سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

سلمان فارسی؛ ولایتِ علوی کی روشن تصویر

سلمان فارسی، رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کے معروف صحابی اور امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے خاص اصحاب میں سے تھے۔ صحابۂ کرام میں انہیں بلند مقام حاصل تھا اور رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) نے انہیں اپنے اہل‌بیت میں شمار فرمایا۔

سلمان فارسی ۸ صفر ۳۵ ہجری قمری کو عثمان بن عفان کے دورِ خلافت میں وفات پا گئے۔ سلمان نے جنگِ خندق کے بعد رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کے دور میں ہونے والی تمام جنگوں میں شرکت کی اور مؤثر کردار ادا کیا۔ رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کے بعد وہ امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے خاص اصحاب میں شامل ہوئے۔ علمی قابلیت اور عسکری و انتظامی امور میں تجربے کے باعث وہ امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے دورِ خلافت میں بھی آپ علیہ‌السلام کے معتمد تھے اور صحابہ کو رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کی جانب سے امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی جانشینی کے حکم سے انحراف پر ملامت کرتے تھے۔

سلمان فارسی کا مقام

سلمان فارسی کا تعلق فارس کے اصطخر یا اصفہان سے تھا۔ وہ رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کے ان صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے بدر اور احد جیسی اہم جنگوں میں شرکت کی۔ علم و تقویٰ کے باعث سلمان کو رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) اور اہل‌بیت (علیہم‌السلام) کے نزدیک خصوصی مقام حاصل تھا۔ مدینہ ہجرت کے بعد انہوں نے رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) اور امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے ساتھ دینی و اجتماعی امور میں بھرپور کردار ادا کیا۔ [۱]

برگزیدہ ہستیوں کے پیشوا

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے آفرینش کے سات مضبوط ستونوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خاص اصحاب کے بلند مقام کو نظامِ ہستی میں بیان فرمایا۔ آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:
«اللہ تعالیٰ نے زمین کو سات افراد کے لیے قرار دیا ہے؛ ان کے وجود کی برکت سے اللہ کی مخلوق کو رزق ملتا ہے، رحمت کی بارش برستی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح حاصل ہوتی ہے: ابوذر، سلمان، مقداد، عمار، حذیفہ، عبداللہ بن مسعود اور میں، جو اس جماعت کا پیشوا ہوں۔»[۲]

اللہ اور رسول (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کے محبوب اصحاب

رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) نے اپنے ان اصحاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے خصوصی محبوب ہیں۔ آپ (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) نے فرمایا: «اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے چار اصحاب سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ وہ خود بھی ان سے محبت کرتا ہے۔»

صحابہ نے عرض کیا: «یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟»

رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) نے تین مرتبہ فرمایا: «آگاہ رہو! امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) ان میں سے ایک ہیں، مقداد بن اسود، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی باقی تین ہیں۔» [۳]

ایک اور مقام پر رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) نے فرمایا: «اے علی! جنت تمہارے، عمار، سلمان، ابوذر اور مقداد کی مشتاق ہے۔»[۴]

سلمان فارسی کا علمی مقام

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) اور امام صادق (علیہ‌السلام) کی نظر میں سلمان فارسی علومِ لدنی کا خزانہ تھے۔ اپنی کمالات کی بنا پر وہ رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کے اہل‌بیت میں شمار ہوتے تھے۔

ابوعمرو کندی، جو امام حسین (علیہ‌السلام) کے اصحاب میں سے تھے، روایت کرتے ہیں: «ایک روز ہم امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) کی خدمت میں حاضر تھے۔ جب لوگوں نے آپ علیہ‌السلام کو خوش اور مسرور دیکھا تو آپ علیہ‌السلام سے سلمان فارسی کے بارے میں کچھ بیان کرنے کی درخواست کی۔

حضرت نے ان کے بارے میں فرمایا: وہ حکیم لقمان کی مانند تھے؛ وہ اہل‌بیت میں سے ایک فرد تھے، جو گزشتہ اور آئندہ کے علوم سے آگاہ تھے۔ انہوں نے پہلی اور آخری آسمانی کتابوں کا مطالعہ کیا تھا اور وہ بے پایاں علم کا ایک سمندر تھے۔»[۵]

سلمان ان برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے ولایت کے ساتھ قلبی و روحانی وابستگی کے ذریعے علم و معرفت کے بے پایاں مقام کو حاصل کیا۔

حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) نے فرمایا: «سلمان ایسا سمندر ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا اور ایسا خزانہ ہے جس کی کوئی انتہا نہیں، اور وہ ہم اہل‌بیت میں سے ہے۔»[۶]

ایک اور مقام پر امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے فرمایا: «سلمان گزشتہ اور آئندہ کے علوم سے آگاہ ہے اور وہ ایسے سمندر کی مانند ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔» [۷]

دیگر ائمہ (علیہم‌السلام) نے بھی سلمان کے علم و معرفت کے بارے میں گفتگو فرمائی ہے۔ امام صادق (علیہ‌السلام) نے ایک روایت میں فرمایا: «سلمان محدث تھے، اور انہیں یہ لقب اس لیے حاصل ہوا کہ رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) اور امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) انہیں علمِ الٰہی کے خزانے سے ایسی باتوں سے آگاہ کرتے تھے جنہیں سمجھنے کی صلاحیت ان کے علاوہ کسی اور میں نہ تھی۔» [۸]

سلمان اور مقداد کا روحانی مقام

رسول اکرم (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) نے سلمان اور مقداد کے بلند روحانی مقام اور اپنے ساتھ نیز امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے ساتھ ان کی گہری محبت و وابستگی کو یوں بیان فرمایا:
«جبرئیل حق تعالیٰ کی جانب سے میرے پاس آئے اور کہا: سلمان اور مقداد دو بھائی ہیں، جن کی دوستی اور محبت میں اسی طرح پاکیزگی و اخلاص ہے جس طرح تم اور علی (علیہ‌السلام)، جو تمہارے بھائی، وصی اور ساتھی ہیں۔ تمہارے اصحاب میں ان دونوں کا مقام فرشتوں میں جبرئیل اور میکائیل کے مانند ہے۔

جو شخص ان دونوں سے دشمنی کرے، وہ دشمن ہے، اور جو ان دونوں، تم اور علی (علیہ‌السلام) سے محبت کرے، وہ اللہ کا محبوب ہے۔ اگر تمام اہلِ زمین سلمان اور مقداد سے اسی طرح محبت کرتے جس طرح آسمان کے فرشتوں، حجاب، کرسی اور عرش سے محبت کرنے والے محبت کرتے ہیں، اور یہ محبت صرف محمد (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) و علی (علیہ‌السلام) سے محبت، ان کے دوستوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے دشمنی کی بنیاد پر ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب نہ دیتا۔» [۹]

سلمان کی ولایت پذیری

سلمان فارسی نے عہدِ ولایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی اقتدا کی اور ایسے کمالات حاصل کیے جو انہیں تمام لوگوں کے نزدیک ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔

سلمان فارسی کہتے ہیں: «ہم نے رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کے ساتھ یہ عہد کیا تھا کہ مسلمانوں کے خیرخواہ رہیں گے، امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب (علیہ‌السلام) کی اقتدا کریں گے، ان کی ولایت و محبت کو قبول کریں گے اور اس پر ثابت قدم رہیں گے۔» [۱۰]

امام صادق (علیہ‌السلام) نے سلمان فارسی کی شخصیت میں موجود تین نمایاں اور بلند صفات پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
«سلمان تین اعلیٰ اور برتر خصوصیات کی وجہ سے فضیلت والے تھے: پہلی یہ کہ وہ امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی خواہش کو اپنی خواہش پر مقدم رکھتے تھے؛ دوسری یہ کہ وہ مال داروں پر فقیروں کو ترجیح دیتے تھے؛ اور تیسری یہ کہ انہیں علم اور اہلِ علم سے بے حد محبت تھی۔» [۱۱]

سلمان کا امامتِ مولائے متقیان کا دفاع

سلمان فارسی نے ایک اثر انگیز خطبے میں امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے الٰہی مقام اور حقِ جانشینی کو واضح کرتے ہوئے معاشرے کے انحراف اور واقعۂ خلافت میں بنی اسرائیل کی سنت کو دہرانے کی طرف اشارہ فرمایا۔

رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) کی تدفین کے تین دن بعد سلمان فارسی نے لوگوں کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
«اے لوگو! میری یہ بات سنو اور اس میں غور و فکر کرو۔ میرے پاس اتنا علم ہے کہ اگر میں امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) کے فضائل کے تمام حقائق تمہارے سامنے بیان کر دوں تو تم میں سے ایک گروہ کہے گا کہ یہ دیوانہ ہے، اور دوسرا گروہ کہے گا: اے اللہ! سلمان کے قاتل کو بخش دے!

