سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

تیرے انتظار میں صبر نے جان دے دی ہے! ماتَ التَّصَبُّرُ بانتظارِكَ…

زمانے کی فریادِ استغاثہ کو منجیٰ عالمِ بشریت، حضرت ولیِّ عصر علیہ السلام کے حضور پڑھیں.. عَجّلَ اللهُ تَعالی فَرَجَهُ الشَّریف و صَلَواتُ اللهِ عَلَیهِ و عَلی آبائهِ الطّاهِرین

حرم مقدسِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی دیواروں پر نصب کتیبے

یہ درحقیقت سید حیدر حلی کی وہ جانگداز آہ و زاری ہے جو خود امام عصر (ارواحنا فداه) سے مخاطب ہے۔ یہ اُس داغ فراق کی آواز ہے جو صدیوں سے شیعوں کے سینوں پر موجود ہے۔
ہم کب تک عاشورا کی مصیبتوں کا تذکرہ کرتے رہیں؟ ہم کب تک آپ علیہ‌السلام کے اُس جدِّ غریب کی غربت کا قصہ سناتے رہیں اور الٰہی انتقام کے دن کی راہ دیکھتے رہیں؟
أَیْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِكَرْبَلَاء؟ کہاں ہے مقتول کربلا کا انتقام لینے والا؟

فریاد شریعت

اللَّهُ يَا حَامِيَ الشَّرِيعَةِ أَتَّقِرُ وَهِيَ كَذَا مَرْوُعَةٌ؟ اے اللہ! اے شریعت کے حافظ و نگہباں! تو دیکھ رہا ہے کہ دین کس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے؟
بِكَ تَسْتَغِيثُ وَ قَلْبُهَا لَكَ عَنْ جَوًى يَشْكُو صُدُوعَهُ شریعت تیری پناہ چاہتی ہے، اس کا دل غم کی شدت سے اپنے شگاف کی شکایت کر رہا ہے۔
أَيْنَ الذَّرِيعَةُ لَا قَرَارَ عَلَى الْعِدَى أَيْنَ الذَّرِيعَةُ وہ تیرا ذریعہ اور وسیلہ کہاں ہے؟ اب تو دشمن بالکل بے لگام ہوچکے اور ساری حدیں پار کر رہے ہیں، وہ واسطہ فیض کہاں ہے؟

اس انتظار سے موت بھی بے تاب

فَصُدُورُهَا ضَاقَتْ بِسِرِّ الْمَوْتِ فَأَذِنَ أَنْ تُذِيعَهُ دین کا سینہ اس راز کو سمیٹنے سے تنگ ہے جو موت میں پنہاں ہے، تو موت نے خود اجازت دے دی کہ وہ راز افشا ہو جائے۔
لَا يَنْجَعُ الْإِمْهَالُ بِالْعَاتِي فَقُمْ وَأَرِقْ نَجِيعَهُ سرکش و ظالم کو مہلت دینا بے فائدہ ہے؛ مولا آئیے اور اس کا خون زمین پر بہا دیجئے۔
طَعَنًا كَمَا دَفَقَتْ أَفَاوِيقُ الْحَيَا مُزْنٌ سَرِيعَةٌ نیزہ اس طرح چلائیے جیسے تیز رفتار بادل اپنے مسلسل اور پے در پے بارش برساتے ہیں۔

آپ بہترین ہستیوں کی نسل سے ہیں

يَا ابْنَ التَّرَائِكِ وَ الْبَوَاتِكِ مِنْ ضُبَا الْبِيضِ الصَّنِيعَةِ اے اُن ہستیوں کے فرزند جو دشمنوں کو خاک میں ملا دیتے تھے اور چمکتی ہوئی، کاری تلواروں سے اُنہیں ہلاک کرتے تھے۔
وَ عَمِيدَ كُلِّ مُغَامِرٍ يَقِظِ الْحَفِيظَةِ فِي الْوَقِيعَةِ اے بہادروں کے پیشوا، جو میدانِ جنگ میں ہوشیار، غیرتمند اور ثابت‌قدم رہے۔
وَ ذَوُو السَّوَابِقِ وَ السَّوَابِغِ وَ الْمُثَقَّفَةِ اللَّمُوعَةِ اے اُن لوگوں کے وارث جن کی فضیلتوں کا درخشاں سابقہ رہا ہے، اور جن کی پہچان مضبوط زرہیں اور چمکتے ہوئے نیزے ہیں۔

اے شریعت کو زندہ کرنے والے!

مَاتَ التَّصَبُّرُ بِانْتِظَارِكَ أَيُّهَا الْمُحْيِي الشَّرِيعَةَ اے شریعت کو زندگی بخشنے والے! تیرے انتظار میں صبر نے جان دے دی ہے۔
فَانْهَضْ فَمَا أَبْقَى التَّحَمُّلُ غَيْرَ أَحْشَاءٍ جَزُوعِهِ مولا اُٹھئے، کیونکہ اس صبر نے بس بےچین اور غم‌زدہ دلوں کے سوا کچھ نہیں چھوڑا۔
قَدْ مَزَّقَتْ ثَوْبَ الْأَسَى وَ شَكَتْ لِوَاصِلِهَا الْقَطِيعَةَ غم نے صبر کا جامہ چاک کر دیا ہے اور اب وہ محبوب سے اپنی دوری کی شکایت کرتا ہے۔

مرہم صرف تیرا ظہور ہے

فَالسَّيْفُ إِنَّ بِهِ شِفَاءَ قُلُوبِ شِيعَتِكَ الْوَجِيعَةِ کیونکہ صرف تلوار ہی تیرے زخمی شیعوں کے دلوں کا مرہم ہے۔
فَسَوَاهُ مِنْهُمْ لَيْسَ يُنْعِشُ هَذِهِ النَّفْسَ الصَّرِيعَةَ اور تلوار کے سوا کوئی چیز اس جاتی ہوئی جان کو پھر سے زندہ نہیں کر سکتی۔
فِيهِ تَحَكَّمَ مَنْ أَبَاحَ الْيَوْمَ حُرْمَتَهُ الْمَنِيعَةَ اس دین پر وہ لوگ حاکم ہیں جنہوں نے اس کے حرام کو حلال کر دیا ہے۔

اے شہید کربلا کے خون کے طلبگار!

فَاشْحَذْ شَبَا عَضْبٍ لَهُ الْأَرْوَاحُ مُذْعِنَةٌ مُطِيعَةٌ پس اپنی کاری تلوار کی دھار تیز کرلیجئے، وہ تلوار جس کے سامنے جانیں سرِ تسلیم خم کرتی ہیں۔
وَ اطْلُبْ بِهِ بِدَمِ الْقَتِيلِ بِكَرْبَلَا فِي خَيْرِ شِيعَةِ اور اس کے ذریعے اُس شہیدِ کربلا کے خون کا بدلہ لیجئے، جو بہترین شیعوں کے ساتھ شہید ہوا۔
أَتَرَى تَجِيءُ فَجِيعَةٌ بِأَمَضَّ مِنْ تِلْكَ الْفَجِيعَةِ کیا کوئی مصیبت اُس سانحے سے زیادہ دردناک اور جانکاہ ہو سکتی ہے؟
مَا ذَنْبُ أَهْلِ الْبَيْتِ حَتَّى مِنْهُمْ أَخْلَوْا رُبُوعَهُ اہلِ بیت کا کیا قصور تھا کہ اُن کے گھر اور وطن سے انہیں دور کر دیا گیا؟

اے غیرتُ اللہ!

يَا غَيْرَةَ اللَّهِ اهْتِفِي بِحَمِيَّةِ الدِّينِ الْمَنِيعَةِ اے غیرتُ اللہ! آپ اٹھئے اور دین حق کی حفاظت کے لئے آواز بلند کیجئے۔
وَ ضُبَا انْتِقَامِكِ جَرِّدِي لِطُلَا ذَوِي الْبَغْيِ التَّلِيعَةِ اور اپنی شمشیر انتقام کو ظالم و سرکش لوگوں کے خاتمے کے لیے نیام سے نکالئے۔
وَ دَعِي جُنُودَ اللَّهِ تَمْلَأَ هَذِهِ الْأَرْضَ الْوَسِيعَةَ اور اللہ کے لشکر کو آواز دیجئے تاکہ یہ وسیع زمین اس لشکر سے بھر جائے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے