سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ذوالشہادتین کی مولائے متقیان علیہ السلام کی ولایت پر گواہی

خُزَیمہ بن ثابت، جنہیں "ذوالشہادتین" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے جلیل القدر صحابی اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کے وفادار اصحاب میں سے تھے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کی گواہی کو دو افراد کی گواہی کے برابر قرار دیا، جس کے باعث انہیں ذوالشہادتین کا لقب عطا ہوا۔ آخرکار وہ جنگِ صفین میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔

خزیمہ بن ثابت انصاری قبیلۂ اوس کے ممتاز فرد تھے اور مدینہ کے اولین مسلمانوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی قوم بنو خطمہ کے بتوں کو توڑا اور اسلام کی سربلندی کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ آخرکار ۹ صفر ۳۷ ہجری کو جنگِ صفین میں امیرالمومنین علیہ السلام کے ہمراہ شجاعت سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ [۱]

ابوبکر کی بیعت سے انکار

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحلت کے بعد سقیفہ میں ابوبکر کو خلیفہ منتخب کیا گیا، مگر بعض صحابہ نے اس انتخاب کو قبول نہیں کیا۔
خزیمہ بن ثابت بھی انہی باوفا اصحاب میں شامل تھے جنہوں نے امیرالمومنین علیہ السلام کے حقِ خلافت پر یقین رکھتے ہوئے ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا۔ [۲]

غدیرِ خم کی گواہی

امیرالمومنین علیہ السلام نے رحبۂ کوفہ میں لوگوں کو غدیرِ خم کے واقعے کی گواہی دینے کی دعوت دی۔ اس موقع پر خزیمہ بن ثابت اور متعدد صحابہ کھڑے ہوئے اور گواہی دی کہ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو ان سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما، جو ان کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو انہیں چھوڑ دے اسے چھوڑ دے۔” [۳]

مولائے متقیان علیہ السلام کی بیعت

جب مدینہ میں امیرالمومنین علیہ السلام کی خلافت پر بیعت ہوئی تو خزیمہ بن ثابت بھی ان ممتاز صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے آپ علیہ‌السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔ [۴]

امیرالمومنین علیہ السلام کی مدح میں اشعار

خزیمہ بن ثابت بہترین شاعر بھی تھے۔ امیرالمومنین علیہ السلام کی بیعت کے بعد انہوں نے آپ علیہ‌السلام کی شان میں اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے:

علی علیہ السلام فتنوں کے مقابلے میں ہماری بہترین پناہ ہیں۔ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق وہی ہیں۔ وہ قرآن و سنت کے سب سے بڑے عالم ہیں۔ قریش میں کوئی بھی ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ تمام فضائل ایک جگہ جمع ہوں تو وہ علی علیہ السلام کی ذات میں نظر آتے ہیں۔ وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے واحد وصی ہیں۔ مردوں میں سب سے پہلے نماز ادا کرنے والے ہیں۔ ہر معرکے کے عظیم ترین جانباز اور تمام لوگوں کے امام ہیں۔ [۵]

جنگِ صفین میں شرکت

خزیمہ بن ثابت جنگِ صفین میں امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ موجود تھے، مگر ابتدا میں انہوں نے قتال سے گریز کیا، کیونکہ وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی اس پیش گوئی کے منتظر تھے کہ حضرت عمار بن یاسر کو باغی گروہ قتل کرے گا۔

انہوں نے کہا: "میں اس وقت تک جنگ نہیں کروں گا جب تک عمار شہید نہ ہو جائیں اور میں دیکھ نہ لوں کہ انہیں کون قتل کرتا ہے، کیونکہ میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا۔”

جب حضرت عمار شہید ہوگئے تو خزیمہ نے فرمایا: "اب میرے فرض کی ادائیگی کا وقت آگیا ہے۔”

اس کے بعد میدانِ جنگ میں اترے اور لڑتے ہوئے شہادت پا گئے۔ [۶]

جان کی آخری سانس تک جہاد

حضرت عمار اور ابنِ تیہان کی شہادت کے بعد خزیمہ بن ثابت میدان میں آئے اور رجز پڑھتے ہوئے فرمایا: "یہ علی ہیں، اور جو ان کی اطاعت سے منہ موڑے وہ عہد شکن ہے۔”

پھر وہ اس وقت تک دشمن سے نبرد آزما رہے یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش کیا۔ [۷]

مولائے متقیان علیہ السلام کی نظر میں ذوالشہادتین کا مقام

جنگِ صفین کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے مخلص اصحاب کو یاد کرتے ہوئے فرمایا: "میرے وہ بھائی کہاں ہیں جو حق کے راستے پر چلے اور حق ہی پر دنیا سے رخصت ہوئے؟ عمار کہاں ہیں؟ ابنِ تیہان کہاں ہیں؟ ذوالشہادتین (خزیمہ بن ثابت) کہاں ہیں؟”

پھر آپ علیہ‌السلام نے اپنی ریشِ مبارک کو تھاما، دیر تک گریہ فرمایا اور ارشاد کیا: "آہ! میرے وہ بھائی کہاں ہیں جنہوں نے قرآن پڑھا، اس پر عمل کیا، فرائضِ الٰہی کو قائم کیا، سنتوں کو زندہ کیا، بدعتوں کو مٹایا، دعوتِ جہاد پر لبیک کہا اور اپنے امام پر کامل اعتماد کرتے ہوئے ان کی پیروی کی۔”

اس کے بعد بلند آواز سے فرمایا: "جہاد، جہاد اے بندگانِ خدا! میں آج لشکر تیار کر رہا ہوں، جو اللہ سے ملاقات کا مشتاق ہو وہ ہمارے ساتھ روانہ ہو۔” [۸]

مآخذ
[۱] ابن اثیر، اسدالغابه فی معرفه الصحابه، ابن حجر عسقلانی، الاصابه فی تمییز الصحابه
[۲] الصحیح من سیره النبی الاعظم، جلد ۳۳، صفحۀ ۳۰۴
[۳] عوالم العلوم، جلد ۱۵، صفحۀ ۲۳۶
[۴]  الطبقات الکبری، جلد ۳، صفحۀ ۲۲
[۵] بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحه ۳۴
[۶] کشف الغمه فی معرفه الائمه، جلد ۱، صفحۀ ۲۶
[۷] بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحۀ ۵۸۷
[۸] نهج ‌البلاغه، خطبۀ ۱۸۲

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے