سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

اہل بیت کی اسیری

اہلِ بیت علیہم‌السلام کا شام میں وارد ہونا

جب یزید کو معلوم ہوا کہ اہل‌بیت رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا قافلہ دمشق کے قریب پہنچنے والا ہے۔ اس نے جشن اور استقبال کی تیاریوں کے لیے احکامات جاری کر دیے۔

اس نے حکم دیا:

۱۔ جواہرات سے مزین تاج اور قیمتی پتھروں سے آراستہ تخت تیار کیا جائے۔
۲۔ شہر کے تمام طبقوں کے معزز افراد مل کر شہر کو نہایت خوبصورتی سے سجائیں۔
۳۔ شہر کے تمام لوگ فاخر اور زینتی لباس پہنیں اور خود کو آراستہ کریں۔
۴۔ سب لوگ گزرگاہوں اور بازاروں میں آمد و رفت کریں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیں۔
۵۔ طبل اور ڈھول کی گونج میں اسیروں کے استقبال کے لیے جلوس نکالا جائے۔
۶۔ منادی کرنے والے پورے شہر میں اعلان کریں:

’’وہ لوگ شہر میں داخل ہو رہے ہیں جنہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کے ارادے سے عراق کا رخ کیا تھا، لیکن خلیفہ کے نمائندے ابنِ زیاد نے انہیں قتل کر دیا۔ جو شخص خلیفہ سے محبت رکھتا ہے، وہ آج خوشی منائے۔‘‘

شام کے پست لوگوں نے بھی اس موقع پر کوئی کمی نہ چھوڑی۔

انہوں نے گھروں کی چھتوں پر رنگ برنگے جھنڈے لہرا دیے اور ہر راستے میں شراب کی محفلیں سج گئیں۔ گانے والوں کی آوازوں سے پورا شہر گونجنے لگا۔

لوگ گروہ در گروہ دمشق کے دروازۂ کوفہ کی طرف جانے لگے۔ بعض لوگ شہر سے باہر نکل کر قافلے کے استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے۔

لیکن دوسری طرف…

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے غم زدہ اور مصیبت زدہ اہل‌بیت علیہم‌السلام کا قافلہ شہر میں داخل ہو رہا تھا۔ یہ وہی مقدس ہستیاں تھیں جن کے حریم کی حفاظت خود جبرئیل امین کیا کرتے تھے۔

ان مظلوم ہستیوں کو نیزہ بردار اور تازیانے ہاتھوں میں لیے ہوئے بے رحم سپاہیوں کے درمیان دروازۂ ساعات سے شہر میں داخل کیا گیا۔

جب ان نادان اور سنگ دل لوگوں نے اس نورانی قافلے کو دیکھا تو زبانیں گستاخی کے لیے کھل گئیں۔ شام کے اس شہر میں ان بزرگ ہستیوں پر کیا گزری، اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا…

اس دردناک داستان کو لکھنے سے قلم قاصر ہے۔

حوالہ جات
معالی السبطین، ج ۲، ص ۱۴۰
مستدرک سفینۃ البحار، ج ۶، ص ۲۹۴
الوقائع والحوادث، ج ۵، ص ۶-۳۰
مدینہ تا مدینہ، ص ۸۹۶ و۸۹۹
ناسخ التواریخ، ج ۲، ص ۱۴۰

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے