سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

کربلا کے کم سن شہید، عبداللہ بن حسن اصغر علیہماالسلام

نام، نسب، اور سن

عبداللہ بن حسن اصغر علیہ‌السلام کربلا کے ان کمسن شہداء میں سے تھے جو ابھی سنِ بلوغ کو نہیں پہنچے تھے (۹ سال سے کم عمر تھے)۔ آپ امام حسن مجتبیٰ علیہ‌السلام کے فرزند تھے اور آپ کی والدہ کا نام "رملہ بنتِ سلیل” تھا۔ واقعۂ کربلا میں جناب عبداللہ اپنے چچا امام حسین علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

امام علیہ‌السلام کی نصرت پر اصرار

جناب عبداللہ اپنے چچا کی نصرت کے لیے خیمے سے باہر لپکے تو حضرت زینب سلام‌اللہ‌علیہا فوراً انہیں واپس لانے کے لیے ان کے پیچھے دوڑیں۔ جناب عبداللہ نے کہا: "خدا کی قسم! میں اپنے چچا سے جدا نہیں ہوں گا۔” اور آخرکار آپ خود کو امام حسین علیہ‌السلام تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

چچا کی ڈھال، عبداللہ کا ہاتھ

جب حرملہ بن کاہل نے امام حسین علیہ‌السلام پر حملہ کرنا چاہا تو عبداللہ علیہ‌السلام نے فریاد کی: "کیا تو میرے چچا کو قتل کرنا چاہتا ہے؟” پھر آپ علیہ‌السلام نے اپنے ہاتھ کو ڈھال بنا کر حرملہ کے وار کو روک لیا۔ تلوار کی ضرب سے آپ علیہ‌السلام کا ہاتھ کٹ گیا اور صرف چمڑی کے ایک باریک رشتے سے لٹکتا رہ گیا۔

امام علیہ‌السلام کی آغوش اور شہادت

عبداللہ علیہ‌السلام نے درد و کرب سے پکارا: "اے اماں! میرا ہاتھ کٹ گیا۔” امام حسین علیہ‌السلام نے انہیں آغوش میں لیا اور فرمایا: "میرے بھتیجے! صبر کرو، خدا تمہیں تمہارے پاکیزہ آباؤ اجداد سے ملا دے گا۔” حرملہ نے تیر چلایا اور بچہ اپنے چچا کی آغوش میں ہی شہید ہو گیا۔

قاتلوں پر امام علیہ‌السلام کی بددعا

امام حسین علیہ‌السلام نے ان کی شہادت کے بعد دستِ دعا بلند کیے اور فرمایا: "اے اللہ! انہیں منتشر کر دے، انہیں مختلف گروہوں میں بانٹ دے اور حکام کو ان سے کبھی راضی نہ کر؛ کیونکہ انہوں نے ہمیں بلایا تھا کہ ہماری مدد کریں، مگر ہمیں ہی قتل کر دیا۔”

اہلِ حرم کی بے چینی

حضرت زینب سلام‌اللہ‌علیہا اور جناب عبداللہ کی والدہ نے یہ منظر دیکھا تو دل سوز آہ و بکا کیا۔

مقام اور وفاداری

حضرت عبداللہ اصغر علیہ‌السلام اپنے امام کے ساتھ اہلِ بیت علیہم‌السلام کی نوجوان نسل کی وفاداری کی علامت ہیں۔ کم عمری کے باوجود آپ علیہ‌السلام نے اپنے مظلوم چچا پر جان نچھاور کر دی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ دشمنوں نے ہاشمی بچوں پر بھی رحم نہیں کیا۔

مآخذ
فرسان الہیجاء، ج۱، ص ۳۲۶

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے