سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

 حضرت سکینہ علیہا السلام؛ کربلا کی آخری یادگار

۱۔ نسب اور خاندان

حضرت سکینہ علیہا السلام، فرزندِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام اور حضرت رباب سلام اللہ علیہا کی دخترِ گرامی تھیں۔
آپ کی والدہ حضرت رباب سلام اللہ علیہا، امرؤالقیس بن عدی کی دختر تھیں۔ امرؤالقیس کی تین بیٹیاں، محیّاہ، سلمیٰ اور رباب، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے فرزندانِ گرامی سے عقد میں آئیں۔ [۱]
شیخ مفید کے مطابق، امام حسین علیہ السلام اور حضرت رباب سلام اللہ علیہا کے ہاں ایک دختر، حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا، اور ایک فرزند، حضرت عبداللہ رضیع علیہ السلام، کی ولادت ہوئی۔ [۲]

۲۔ امام حسین علیہ السلام کی حضرت سکینہ اور حضرت رباب سے محبت

حضرت سکینہ علیہا السلام کو اپنے پدرِ بزرگوار امام حسین علیہ السلام سے غیر معمولی محبت حاصل تھی۔ امام حسین علیہ السلام بھی اپنی دخترِ گرامی حضرت سکینہ علیہا السلام اور ان کی والدہ حضرت رباب سلام اللہ علیہا سے بے حد محبت فرماتے تھے۔

منقول ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے ان دونوں کے بارے میں فرمایا: «إِنِّي لَأُحِبُّ دَاراً تَكُونُ بِهَا السَّكِينَةُ وَالرَّبَابُ، أُحِبُّهُمَا وَأَبْذُلُ جُلَّ مَالِي، وَلَيْسَ لِعَاتِبٍ عِنْدِي عِتَابُ»
میں اس گھر سے محبت کرتا ہوں جہاں سکینہ اور رباب ہوں۔ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اور اپنا بیشتر مال ان پر نچھاور کرتا ہوں؛ اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت میرے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔[۳]
یہ کلمات اس محبت کی گہرائی کو آشکار کرتے ہیں جو امام حسین علیہ السلام کو اپنی دخترِ گرامی اور حضرت رباب سلام اللہ علیہا سے تھی۔

۳۔ حضرت سکینہ علیہا السلام کا بلند روحانی مقام

حضرت سکینہ علیہا السلام صرف دخترِ سیدالشہداء ہونے کے شرف سے ہی ممتاز نہ تھیں، بلکہ علم، معرفت، ادب، عبادت اور روحانی کمالات میں بھی بلند مقام رکھتی تھیں۔ امام حسین علیہ السلام نے خود ان کے روحانی مرتبے کی گواہی دی۔

منقول ہے کہ جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے فرزند حسن مثنیٰ نے حضرت سکینہ علیہا السلام کے لیے امام حسین علیہ السلام سے رشتہ طلب کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
«كَانَ الْغَالِبُ عَلَيْهَا الِاسْتِغْرَاقُ فِي اللهِ»
ان پر اللہ تعالیٰ کی ذات میں محویت کی کیفیت غالب رہتی ہے۔
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنی دوسری دختر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ذکر فرمایا اور وہ حسن مثنیٰ کے عقد میں آئیں۔ [۴]
یہ تعبیر حضرت سکینہ علیہا السلام کے بلند روحانی مقام کی روشن دلیل ہے؛ ایسی شخصیت جس کا دل دنیا کی ظاہری مشغولیات سے بڑھ کر یادِ الٰہی اور معرفتِ پروردگار میں محو ہو۔

۴۔ کربلا میں حاضری اور پدرِ بزرگوار سے آخری وداع

حضرت سکینہ علیہا السلام اپنی والدہ حضرت رباب سلام اللہ علیہا کے ہمراہ کربلا میں موجود تھیں۔ عاشورا کے روز جب امام حسین علیہ السلام اہلِ حرم سے آخری وداع کے لیے خیمہ گاہ کی جانب تشریف لائے تو آپ نے اہلِ حرم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «یَا زَیْنَبُ، یَا أُمَّ کُلْثُومٍ، یَا سَکِینَةُ، عَلَیْکُنَّ مِنِّی السَّلَامُ!» اے زینب! اے امِ کلثوم! اے سکینہ! تم سب پر میری جانب سے سلام ہو!

حضرت سکینہ علیہا السلام نے عرض کیا: «یَا أَبَهْ، أَسْتَسْلَمْتَ لِلْمَوْتِ؟» اے پدرِ بزرگوار! کیا آپ نے موت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا ہے؟

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: «کَیْفَ لَا یَسْتَسْلِمُ مَنْ لَا نَاصِرَ لَهُ وَلَا مُعِینَ؟!» وہ شخص موت کے سامنے کیسے نہ جھکے جس کا کوئی مددگار اور یار و یاور نہ ہو؟!

پھر حضرت سکینہ علیہا السلام نے اپنے پدرِ گرامی کو آغوش میں لے کر عرض کیا: «یَا أَبَهْ! رُدَّنَا إِلَى حَرَمِ جَدِّنَا» اے پدرِ بزرگوار! ہمیں ہمارے نانا کے حرم، مدینہ، واپس لے چلیے۔

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: «هَیْهَاتَ! لَوْ تُرِکَ الْقَطَا لَنَامَ» ہائے افسوس! اگر صحرائی پرندوں کو بھی اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا تو وہ اپنے آشیانوں میں جا کر آرام کر لیتے۔

یہ سن کر خواتینِ حرم کی آہ و بکا بلند ہوئی اور امام حسین علیہ السلام نے انہیں تسلی دی۔ [۵]

۵۔ پدر مظلوم سے بیٹی کا وداع

حضرت سکینہ علیہا السلام کے لیے اس جدائی کو قبول کرنا آسان نہ تھا۔ وہ گریہ کرتی رہیں۔ امام حسین علیہ السلام اپنی دخترِ گرامی سے بے حد محبت فرماتے تھے، چنانچہ آپ نے حضرت سکینہ علیہا السلام کو اپنے سینۂ مبارک سے لگا لیا اور ان کے اشکِ دیدہ پونچھے۔ [۶]

جب امام حسین علیہ السلام میدان کی جانب روانہ ہونے لگے اور کچھ فاصلے پر تشریف لے گئے تو حضرت سکینہ علیہا السلام گریہ کرتے ہوئے عرض کرنے لگیں:
«یَا أَبَتَاهُ! قِفْ لِي هَنِیئَةً لِأَتَزَوَّدَ مِنْکَ! فَهَذَا وِدَاعٌ لَا تَلَاقِي بَعْدَهُ» اے پدرِ بزرگوار! ایک لمحے کے لیے ٹھہر جائیے، تاکہ آخری بار آپ سے فیضِ دید حاصل کر لوں؛ یہ ایسی وداع ہے جس کے بعد پھر ملاقات نہ ہوگی۔

پھر حضرت سکینہ علیہا السلام اپنے پدرِ مظلوم کے دست و پائے مبارک سے لپٹ گئیں، انہیں بوسہ دیتی رہیں اور اشک بہاتی رہیں۔ بیٹی کی اس حالت کو دیکھ کر امام حسین علیہ السلام بھی گریہ فرما اٹھے۔ آپ نے اپنی دخترِ گرامی کو آغوش میں لیا، سینۂ مبارک سے لگایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کے آنسو پونچھے۔ [۷]

۶۔ حضرت سکینہ علیہا السلام کے لیے امام حسین علیہ السلام کے آخری کلمات

اس دردناک منظر نے امام حسین علیہ السلام کے قلبِ مبارک کو بھی بے حد متاثر کیا۔ آپ نے اپنی دخترِ گرامی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
«سَیَطُولُ بَعْدِي یَا سَکِینَةُ فَاعْلَمِي / مِنْکِ الْبُکَاءُ إِذَا الْحِمَامُ دَهَانِي / لَا تُحْرِقِي قَلْبِي بِدَمْعِکِ حَسْرَةً / مَا دَامَ مِنِّي الرُّوحُ فِي جُثْمَانِي / وَإِذَا قُتِلْتُ فَأَنْتِ أَوْلَى بِالَّذِي / تَأْتِينَهُ یَا خَیْرَةَ النِّسْوَانِ»
اے سکینہ! جان لو کہ میرے بعد تمہارا گریہ طویل ہوگا۔ جب تک میری روح میرے جسم میں ہے، اپنے حسرت بھرے آنسوؤں سے میرے دل کو نہ جلاؤ۔ اور جب میں شہید ہو جاؤں تو پھر تمہیں گریہ کرنے کا زیادہ حق ہوگا، اے خواتین میں برگزیدہ!
[۸]

یہ آخری کلمات بعد میں حضرت سکینہ علیہا السلام کی پوری زندگی کا عنوان بن گئے؛ آپ نے اپنے پدرِ مظلوم کی یاد اور مصائبِ کربلا کو اپنی زندگی بھر زندہ رکھا۔

۷۔ مرکبِ امام حسین علیہ السلام کا خیمہ گاہ کی جانب لوٹنا

امام حسین علیہ السلام میدانِ کارزار کی جانب روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد آپ کا مرکبِ گرامی خون آلود اور بے سوار خیمہ گاہ کی جانب لوٹا۔