اے لوگو! تمہارے لیے کچھ تقدیریں مقرر ہیں جن کے نتیجے میں بہت سی سختیاں پیش آئیں گی، لیکن علی بن ابی طالب (علیہ‌السلام) ان تقدیروں اور ان کی سختیوں کے علم سے آگاہ ہیں۔ وہ اوصیاء کے وارث، فیصلہ کن کلام کے مالک اور انساب کی اصل ہیں۔ وہ موسیٰ (علیہ‌السلام) کے لیے ہارون بن عمران کی مانند ہیں۔

رسول خدا (صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ) ہمیشہ ان سے فرمایا کرتے تھے: "تم میرے خاندان میں میرے جانشین اور امت پر میرے خلیفہ ہو، اور میرے نزدیک تمہاری وہی منزلت ہے جو موسیٰ کے نزدیک ہارون کی تھی۔”

لیکن تم نے بنی اسرائیل کی روش اختیار کر لی اور حق کو پہچاننے سے گریز کیا۔ تم جانتے ہو، لیکن عمل نہیں کرتے۔ خدا کی قسم! تم قدم بہ قدم اسی راستے پر چل رہے ہو جس پر بنی اسرائیل چلے تھے اور بالکل اسی طرح ان کی سنت کی پیروی کر رہے ہو۔» [۱۲]

مولائے متقیان کے ہاتھوں سلمان فارسی کی تدفین

اصبغ بن نباتہ، جو امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے اصحاب میں سے تھے، بیان کرتے ہیں:
«جس وقت سلمان وفات پا گئے اور ہم ابھی ان کا جنازہ قبرستان سے واپس نہیں لائے تھے کہ اچانک ہم نے ایک شخص کو خچر پر سوار دیکھا۔ وہ بہت غمگین تھا۔ وہ خچر سے اترا، ہمیں سلام کیا اور ہم نے بھی اس کے سلام کا جواب دیا۔

اس نے کہا: "سلمان کے غسل، نماز، کفن اور دفن کے معاملے میں جلدی کرو۔”

ہم نے اس کی مدد کی۔ وہ حنوط اور کفن و دفن کے لیے کافور بھی لایا تھا۔ ہم اس کے حکم پر پانی لائے۔ اس نے سلمان کو غسل دیا، کفن پہنایا اور ہم نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر انہیں دفن کیا۔

وہ شخص امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) تھے۔ آپ علیہ‌السلام نے خود سلمان کی قبر میں لحد بنائی اور قبر کو بند کیا۔ آخر میں امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے اپنے دستِ مبارک سے سلمان کی قبر پر یہ اشعار تحریر فرمائے:

وَفَدْتُ عَلَى الْکَرِیمِ بِغَیْرِ زَادٍ / مِنَ الْحَسَنَاتِ وَالْقَلْبِ السَّلِیمِ / وَحَمْلُ زَادٍ أَقْبَحُ کُلِّ شَیْءٍ / إِذَا کَانَ الْوُفُودُ عَلَى الْکَرِیمِ

یعنی:

"میں ایک کریم ہستی کی بارگاہ میں آیا ہوں، نیکیوں اور قلبِ سلیم کی کسی توشہ کے بغیر؛ اور ایسی کریم ہستی کی بارگاہ میں حاضر ہوتے وقت توشہ لے کر آنا ہی ہر چیز سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔” [۱۳]

مآخذ
[۱] النجوم الزاهره، جلد ۱، صفحۀ ۸۹
[۲] الخصال، جلد ۲، صفحۀ ۳۶۰
[۳]  امالی مفید، جلد ۱، صفحۀ ۱۲۴
[۴]روضه الواعظین، جلد ۲، صفحۀ ۲۸۰
[۵] الغارات، جلد ۱، صفحۀ ۱۷۷
[۶]  امالی صدوق، صفحۀ ۵۵
[۷]  امالی صدوق، جلد ۱، صفحۀ ۲۵۲
[۸] علل الشرایع، جلد ۱، صفحۀ ۱۸۳
[۹]  الاحتجاج، جلد ۱، صفحۀ ۴۰
[۱۰]  امالی طوسی، جلد ۱، صفحۀ ۱۵۵
[۱۱]  امالی طوسی، جلد ۱، صفحۀ ۱۳۳
[۱۲] بحار الانوار، جلد ۲۹، صفحۀ ۷۹

[۱۳]  بحار الانوار،ج۲۲، ص۳۸۰ 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے