دورِ جاہلیت میں محرم کا احترام
دورِ جاہلیت میں محرم کو ماہِ حرام سمجھا جاتا تھا اور اس میں اعراب جنگ و جدال نہیں کرتے تھے۔
لیکن ہمارے دشمنوں نے اسی ماہِ حرام میں:
ہمارا خون حلال سمجھا
ہماری حرمت پامال کی
ہماری خواتین اور بچوں کو قید کر لیا
خیموں میں آگ اور لوٹ مار
ہمارے خیموں کو نذرِ آتش کر دیا ہمارا جتنا بھی سامان اور بوجھ تھا اسے لوٹ لیا گیا، یہاں تک کہ ہمارے حق میں رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہ کی حرمت کا بھی خیال نہ رکھا گیا۔
حسین علیہالسلام کا دن، قیامت تک کا غم
امام رضا علیہالسلام فرماتے ہیں: حسین علیہالسلام کے دن نے ہماری آنکھوں کو زخمی کر دیا اور ہمارے آنسو جاری کر دیے۔ ہمارے عزیز کو ذلیل کیا گیا۔
پھر آپ علیہالسلام زمینِ کربلا کی طرف رخ کر کے فرماتے ہیں: اے زمینِ کربلا! تو نے ہمارے لیے قیامت تک کے غم اور بلا کو میراث میں چھوڑ دیا ہے۔
گریہ کرو، گریے سے کبیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں
پس رونے والوں کو چاہیے کہ خوب روئیں، کیونکہ امام حسین علیہالسلام پر گریہ کرنا کبیرہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
محرم میں امام کاظم علیہالسلام کا طرزِ عمل
امام رضا علیہالسلام اپنے والد امام کاظم علیہالسلام سے روایت کرتے ہیں: جب ماہِ محرم آتا تو میرے والد کو کبھی بھی ہنستا ہوا نہیں دیکھا جاتا تھا۔ محرم کے دس دن گزرنے تک ان پر ایک بھاری غم چھایا رہتا اور روزِ عاشورا ان کے لیے مصیبت، غم اور گریہ کا دن ہوتا تھا۔
آخری کلام
امام کاظم علیہالسلام روزِ عاشورا فرماتے تھے: "یہ وہی دن ہے جس میں حسین ابن علی علیہماالسلام کو شہید کیا گیا تھا۔”
مآخذ
الأمالی، شیخ صدوق، ج ۱، ص ۱۲۸