خوارزمی لکھتا ہے: «أَقْبَلَ فَرَسُ الْحُسَیْنِ وَقَدْ عَدَا مِنْ بَیْنِ أَیْدِیهِمْ أَنْ لَا یُؤْخَذَ، فَوَضَعَ نَاصِیَتَهُ فِي دَمِ الْحُسَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ یَرْکُضُ نَحْوَ خَیْمَةِ النِّسَاءِ، وَهُوَ یَصْهَلُ وَیَضْرِبُ الْأَرْضَ بِرَأْسِهِ عِنْدَ الْخَیْمَةِ»
عاشورا کے روز امام حسین علیہ السلام کا مرکب لشکرِ ابن سعد کے درمیان سے نکل کر خیمہ گاہ کی جانب آیا۔ اس نے اپنی پیشانی امام حسین علیہ السلام کے خون سے رنگ لی تھی، پھر خواتین کے خیموں کی جانب دوڑتا ہوا پہنچا؛ وہاں وہ بے قراری سے ہنہناتا اور اپنا سر زمین پر مارتا تھا۔[۹]

امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے زیارتِ ناحیہ مقدسہ میں اس دل خراش منظر کو یوں بیان فرمایا:
«فَلَمَّا رَأَیْنَ النِّسَاءُ جَوَادَکَ مَخْزِیّاً وَنَظَرْنَ سَرْجَکَ عَلَیْهِ مَلْوِیّاً بَرَزْنَ مِنَ الْخُدُورِ نَاشِرَاتِ الشُّعُورِ عَلَى الْخُدُودِ لَاطِمَاتٍ لِلْوُجُوهِ سَافِرَاتٍ وَبِالْعَوِیلِ دَاعِیَاتٍ»
جب خواتینِ حرم نے دیکھا کہ آپ کا مرکب بے سوار خیمہ گاہ کی جانب لوٹ آیا ہے اور آپ کی زین اس پر واژگوں ہے، تو وہ خیموں سے باہر نکل آئیں۔ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے، وہ چہروں پر ہاتھ مار رہی تھیں اور آہ و فغاں کے ساتھ آپ کو پکار رہی تھیں۔[۱۰]

۸۔ پدرِ مظلوم کے پیکرِ اطہر سے حضرت سکینہ علیہا السلام کی آخری وداع

مرکبِ امام حسین علیہ السلام خیمہ گاہ میں اس طرح واپس آیا گویا اہلِ حرم کو شہادت کی خبر دے رہا ہو۔
مقاتل میں منقول ہے کہ حضرت سکینہ علیہا السلام اپنے پدرِ مظلوم کے پیکرِ اطہر کے پاس پہنچیں اور اسے آغوش میں لے لیا۔

مرحوم کفعمی حضرت سکینہ علیہا السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں: جب میرے پدرِ بزرگوار شہید ہوئے تو میں نے ان کے پیکرِ مطہر کو آغوش میں لے لیا اور بے ہوش ہوگئی۔
اسی حالت میں میں نے اپنے والدِ گرامی کو فرماتے ہوئے سنا
: «شِیعَتِي مَهْمَا شَرِبْتُمْ مَاءً عَذْباً فَاذْکُرُونِي، أَوْ سَمِعْتُمْ بِغَرِیبٍ أَوْ شَهِیدٍ فَانْدُبُونِي»
میرے شیعو! جب بھی گوارا پانی پیو تو مجھے یاد کرنا، اور جب بھی کسی غریب یا شہید کی خبر سنو تو میرے غم میں گریہ کرنا۔[۱۱]

مقتل میں منقول ہے: «ثُمَّ إِنَّ سُکَیْنَةَ اعْتَنَقَتْ جَسَدَ أَبِیهَا الْحُسَیْنِ، فَاجْتَمَعَتْ عِدَّةٌ مِنَ الْأَعْرَابِ حَتَّى جَرُّوهَا عَنْهُ»
پھر حضرت سکینہ علیہا السلام نے اپنے پدرِ مظلوم امام حسین علیہ السلام کے پیکرِ اطہر کو آغوش میں لے لیا۔ کچھ لوگ جمع ہوئے اور انہیں زبردستی پیکرِ پدر سے جدا کر دیا۔[۱۲]

مآخذ
[۱] تاریخ مدینۃ دمشق، ابن عساکر، ج ۶۹، ص ۱۱۹

[۲] الإرشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۱۳۵
[۳] بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۵، ص ۴۷
[۴] مقتل الحسین، مقرّم، ص ۳۰۷
[۵] بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۵، ص ۴۷
[۶] مناقب آل ابی طالب، ابن شہر آشوب، ج ۴، ص ۱۰۹
[۷] المجالس الفاخرة، علامہ شرف الدین، ج ۱، ص ۲۸۵
[۸] مناقب آل ابی طالب، ابن شہر آشوب، ج ۴، ص ۱۰۹
[۹] مقتل الحسین، خوارزمی، ج ۲، ص ۳۷
[۱۰] بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۵، ص ۲۴۰
[۱۱] المصباح، کفعمی، ص ۷۴۱
[۱۲] اللہوف، ابن طاووس، ص ۱۸۰

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے