سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امام سجاد علیہ‌السلام کا خطبہ دربار یزید میں

امام سجاد علیہ‌السلام کی شہادت کی مناسبت سے شام میں دیا گیا آپ علیہ‌السلام کا وہ تاریخی اور پرجوش خطبہ پیش کیا جا رہا ہے؛

دربار یزید میں خطبہ دینے کا پس منظر

وہ خطبہ جس نے حقائق سے پردہ اٹھایا، یزیدی حکومت کے اصل چہرے کو آشکار کیا۔ اہلِ بیت علیہم‌السلام کے بلند و رفیع مقام کو بیان کرکے سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کر دیا۔

یزید کا ارادہ تھا کہ خاندانِ رسالت کو بدنام کیا جائے! چنانچہ اس نے حکم دیا کہ منبر اور خطیب کا انتظام کیا جائے تاکہ سیدالشہداء امام حسین علیہ‌السلام اور امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کی شان میں گستاخی کی جائے۔

خطیب منبر پر گیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اس نے امیرالمومنین علی علیہ‌السلام اور سیدالشہداء علیہ‌السلام کی مذمت اور توہین شروع کر دی، جبکہ معاویہ اور یزید کی تعریف و تمجید کرنے لگا۔

امام سجاد علیہ‌السلام کی خطیب کو تنبیہ

اچانک اسیروں کے قافلے میں سے امام زین‌العابدین علیہ‌السلام نے اسے پکار کر فرمایا:

"اے خطیب! وائے ہو تجھ پر! تو نے مخلوق کی خوشنودی کو خالق کے غضب کے بدلے خرید لیا ہے۔ اپنا ٹھکانہ جہنم کی آگ سمجھ لے۔”

پھر امام علیہ‌السلام نے یزید سے فرمایا:

"اے یزید! مجھے اجازت دے کہ میں ان لکڑیوں پر چڑھوں اور ایسی باتیں بیان کروں جن میں اللہ کی رضا ہو۔”

یزید نے انکار کر دیا، لیکن لوگوں نے اصرار کیا:

"اسے منبر پر جانے کی اجازت دو تاکہ ہم سنیں کہ یہ کیا کہتا ہے۔”

لوگوں کے اصرار نے آخرکار یزید کو مجبور کردیا۔ اس نے امام علیہ‌السلام کو منبر پر جانے کی اجازت دے دی۔

امام سجاد علیہ‌السلام منبر پر تشریف لے گئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔

رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کے فضائل بیان کرنے کے بعد۔ جب امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کے فضائل بیان فرمانے لگے تو ارشاد فرمایا:

"میں ہوں علیِ مرتضیٰ کا فرزند؛ میں ہوں اس ہستی کا بیٹا جس نے مشرکین سے جنگ کی یہاں تک کہ انہوں نے زبان سے لا إلہَ إلّا اللہ کہا۔ میں ہوں اس شخص کا بیٹا جس نے رسولِ خدا کے ہمراہ دو تلواروں اور دو نیزوں کے ساتھ جہاد کیا، جس نے دو مرتبہ ہجرت کی اور دو مرتبہ بیعت کی۔ وہ بدر اور حنین کے میدانوں میں لڑے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ کا انکار نہیں کیا۔”

امام زین‌العابدین علیہ‌السلام مسلسل اپنا تعارف اور اہل بیت علیہم‌السلام کے فضائل بیان فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ لوگوں پر گریہ و زاری کی کیفیت طاری ہوگئی اور ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

یزید کو خوف تھا کہ کہیں لوگوں میں بغاوت اور احتجاج کی کیفیت پیدا نہ ہو جائے۔ چنانچہ اس نے مؤذن کو اذان دینے کا حکم دیا تاکہ امام سجاد علیہ‌السلام کی آواز لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔

امام سجاد علیہ‌السلام کی جانگداز شہادت کی مناسبت سے حضرت ولی‌عصر امام مہدی عجل‌اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ تمام مسلمانوں، بالخصوص محبان و پیروانِ اہل بیت علیہم‌السلام کی خدمت میں بھی دلی تعزیت و تسلیت عرض ہے۔

حوالہ‌جات
بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۵، ص ۱۳۷
مقتل الحسین، خوارزمی، ج ۲، ص ۶۹
الفتوح، ابن‌اعثم کوفی، ج ۲، ص ۱۳۲
المناقب، ابن‌شہر آشوب، ج ۴، ص ۱۶۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے