سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

یوم خمیس: وہ دن جب رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی شان میں گستاخی کی گئی

ان دنوں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ شدید علالت میں تھے۔ سر اقدس پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ تین دن سے تیز بخار نے جسمِ مبارک کو نڈھال کر رکھا تھا، آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اپنا دایاں ہاتھ امیرالمومنین علی علیہ السلام کے کندھے پر رکھا اور بایاں ہاتھ فضل بن عباس کے کندھے پر، پھر اسی حالت میں مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔

منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور ایک مختصر، مگر فیصلہ کن خطبہ ارشاد فرمایا:

اے لوگو! میری رحلت کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب اور اپنی عترت چھوڑے جا رہا ہوں۔

پھر امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کا ہاتھ بلند کیا اور فرمایا:

یہ علی بن ابی طالب ہیں۔ علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔

انہی ایام میں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے چاہا کہ امت کے لیے ایک ایسی تحریر لکھ دیں، جس کے بعد وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

میرے لیے قلم اور دوات لے آؤ، تاکہ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔

مگر اسی لمحے تاریخ کا ایک نہایت دردناک باب رقم ہوا…

عمر بن خطاب نے کہا:

«إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ، وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا»

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر بیماری کا غلبہ ہے، اور ہمارے لیے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے!

یہ الفاظ ادا ہوتے ہی مجلس میں شور برپا ہو گیا۔

آوازیں بلند ہونے لگیں، اختلاف بڑھ گیا، یہاں تک کہ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے نہایت رنج و ملال کے ساتھ فرمایا:

اٹھ جاؤ… میرے پاس سے چلے جاؤ۔ میرے سامنے جھگڑا نہیں کرو۔

عبداللہ بن عباس جب وہاں سے نکلے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

وہ بار بار کہتے تھے:

سب سے بڑی مصیبت وہ تھی، جب رسولِ خدا اور آپ کی وصیت کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی۔

وہیں سے ایک ایسے فتنے کی بنیاد پڑی جس کے اثرات صدیوں تک باقی رہے… اسی مخالفت نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی وصیت کو امت تک پہنچنے نہ دیا اور امت آہستہ آہستہ راہ حق سے دور ہوتی چلی گئی۔ وہ دن صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایسا زخم تھا جس کا درد آج بھی تاریخ کے سینے میں تازہ ہے اور جس کی رسوائی ہمیشہ باقی رہے گی۔

مآخذ
 صحیح البخاری، کتاب الأشربة، باب: قول المريض قوموا عني، ج ۷، ص ۹، حدیث ۵۳۴۵

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے