مرزا دبیر کا دردناک مرثیہ امام حسن عسکری علیہالسلام کی شہادت پر
لکھا ہے جب امام ہوئے عازمِ جناں ۔ ایک دفعہ سامرا میں قیامت ہوئی عیاں
دولت سرائے شاہ سے آنے لگی فغاں ۔ لو مومنوں یتیم ہوئے صاحب الزماں
سرگرمِ ظلم چار طرف بدخصال ہیں
اور حیف ہے کہ مہدی دیں خُرد سال ہیں
شیرِ خدا کے شیعوں رفاقت کا وقت ہے ۔ کم عمر ہے امام حمایت کا وقت ہے
سیدانیوں پہ سخت مصیبت کا وقت ہے ۔ عباسیوں کے اوجِ حکومت کا وقت ہے
بے وارث آج عترتِ خیرالورا ہوئی
بے صاحب آج مسندِ شیرِ خدا ہوئی
امداد اس یتیم کی مشکل کشا کرے ۔ تائید اپنے پوتے کی خیر النسا کرے
اس سِن میں بے پدر نہ کسی کو خدا کرے ۔ سر پر نہیں ہے کوئی نہ روئے تو کیا کرے
ننھے سے پیراہن کا گریبان چاک ہے
سنبل سے گیسوؤں پہ یتیمی کی خاک ہے
عباسیوں کے قہر سے سب خوف کھائیں گے ۔ کاہے کو اس یتیم کے پُرسے کو آئیں گے
تابوت بھی نہ ابنِ نقی کا اٹھائیں گے ۔ بے وارثوں کو اور بھی ظالم ستائیں گے
اگے بھی در بتول کے اُوپر گرایا تھا
زینب کو شہر شہر کھلے سر پھرایا تھا
مرزا دبیر علیہ الرحمہ