نفاق کے بیچ ولایت کی غربت
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) قَالَ: لَمَّا أَوْقَفَ رَسُولُ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ) أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) يَوْمَ الْغَدِيرِ افْتَرَقَ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ، فَقَالَتْ فِرْقَةٌ: ضَلَّ مُحَمَّدٌ، وَفِرْقَةٌ قَالَتْ: غَوَى، وَفِرْقَةٌ قَالَتْ: بِهَوَاهُ يَقُولُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ وَابْنِ عَمِّهِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ الْآيَاتِ.
فضیل بن عبدالملک روایت کرتے ہیں:
امامِ جعفرِ صادق علیہ السلام نے فرمایا جب رسول خدا، حضرتِ محمد مصطفیٰ صلیاللہعلیهوآلہ نے روز غدیر امیرالمومنین علی بن ابیطالب علیھماالسلام کو لوگوں کے درمیان کھڑا کیا اور ولایت کا اعلان فرمایا، تو مجمع تین گروہ میں بٹ گیا ـ ایسے گروہ جن کے دل پہلے ہی حسد، مرض اور نفاق سے بھرے ہوئے تھے۔
ایک گروہ نے کہا:
محمد صلیاللہعلیهوآلہ گمراہ ہو گئے ہیں!
دوسرے گروہ نے کہا:
وہ راہِ حق سے ہٹ گئے ہیں!
اور تیسرے گروہ نے بغض و تعصب سے کہا:
وہ اپنے اہل بیت اور اپنے چچازاد بھائی کے بارے میں خواہشِ نفس سے بات کر رہے ہیں!
انسانوں کی زبانوں سے وسوسے اٹھے، مگر آسمان سے فیصلہ کن آیات نازل ہوئیں۔
خداوندِ سبحان نے اپنے نبیِ مکرم صلیاللہعلیهوآلہ کی عصمت کا اعلان، اور ولایت علی علیہالسلام کی تصدیق کرتے ہوئے سورۂ نجم کی یہ آیات نازل فرمائیں:
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى
قسم ہے ستارے کی جب وہ غائب ہو جائے، کہ تمہارا ساتھی محمد صلیاللہعلیهوآلہ نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بھٹکا ہے، اور وہ خواہشِ نفس سے بات نہیں کرتا۔
جس روز ولایت کا نور چمکا، اسی روز دلوں کا اندھیرا بھی کھل کر سامنے آ گیا۔
غدیر صرف ایک اعلان نہیں، بلکہ ایمان اور نفاق کے درمیان امتیاز کی آخری لکیر ہے۔
تأویل الآیات، سید شرفالدین استرآبادی، ج ۱، ص۶۰۴