۱۔ قلبی عہد
«قَلْبِي لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ»
"میرا دل آپ کے دل کے سامنے تسلیم اور صلح و سلامتی کی حالت میں ہے۔” یعنی: میرے دل میں آپ کے لیے کوئی کدورت نہیں، بلکہ آپ کی محبت بسی ہوئی ہے۔ میرا دل آپ کی محبت اور ولایت کے سامنے تسلیم ہے۔ یہ محبت اور عقیدت کا عہد ہے۔
۲۔ عملی عہد
«أَمْرِي لِأَمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ»
"میرا عمل آپ کے حکم کے تابع ہے۔” یعنی: میری زندگی آپ کی تعلیمات کے مطابق ہوگی، آپ جس راستے کی رہنمائی فرمائیں گے، میں اسی پر چلوں گا۔ یہ اطاعت اور عملی وفاداری کا عہد ہے۔
۳۔ نصرت کا عہد
«نُصْرَتِي لَكُمْ مُعَدَّةٌ»
"میری نصرت آپ کے لیے تیار ہے۔” یعنی: صرف محبت کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ آپ کے دین، آپ کے راستے اور آپ کے پیغام کی حمایت کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہے۔ یہ قربانی اور میدانِ عمل کا عہد ہے۔
۴۔ دوام اور انتظار کا عہد
«حَتَّىٰ يَأْذَنَ اللَّهُ لَكُمْ»
"یہ آمادگی اس وقت تک رہے گی جب اللہ آپ کو اذن عطا فرمائے گا۔” یعنی: میری وفاداری عارضی نہیں، بلکہ ہمیشہ قائم رہنے والا عہد ہے؛ یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے ظہور کا حکم صادر ہو۔ یہ ثابت قدمی اور استمرار کا عہد ہے۔
۵۔ موقف اور براءت کا عہد
«فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ لَا مَعَ عَدُوِّكُمْ»
"میں آپ کے ساتھ ہوں، آپ کے ساتھ ہوں، آپ کے دشمنوں کے ساتھ نہیں۔” یعنی: میرا راستہ واضح ہے؛ محبت آپ کے دوستوں سے اور بیزاری آپ کے دشمنوں سے۔ یہ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد ہے۔
۶۔ ولائی عہد
«أَنِّي وَلِيٌّ لِمَنْ وَالَاكُمْ وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكُمْ»
"میں اس کا دوست ہوں جو آپ کا دوست ہے، اور اس کا دشمن ہوں جو آپ سے دشمنی رکھتا ہے۔” یعنی: آپ کی ولایت کو قبول کرنا اور آپ کے دشمنوں سے براءت اختیار کرنا۔ یہ مکمل ولائی وابستگی کا عہد ہے۔
۷۔ ایمانی عہد
«أَشْهَدُ أَنِّي بِكُمْ مُؤْمِنٌ وَبِإِيَابِكُمْ مُوقِنٌ»
"میں گواہی دیتا ہوں کہ میں آپ پر ایمان رکھتا ہوں اور آپ کی بازگشت پر یقین رکھتا ہوں۔” یعنی: آپ کی امامت پر پختہ ایمان اور اللہ کے وعدۂ حق پر کامل یقین۔ یہ گہرے عقیدے اور قلبی یقین کا عہد ہے۔
مآخذ
المزار الکبیر، ج۱، ص۵۱۴