سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

وقوعِ جنگِ صفین

یکم صفر سنہ ۳۸ ہجری قمری کو جنگِ صفین کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب مولائے متقیان حضرت علی علیہ‌السلام نے، ظلم و ناانصافی سے پریشان اور عدلِ علوی کے تشنہ عوام کے اصرار پر خلافتِ ظاہری کی ذمہ داری قبول کی۔

امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام نے جس طرح لوگوں سے وعدہ کیا تھا، اسی کے مطابق حکومت کے معاملات میں کسی قسم کی بدعنوانی، ظلم یا ناانصافی کو برداشت نہ کیا۔ اسی لیے خلافت سنبھالتے ہی ان افراد کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا جو اہلیتِ حکومت نہیں رکھتے تھے۔ انہی میں معاویہ بھی شامل تھا، جو شام کا حاکم تھا۔
لیکن اس نے سرکشی اختیار کرتے ہوئے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور مخالفت، سازشوں اور حکومتِ علوی کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گیا۔
اسی وجہ سے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے واقعۂ جمل کے فتنے کے خاتمے کے بعد اس سرکش اور ظالم گروہ کے مقابلے کے لیے تیاری فرمائی۔
امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کا لشکر اور معاویہ کا لشکر، دونوں مقامِ صفین پر آمنے سامنے آ گئے۔ صفین، شہرِ رقہ کے جنوب میں دریائے فرات کے کنارے واقع ایک مقام تھا۔
جب امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے خطوط، نصیحتوں اور خیر خواہی کی باتوں کا معاویہ کے سخت دل پر کوئی اثر نہ ہوا، تو یکم صفر سنہ ۳۸ ہجری قمری کو دونوں لشکروں نے جنگی صف بندی اختیار کر لی۔

جنگِ صفین میں اہلِ بیت علیہم‌السلام کا کرم و احسان

جنگِ صفین کے دوران خاندانِ عصمت و طہارت کے اخلاق و کرم کے کئی روشن پہلو سامنے آئے۔
معاویہ کے لشکر نے کئی مرتبہ پانی کے مقام پر قبضہ کیا، لیکن ہر بار امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے سپاہیوں نے اسے واپس لے لیا۔
جب معاویہ کے لشکر نے پانی پر قبضہ کیا تو اس نے امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کے لشکر تک پانی پہنچنے سے روک دیا۔
لیکن جب امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے لشکر کو پانی پر اختیار حاصل ہوا تو انہوں نے دشمن کے لیے پانی بند نہیں کیا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پانی کو آزاد کرانے کی ایک مرتبہ ذمہ داری خود امام حسین علیہ‌السلام نے انجام دی، اور جب آپ کو پانی پر تسلط حاصل ہوا تو آپ نے بھی دشمن کو پانی سے محروم نہیں کیا۔
یہ اہلِ‌بیت علیہم‌السلام کے باب میں کوئی حیرت کی بات نہیں؛ کیونکہ ان کی ذات ہی رحمت، کرم اور بخشش کا مظہر ہے، جبکہ دشمنانِ اہلِ بیت کا راستہ ظلم اور خباثت سے عبارت ہے۔

قرآن کو نیزوں پر بلند کرنے کی سازش

جب معاویہ کے لشکر میں شکست کے آثار نمایاں ہونے لگے تو عمرو بن عاص نے، جو اپنی چالاکیوں کے لیے مشہور تھا، ایک سازش تیار کی۔
اس نے حکم دیا کہ قرآنِ کریم کے صفحات نیزوں پر بلند کیے جائیں اور پورا لشکر یہ نعرہ لگائے: "ہمارے اور تمہارے درمیان کتابِ خدا فیصلہ کرے گی۔”
اس چال کا مقصد یقینی شکست سے بچنا تھا۔
بدقسمتی سے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے لشکر کے کچھ افراد اس فریب میں آ گئے اور جنگ روکنے اور حکمیت قبول کرنے پر اصرار کرنے لگے۔
امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ فتح بالکل قریب ہے، لیکن ان لوگوں نے آپ کی بات قبول نہ کی۔
بالآخر انہوں نے امیر‌المؤمنین علی علیہ‌السلام کو مجبور کیا کہ حکمیت قبول فرمائیں، اور شدید اصرار کے بعد ابوموسیٰ اشعری کو اپنی طرف سے نمائندہ مقرر کر دیا۔
امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے اپنی مظلومیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "میں اس سے پہلے تمہارا امیر تھا، لیکن آج تم میری بات نہیں مانتے اور مجھے مأمور بنا دیا ہے۔”
حکمیت کے مرحلے میں بھی ابوموسیٰ اشعری، عمرو بن عاص کی چال میں آ گیا۔
پھر وہی لوگ جنہوں نے اصرار کرکے حضرت علی علیہ‌السلام کو حکمیت قبول کرنے پر مجبور کیا تھا، بعد میں اسی فیصلے کے منکر ہو گئے اور انہوں نے ہی خوارج کے گروہ کی بنیاد رکھی۔

ماخوذ از کتابِ گراں قدر:
وقعۃ صفین
مصنف: نصر بن مزاحم منقری (متوفیٰ ۲۱۲ ہجری)

مزید مواد

2 Responses

  1. صفین کے میدان میں حضرت امام علی علیہ السلام کی شجاعت و بہادری کے ساتھ ساتھ حکمت و سخاوت بھی کمال کی نظر آتی ہے ۔ السلام علیک یا امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے