت کی رہنمائی کی ذمہ داری سنبھالی۔ آپ علیہ‌السلام نے فکری رہنمائی کے لیے ولایتِ مولائے متقیان امیرالمومنین علیہ‌السلام کی حقیقت واضح فرمائی۔ آپ علیہ‌السلام نے اپنے والد بزرگوار حضرت موسیٰ کاظم علیہ‌السلام سے منقول روایات کے ذریعے واقعۂ غدیر بیان فرمایا۔ آپ علیہ‌السلام نے ولایت امیرالمومنین علیہ‌السلام کا دفاع کرتے ہوئے پیرویِ اہل‌بیت علیہم‌السلام کو امت اسلامیہ کی نجات کا واحد راستہ قرار دیا۔

دورۂ امامت کے حالات

۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری قمری کو شیعوں کے گیارہویں امام، حضرت امام حسن عسکری علیہ‌السلام سامرہ میں شہید ہوئے۔ آپ علیہ‌السلام نے ۲۸ سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا اور اپنے والد بزرگوار امام ہادی علیہ‌السلام کے مزار کے پہلو میں سپرد خاک ہوئے۔ آپ علیہ‌السلام کو عباسی خلیفہ معتمد کے حکم پر زہر دے کر شہید کیا گیا۔ حکومت آپ علیہ‌السلام کی عوامی مقبولیت اور امام مہدی عجل‌اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور سے خوف زدہ تھی۔ آپ علیہ‌السلام نے اپنی امامت کے دوران احادیث کے ذریعے امامت و ولایت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کی ولایت کے اثبات کے لیے آپ علیہ‌السلام نے بھرپور کوشش فرمائی۔ آپ علیہ‌السلام نے عباسی دور کے گھٹن زدہ ماحول میں مولائے متقیان کے بلند مقام کو واضح فرمایا۔ اسی دور میں غاصبین خلافت کے ظلم کے باوجود امام نے حق کا علم بلند کیا۔

غدیر میں جھوٹی بیعت

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے ایک روایت میں روز غدیر کے واقعات اور اُن افراد کی پوشیدہ سازشوں کو بے نقاب فرمایا ہے جو بظاہر کچھ اور دکھائی دیتے تھے، لیکن درحقیقت امامت کا حق اس کے حقیقی حقدار سے چھیننے کا ارادہ رکھتے تھے۔ یہاں غاصبین بھی نمایاں ہوگئے۔

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے امام موسیٰ کاظم علیہ‌السلام سے نقل فرمایا:

جب روز غدیر رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کو اُس معروف مقام پر کھڑا فرمایا تو لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

اے اللہ کے بندو! مجھے میرا نسب بتاؤ۔

لوگوں نے عرض کیا:

آپ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہیں۔

پھر رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

اے لوگو! کیا میں تم پر خود تم سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ کیا میں تمہارا مولا اور تم پر تمہاری جانوں سے زیادہ اختیار نہیں رکھتا؟

سب نے عرض کیا:

کیوں نہیں، یا رسول اللہ!

پھر رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے آسمان کی طرف رخ کیا اور تین مرتبہ فرمایا:

اے اللہ! گواہ رہ کہ تیرے اس بندے نے یہ کہا اور انہوں نے بھی یہ کہا۔

پھر فرمایا:

آگاہ رہو! جس کا میں مولا ہوں اور جس کی جان پر خود اس سے زیادہ حق رکھتا ہوں، یہ علی بھی اس کے مولا ہیں اور اس کی جان پر خود اس سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔ اے اللہ! جو اسے دوست رکھے، تو اسے دوست رکھ؛ جو اس سے دشمنی کرے، تو اس سے دشمنی کر؛ جو اس کی مدد کرے، تو اس کی مدد کر؛ اور جو اسے بے یار و مددگار چھوڑے، تو اسے بے یار و مددگار کر۔

پھر فرمایا:

اے ابوبکر! اٹھو اور امیرالمومنین کی حیثیت سے ان سے بیعت کرو۔ وہ اٹھا اور اس نے بیعت کی۔ پھر فرمایا: اے عمر! اٹھو اور امیرالمومنین کی حیثیت سے ان سے بیعت کرو۔ وہ بھی اٹھا اور اس نے بھی بیعت کی۔ اس کے بعد اُن نو افراد اور پھر مہاجرین و انصار کے سرداروں کو بھی فرمایا اور سب نے بیعت کرلی۔

اسی موقع پر عمر بن خطاب لوگوں کے درمیان سے اٹھا اور کہنے لگا :

مبارک ہو اے ابوطالب کے بیٹے! آج سے تم میرے اور ہر مؤمن مرد و عورت کے مولا و سرپرست ہوگئے۔

اس کے بعد لوگ منتشر ہوگئے، جبکہ ان سے مضبوط عہد و پیمان اور پختہ وعدے لے لیے گئے تھے۔

لیکن اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ کے سرکش اور متکبر افراد نے آپس میں عہد کیا اور کہا:

اگر محمد صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کو کوئی حادثہ پیش آگیا اور وہ دنیا سے چلے گئے تو ہم علی سے خلافت واپس لے لیں گے اور ہرگز اُسے اِن تک پہنچنے نہیں دیں گے۔

اللہ تعالیٰ ان کے ارادوں سے باخبر تھا۔ اس کے باوجود وہی لوگ رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور کہتے:

آپ نے ہمارے درمیان اللہ کی سب سے محبوب مخلوق کو، جو خود آپ کے نزدیک اور ہمارے نزدیک بھی سب سے زیادہ محبوب ہے، ہمارا حاکم مقرر کیا ہے۔ اس کے ذریعے ہمیں ان ظالموں اور جابر حکمرانوں سے بے نیاز کردیا ہے جو ہم پر مسلط ہو سکتے تھے۔

لیکن اللہ ان کے دلوں کے راز سے آگاہ تھا؛ وہ جانتا تھا کہ اُن کے ان ظاہری دعووں کے برعکس، وہ اندر ہی اندر ایک دوسرے کے ساتھ سازباز کرچکے تھے، امیرالمومنین علی علیہ‌السلام سے دشمنی پر قائم تھے اور امامت و خلافت کو اس کے حقیقی حقدار سے واپس لینے کا عزم کرچکے تھے۔ پس انہی میں سے بعض کو تاریخ میں غاصبینِ کہا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کو ان کے ارادوں سے آگاہ فرمایا اور وحی کے ذریعے بتایا:

اے محمد! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں؛ اسی اللہ پر جس نے تمہیں حکم دیا کہ علی کو اپنی امت کا امام، حاکم اور امورِ امت کا مدبر مقرر کرو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اس امر پر ایمان نہیں رکھتے، بلکہ تمہیں اور علی علیہ‌السلام کو نقصان پہنچانے کے لیے آپس میں سازش کر رہے ہیں اور انہوں نے عہد کرلیا ہے کہ اگر تمہیں کوئی حادثہ پیش آیا تو علی علیہ‌السلام کے مقابلے میں سرکشی اختیار کریں گے۔[۱]

نیتوں کا پردہ فاش

اللہ تعالیٰ نے امیرالمومنین کے مخالفین کے دلوں میں چھپی نیتوں کو روز غدیر آشکار کرکے اور رسول خاتم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے ذریعے ان فریب کاروں کو ملامت کرکے امیرالمومنین علیہ‌السلام کی امامت و ولایت کی حقانیت کی تائید فرمائی۔ غاصبینِ کا تذکرہ بھی اس سیاق میں آتا ہے۔

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے امام موسیٰ کاظم علیہ‌السلام سے نقل فرمایا:

امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کے خلاف ان کی سازش، یاوہ گوئی اور بداندیشی کی خبر رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ تک پہنچی۔ آپ نے انہیں بلایا اور سرزنش فرمائی۔ لیکن انہوں نے اپنے ایمان کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اُن میں سے ایک نے عرض کیا:

یا رسول اللہ! خدا کی قسم! آج تک مجھے کسی بیعت پر اتنا اطمینان نہیں ہوا جتنا اس بیعت پر ہوا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بیعت کے سبب جنت کے محلّات میں سے ایک دروازہ میرے لیے کھول دے گا اور مجھے جنت کے بہترین رہنے والوں میں شامل فرمائے گا۔

دوسرے نے عرض کیا:

میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ! اسی بیعت کے بعد مجھے جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات پانے کا اطمینان حاصل ہوا ہے۔ خدا کی قسم! اگر اس بیعت سے انکار اور اس سے روگردانی کے بدلے مجھے پورا زمین و آسمان بھی تازہ موتیوں اور چمکتے ہوئے جواہرات سے بھر کر دے دیا جائے، تب بھی کوئی عطا اور انعام مجھے اس سے زیادہ خوش نہیں کرسکتا۔

تیسرے نے عرض کیا:

یا رسول اللہ! خدا کی قسم! اس بیعت کے بعد میرے دل سے خوف نکل گیا اور اس کی جگہ خوشی نے لے لی۔ میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی جنت کی امید پیدا ہوگئی اور مجھے یقین ہوگیا کہ اگر تمام اہلِ زمین کے گناہوں کا بوجھ بھی میرے کندھوں پر ہو، تو اس بیعت کے ذریعے میں ان سب سے پاک ہوجاؤں گا۔

پھر اس نے اپنے قول کی سچائی پر قسم کھائی اور اس شخص پر لعنت کی جس نے اس کے برخلاف بات رسول اللہ تک پہنچائی تھی۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں نے بھی انہی تین افراد کی طرح باتیں کیں۔

اللہ عزوجل نے سورۂ بقرہ کی آیت ۹:

«یُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَمَا یَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ» کے ذریعے منافقین کی فریب کاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت محمد صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ سے فرمایا:

’’یُخَادِعُونَ اللهَ‘‘ یعنی وہ ان باتوں پر قسمیں کھا کر، جن پر ان کا ایمان نہیں، رسول خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں؛

’’وَالَّذِینَ آمَنُوا‘‘ یعنی ان لوگوں کو بھی دھوکا دینا چاہتے ہیں جن کے مولا و سردار امیرالمومنین علی علیہ‌السلام ہیں۔

پھر فرمایا:

’’وَمَا یَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُم‘‘ یعنی ان کی یہ فریب کاری خود انہی کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے اور ان کی مدد سے بے نیاز ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلت نہ دی ہوتی تو وہ کبھی گستاخی اور سرکشی کی جرأت نہ کرسکتے۔

’’وَمَا یَشْعُرُونَ‘‘؛ معاملہ اسی طرح تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کے نفاق، کفر اور جھوٹ سے آگاہ فرمایا اور حکم دیا کہ وہ انہیں ظالموں اور عہد شکنوں کی صف میں قرار دے کر لعنت کریں؛ ایسی لعنت جو دنیا میں ان سے جدا نہ ہو اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کی زبانوں پر جاری رہے، جبکہ آخرت میں وہ اللہ کے سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔‘‘[۲]

نفاق کے خلاف فرمان وحی

روزِ غدیر بعض افراد کا نفاق آشکار ہونے کے بعد فرشتۂ وحی نازل ہوا، تاکہ اللہ کے حکم سے رسولِ خاتم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے جانشین اور کائنات کے فرمانروا کی ولایت و امامت کی حقیقت واضح ہو۔ اس منظر میں غاصبینِ کے کردار کو بھی بیان کیا گیا۔

یہ واقعہ مسئلۂ ولایت میں قدرتِ الٰہی کا ایک جلوہ تھا، تاکہ نفاق کا انجام اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کی عظمت آشکار ہو جائے۔

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے امام موسیٰ کاظم علیہ علیہ‌السلام سے روایت کی ہے:

’’جب وہ سرکش گروہ عذر پیش کرنے کے لیے رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے کریمانہ انداز میں ان کے ظاہری عذر کو قبول فرمایا اور ان کے باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔

اسی دوران جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کیا:

اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ! اللہ علیِ اعلیٰ آپ کو سلام پہنچاتا ہے اور فرماتا ہے: ان ظالموں کو اپنے پاس سے نکال دو جو علی علیہ‌السلام کے معاملے میں، ان کی بیعت توڑنے پر معذرت اور ان کی مخالفت کے لیے سازش کرنے پر عذر خواہی کرتے ہوئے تمہارے پاس آئے ہیں، تاکہ ان پر ایک عجیب امر ظاہر ہو اور وہ جان لیں کہ اللہ نے علی علیہ‌السلام کو اس قدر عزت عطا فرمائی ہے کہ زمین و آسمان، پہاڑ اور اپنی دیگر مخلوقات کو ان کے حکم کے تابع کردیا ہے۔ اللہ نے انہیں وہ مقام عطا کیا ہے جو آپ کو عطا کیا، اور وہ مرتبہ بخشا ہے جو آپکو بخشا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوجانے دو کہ ولیِ خدا، علی علیہ‌السلام، ان سے بے نیاز ہیں اور وہ علی علیہ‌السلام کے ساتھ اپنے کیے کا بدلہ چکانے سے نجات نہیں پاسکتے، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ وہ اللہ جس کے ہاتھ میں تمام امور کی تدبیر ہے اور علی علیہ‌السلام اِس راہ میں اُس کے فرمانبردار بندے اور اُس کی اطاعت میں کوشاں ہیں؛ وہ اللہ جس کے پاس تمام امور کی حکمت ہے اور علی علیہ‌السلام اسی کے حکم کے مطابق اس کے کارگزار اور اس کے فرامین کو عملی جامہ پہنانے والے ہیں۔‘‘

مولائے کائنات کے مقام کی وضاحت

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے مزید نقل فرمایا کہ رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کی ولایت کو سعادت و شقاوت کا معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا:

’’پھر رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے ان لوگوں سے، جو امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کے خلاف سازش اور دسیسہ کاری کے سلسلے میں عذر خواہی کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، فرمایا کہ میرے ساتھ باہر آؤ۔

رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ مدینہ کے ایک پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور امیرالمومنین علی علیہ‌السلام سے فرمایا:

اے علی! اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ تمہارے مددگار اور حامی بنیں، تمہاری خدمت کے لیے کمر بستہ رہیں اور تمہاری اطاعت میں کوشاں رہیں۔ لہٰذا ان کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ تمہاری پیروی کریں، تاکہ اللہ کی جنت میں ہمیشہ رہنے والے حکمرانوں کی طرح عیش و آرام سے زندگی گزاریں؛ اور ان کا نقصان اس میں ہے کہ وہ تمہاری نافرمانی کریں اور اللہ کی جہنم میں ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں۔

پھر رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے اس گروہ سے فرمایا:

جان لو! اگر تم علی کی اطاعت کرو گے تو سعادت مند ہوگے، اور اگر ان کی مخالفت کرو گے تو بدبخت ہوجاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ جلد ہی انہیں تم سے اس شخص اور اس چیز کے ذریعے بے نیاز کردے گا جسے تم عنقریب دیکھو گے۔

پھر فرمایا:

اے علی! محمد اور ان کی پاکیزہ آل کے واسطے، جن کے تم محمد صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے بعد مولا و سردار ہو، اللہ سے دعا کرو کہ اس پہاڑ کو تمہاری خواہش کے مطابق جس چیز میں چاہو، تبدیل کردے۔‘‘

کائنات مولائے متقیان کے فرمان پر

رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی درخواست پر امیرالمومنین علیہ‌السلام نے حکم دیا اور اللہ کی قدرت سے تمام کائنات آپ کے سامنے سر تسلیم خم ہوگئی۔

پھر امیرالمومنین علی علیہ‌السلام نے حکم دیا تو پورا پہاڑ چاندی میں تبدیل ہوگیا۔ اس کے بعد پہاڑوں نے حضرت کی جانب رخ کیا اور گویا ہونے لگے:

اے علی! اے پروردگار عالم کے رسول کے جانشین! اللہ نے ہمیں آپ کے لیے فراہم کیا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ہمیں اپنے کام میں صرف کریں۔ جب بھی ہمیں پکاریں گے، ہم آپ کی آواز پر لبیک کہیں گے، تاکہ آپ ہمارے ذریعے اپنے مقصد کو پورا اور اپنی مراد کو حاصل کرسکیں۔

پھر وہ پہاڑ سراسر سونے میں تبدیل ہوگئے اور انہوں نے بھی چاندی کے پہاڑوں کی بات دہرائی۔ اس کے بعد وہ مشک، عنبر، عبیر، جواہرات اور یاقوت میں تبدیل ہوگئے اور کہنے لگے:

اے ابوالحسن! اے رسول خدا کے بھائی! ہم آپ کے اختیار میں ہیں۔ جب چاہیں ہمیں پکار لیں۔

پھر رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

اے علی! محمد اور ان کی پاکیزہ آل کے واسطے، جن کے تم محمد صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے بعد سردار ہو، اللہ سے درخواست کرو کہ ان درختوں کو مسلّح جنگجوؤں میں اور ان چٹانوں کو شیروں، چیتوں اور اژدہوں میں تبدیل کردے۔

امیرالمومنین علی علیہ‌السلام نے اللہ سے اس کی درخواست کی تو پہاڑ، میدان، زمین کے نشیب و فراز سب مسلّح جنگجوؤں سے بھر گئے۔ ان میں سے ایک شخص کا مقابلہ دس ہزار عام انسان بھی نہیں کرسکتے تھے۔ پہاڑ، میدان اور وہ تمام علاقے شیروں، چیتوں اور اژدہوں سے بھر گئے۔

ان میں سے ہر ایک نے پکار کر کہا:

اے علی! اے رسول خدا کے جانشین! اللہ نے ہمیں آپ کا فرمانبردار بنایا ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ آپ کی پکار پر لبیک کہیں۔ آپ جسے ہمارے ماتحت کردیں گے، ہم اس کی بنیاد اکھاڑ دیں گے۔ جب چاہیں ہمیں پکاریں، ہم آپ کو جواب دیں گے، اور جو حکم دیں گے، ہم اُس کی اطاعت کریں گے۔
اے علی! اے رسول خدا کے جانشین! اللہ کے نزدیک آپ کا مقام اس قدر بلند ہے کہ اگر آپ اس سے درخواست کریں کہ پوری زمین کو ایک مینڈھے کی صورت میں تبدیل کردے، یا آسمان کو زمین پر اتار دے، یا زمین کو آسمان کی طرف بلند کردے تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ اگر آپ اس سے درخواست کریں کہ کھارے سمندروں کے پانی کو میٹھے پانی، سیماب، رائی، کسی بھی قسم کے مشروب یا تیل میں تبدیل کردے تو وہ یقیناً ایسا کرے گا۔ ان نافرمانوں کی سرکشی اور ان باغیوں کی مخالفت پر غمگین نہ ہوں۔ انہیں یوں سمجھیں جیسے وہ صفحۂ روزگار سے مٹا دیے گئے ہیں اور کبھی اس میں موجود ہی نہ تھے؛ یا جب آخرت کے میدان میں پہنچیں تو یوں سمجھیں جیسے وہ ہمیشہ سے وہیں موجود تھے۔
اے علی! جان لیں، جس نے ان کے کفر، بدکاری اور آپ کی نافرمانی کے باوجود انہیں مہلت دی ہے، وہی وہ ذات ہے جس نے فرعونِ ذوالاوتاد، نمرود بن کنعان اور خدائی کا دعویٰ کرنے والے دیگر سرکشوں کو مہلت دی تھی۔ اسی طرح اس نے سب سے سرکش باغی، شیطان، کو بھی مہلت دی، جو تمام گمراہیوں کا آغاز تھا۔ نہ آپ اور نہ ہی وہ، اس عارضی دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ آپ سب کو ہمیشہ رہنے والے جہان کی طرف سفر کرنا ہے اور ایک گھر سے دوسرے گھر کی جانب منتقل ہونا ہے۔ آپ کا پروردگار اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی ان لوگوں کی سرپرستی کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ انہیں اپنی فضیلت کا احساس دلائیں اور ان کے درمیان اپنی برتری آشکار کریں۔ اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو انہیں ہدایت عطا فرمادیتا۔

نفاق کی قرآنی تفسیر

امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے روایت کے تسلسل میں مولائے متقیان علیہ‌السلام کی ولایت کے مخالفین کی مزید گمراہی کا ذکر فرمایا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور معجزات دیکھنے کے باوجود ان سے منہ موڑ لیا۔

پھر امام حسن عسکری علیہ‌السلام نے فرمایا:

لیکن اس منظر کو دیکھنے نے، ان کے دلوں میں ایک اور بیماری پیدا کردی، اس بیماری کے علاوہ جو محمد صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ اور امیرالمومنین علیہ‌السلام سے حسد و کینہ رکھنے کے باعث پہلے ہی ان کے دلوں میں موجود تھی۔
اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت ۱۰:
«فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ»
کے ذریعے عہد شکنوں کے دلوں میں موجود نفاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسولِ خاتم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ سے فرمایا:
فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ‘‘ یعنی ان سرکش اور عہد شکن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے؛ اس بیعت کے سبب جو تم نے ان سے امیرالمومنین علیہ‌السلام کے لیے لی تھی۔
فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا‘‘ یعنی ان نشانیوں اور معجزات کے سبب، جو تم نے انہیں دکھائے، ان کے دل مزید حیرت و سرگردانی میں مبتلا ہوگئے۔
وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ بِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ‘‘ یعنی اس وجہ سے ان کے لیے دردناک عذاب ہے کہ وہ کہتے تھے: ہم اپنے عہد و پیمان پر قائم ہیں۔[۳]

مآخذ
[۱] تفسیر امام حسن عسکری (علیه‌السلام)، صفحۀ ۱۱۱، حدیث ۵۸
[۲] تفسیر امام حسن عسکری (علیه‌السلام)، صفحۀ ۱۱۳، حدیث ۵۹
[۳] تفسیر امام حسن عسکری (علیه‌السلام)، صفحۀ ۱۱۴، حدیث ۶۰

 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے